Column

امن کی تلاش اور پاکستان

امن کی تلاش اور پاکستان
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ، تنائو اور ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اگر فوری طور پر سفارتی راستہ اختیار نہ کیا گیا تو صورت حال کسی بڑے تصادم کی طرف جاسکتی ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کا امن کے لیے کردار عالمی سطح پر نمایاں ہوکر سامنے آیا ہے، جسے مختلف حلقوں نے نہ صرف سراہا ہے بلکہ ایک ذمے دار ریاستی رویے کی مثال قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا دورہ اور تہران میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مکالمے کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان اور بالخصوص پاکستانی عسکری و سیاسی قیادت کے کردار کو سراہنا اس حقیقت کا اظہار ہے کہ وطن عزیز کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو تنازعات میں اضافے کے بجائے ان کے حل کی طرف مائل ہے۔ ایرانی وزیر داخلہ کی جانب سے پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہنا اس بات کی توثیق ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری صرف رسمی نہیں بلکہ اثر انگیز بھی ہے۔ دوسری جانب امریکی سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی پاکستان کے کردار کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد نے دونوں فریقین کے درمیان رابطے اور اعتماد کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی رکنِ کانگریس جیک برگمین کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کے نام خط میں پاکستان کی کوششوں کو ’’ ریاستی بصیرت‘‘ قرار دینا ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب خطہ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، پاکستان کو ثالثی اور امن کی کوششوں کے لیے سراہا جانا اس کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنائو کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریقین کے بیانات میں سختی بڑھتی جارہی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر کی جانب سے ایران کو سخت نتائج کی وارننگ دی جا رہی ہے تو دوسری جانب ایران کی طرف سے بھی جوابی بیانات اور دفاعی حکمت عملی کو واضح کیا جارہا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس آبی راستے پر کنٹرول اور اس سے متعلق بیانات عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اس خطے سے دنیا کی بڑی توانائی سپلائی گزرتی ہے اور کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں عالمی معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے مخصوص بحری راستوں کے انتظام اور فیس وصولی جیسے اقدامات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ خطہ تیزی سے ایک نئی اسٹرٹیجک صف بندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح یورپی ممالک اور ایشیائی طاقتوں کی جانب سے آبنائے ہرمز تک رسائی کے لیے مذاکرات کی اطلاعات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی برادری اس بحران کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات صرف سیکیورٹی اور مفادات کے تحفظ تک محدود رہیں گے یا حقیقی امن کی طرف کوئی جامع پیش رفت بھی ہوگی؟ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جنگیں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں بلکہ یہ نئے بحرانوں کو جنم دیتی ہیں۔ ایران اور امریکا دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ موجودہ عالمی نظام مزید کسی بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متعدد تنازعات، معاشی دبائو اور انسانی بحرانوں کا شکار ہے۔ اگر اس میں ایک اور بڑی جنگ شامل ہوگئی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ پاکستان کا کردار اس تناظر میں نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ایک ایسی ریاست کے طور پر جس کے ایران سے بھی تعلقات ہیں اور امریکا سے بھی اسٹرٹیجک روابط موجود ہیں، پاکستان ایک قدرتی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام آباد کی کوششیں اگر اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو یہ خطے میں امن کی نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی کئی مواقع پر سفارتی ذمے داریوں کو کامیابی سے نبھایا ہے اور اب بھی یہی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ بین الاقوامی برادری کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ مسائل کو بڑھاتا ہے، کم نہیں کرتا۔ ایران اور امریکا کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں، کیونکہ سفارت کاری ہی وہ واحد راستہ ہے جو دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔ مذاکرات کی میز سے دوری اور جنگی بیانیے کا فروغ صرف مزید تباہی کا باعث بنے گا۔ اس وقت دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، برداشت اور مکالمہ ہے۔ فریقین کو اپنی ذمے داری سمجھتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور مستحکم دنیا فراہم کر سکیں۔ ایران اور امریکا اگر واقعی خطے کے استحکام میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انہیں فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور سنجیدہ مذاکرات کی طرف آنا ہوگا۔ آخر میں یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کا کردار ایک مثبت، متوازن اور امن دوست ریاست کا ہے جس نے مشکل حالات میں بھی ذمے دارانہ سفارت کاری کی مثال قائم کی ہے۔ دنیا کو اس وقت ایسے ہی کرداروں کی ضرورت ہے جو آگ کو ہوا دینے کے بجائے اسے بجھانے کی کوشش کریں۔ امید کی جانی چاہیے کہ ایران اور امریکا دونوں فریقین پاکستان اور دیگر دوست ممالک کی کوششوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امن کی طرف بڑھیں گے، کیونکہ دنیا مزید کشیدگی، جنگ اور عدم استحکام کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
بنوں:5دہشت گرد ہلاک
خیبرپختونخوا خصوصاً بنوں میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ پاکستان اب بھی دہشت گردی کے خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوا۔ ایسے میں بنوں پولیس کی جانب سے صرف 24گھنٹے میں پانچ خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کرنا نہ صرف ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ یہ اس عزم کا بھی اظہار ہے کہ ریاستی ادارے امن دشمن عناصر کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چوکی فتح خیل پر حملے کے بعد جس تیزی اور موثر حکمت عملی کے ساتھ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، وہ قابل تحسین ہیں۔ پولیس کے مطابق ہلاک دہشت گردوں میں حیات اللہ، اسد یار، نعمت اللہ اور کمانڈر منصور جیسے اہم عناصر شامل تھے، جو نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ معصوم شہریوں پر حملوں میں بھی ملوث تھے۔ خاص طور پر حیات اللہ کا دیسی ساختہ بم بنانے میں مہارت رکھنا اور چوکی پر حملے میں اس کا کردار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں جدید اور خطرناک طریقے استعمال کر رہی ہیں۔ ایسے عناصر کا خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر تھا۔ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ بنوں پولیس نے جس جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کے جذبے کا مظاہرہ کیا، وہ پورے ملک کے لیے مثال ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑی ہے۔ اس فورس نے ہزاروں قربانیاں دی ہیں، مگر اس کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور آر پی او بنوں سجاد خان کی قیادت میں جاری کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت مضبوط ہو تو دہشت گردوں کے بڑے نیٹ ورک بھی توڑے جا سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ان عناصر کے سہولت کاروں، مالی معاونت کرنے والوں اور نفرت انگیز بیانیے کو بھی ختم کیا جائے۔ ریاست کو تعلیم، روزگار اور سماجی استحکام پر بھی توجہ دینا ہوگی تاکہ نوجوان شدت پسندی کے راستے پر نہ جائیں۔ مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنا بھی اس جنگ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف بندوق کی نہیں بلکہ قومی اتحاد، عوامی اعتماد اور اجتماعی شعور کی بھی جنگ ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ اگر اسی جذبے، حکمت عملی اور مستقل مزاجی کے ساتھ کارروائیاں جاری رہیں تو وہ دن دور نہیں جب خیبرپختونخوا سمیت پورا پاکستان مکمل امن کا گہوارہ بن جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button