ColumnRoshan Lal

اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ اور کشمیر

اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ اور کشمیر
تحریر : روشن لعل
پاکستان کے آئین میں پارلیمانی جماعتوں کے وسیع تر اتفاق رائے سے کی گئی 18ویں ترمیم کا پاکستان یا بھارت کے زیر انتظام کشمیروں کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوچا جاسکتا ہے کہ جب پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دونوں حصوں میں سے کسی کا بھی اٹھارویں ترمیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تو پھر زیرنظر تحریر کا عنوان ’’ اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ اور کشمیر‘‘ کیوں رکھا گیا ہے۔ کشمیر کے دونوں حصوں کا اٹھارویں ترمیم سے تو براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن اس ترمیم کو اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے آئین سے حذف کرنے کی باتیں سامنے آنے کے بعد کچھ ایسے سوالات پیدا ہوئے ہیں جو مسئلہ کشمیر کے اس خواہش کردہ حل کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جس کے خواب ہماری قوم کو سوتے جاگتے دکھائے گئے۔ جن سوالات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان کی اہمیت کو اس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک یہ بات مد نظر نہ رکھی جائے کہ مسئلہ کشمیر کیا ہے اور ہمیں اس کے حل کے کون سے خواب دکھائے جاتے ہیں۔
ہماری ریاست کے نزدیک مسئلہ کشمیر کا واحد قابل قبول حل یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی 1948ء میں منظور کردہ قرارداد نمبر 47کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ کشمیر کے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق فیصلہ کر سکیں ۔ استصواب رائے کے نتیجے کے متعلق ہماری ریاست نے ہمیشہ یہ یقین ظاہر کیا کہ اگر کشمیریوں کو استصواب رائے کا موقع ملا تو وہ ہر صورت پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دیں گے۔ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے ہماری خواہش اور یقین چاہے جو بھی ہو لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اگر کبھی کشمیریوں کو استصواب رائے کا موقع ملا تو وہ اپنی رائے دینے کا حق آنکھیں بند کر کے استعمال نہیں کریں گے بلکہ یہ ضرور دیکھیں گے کہ بحیثیت کشمیری قوم ، کس ملک کے ساتھ الحاق کی صورت میں ان کی قومی و علاقائی وحدت قائم رہے گی، ان کے وطن کے وسائل پر ان کا پہلا حق تسلیم کیا جائے گا اور ان کے سماجی، معاشی، قومیتی و انسانی حقوق کا بہتر تحفظ ممکن ہو سکے گا۔
واضح رہے کہ، مہاراجہ ہر ی سنگھ کی طرف سے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے اعلان سے پہلے، وہاں کے معروف سیاسی رہنما شیخ عبداللہ اور مہاراجہ ایک دوسرے کے بدترین مخالف تھے۔ ہندوستان کی تقسیم کے فوراً بعد کشمیر پر پاک، بھارت جنگ شروع ہونے پر جب معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچا تو وہاں یہ قرارداد منظور ہوئی کہ کشمیریوں کو پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کا آزادانہ موقع فراہم کیا جائے گا۔ اس قرار داد کی منظوری کے بعد یہ ہوا کہ کشمیر کا جتنا بھی حصہ پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام آیا تھا وہاں ان ملکوں کی حکومتوں نے فوری طور پر ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جس سے کشمیریوں کی دلجوئی ہو سکے۔ بھارتی حکومت کیونکہ کشمیریوں کو مطمئن رکھنا چاہتی تھے اس لیے اس کے دبائو پر مہاراجہ ہر ی سنگھ نے نہ چاہتے ہوئے بھی ریاست کی حکومت اپنے بدترین مخالف شیخ عبداللہ کے حوالے کردی۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت شیخ عبداللہ کے حوالے کیے جانے سے پہلے ہی ، پاکستان کی طرف سے، سردار ابراہیم کی صدارت میں آزاد کشمیر حکومت کا قیام عمل میں لایا جا چکا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب بھارت اور پاکستان ایک دوسرے سے بڑھ کر یہ ظاہر کرنے کی کوششیں کر رہے تھے کہ کشمیری انہیں اتنے عزیز ہیں کہ ان کے مفادات کا تحفظ دوسرا فریق ان سے بہتر کر ہی نہیں سکتا۔ ایسی کوششوں کے تسلسل میں بھارت نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے جس آرٹیکل 370کو اپنے آئین کا حصہ بنایا اس کے تحت دیگر بھارتی صوبوں کے برعکس، کشمیر کو اپنا الگ جھنڈا، الگ قومی ترانہ ، الگ خود مختار منتخب اسمبلی، الگ ریاستی آئین، الگ وزیر اعظم اور الگ ریاستی صدر بنانے کا حق دے دیا گیا۔ کشمیریوں کو مذکورہ حقوق دینے کے ساتھ بھارت نے ان کی یہ شرط بھی تسلیم کی کہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی کی منشا کے بغیر بھارتی پارلیمنٹ کو آئین کے آرٹیکل 370میں ترمیم کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ بعد ازاں، وقت گزرنے کے ساتھ جب اقوام متحدہ کی کشمیر میں استصواب رائے سے متعلق قرار دادیں حقیقت کا روپ دھارنے کی بجائے لالی پاپ ظاہر ہونے لگیں تو کشمیریوں اور ان کے لیڈروں کا بھارتی اور پاکستانی حکام کی ڈارلنگ بنے رہنے کا دور بھی ختم ہو گیا۔ تبدیل شدہ حالات میں بھارت نے جب کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کا اعلان کیا تو شیخ عبداللہ نے کشمیر کی الگ شناخت اور خود مختار حیثیت برقرار رکھنے کے لیے احتجاج شروع کر دیا۔ اس کے بعد شیخ عبداللہ کو طویل عرصہ کے لیے قید میں رکھ کر بھارت نے غلام صادق اور بخشی غلام کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے کشمیر کا الگ جھنڈا، الگ قومی ترانہ اور صدر و وزیر اعظم کا عہدہ ختم کرا دیا۔ اسی تسلسل میں بھارت کی موجودہ مودی سرکار نے سال 2019میں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 370اپنے آئین سے مکمل طور پر حذف کرنے کے بعد کشمیر کی وحدت اور صوبائی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے دو حصوں میں بانٹ کر جزوی طور پر مرکزی حکومت کے ماتحت ایسا خطہ بنا دیا جہاں انسانی حقوق کے تحفظ کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ اپنے حقوق سلب کیے جانے پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اکثر کوئی نہ کوئی احتجاجی تحریک جاری رہتی ہے۔ ایسی تحریکوں کو دبانے کے لیے بھارت نے وہاں سات لاکھ سے نو لاکھ تک فوجی تعینات کیے ہوئے ہیں۔
اب آتے ہیں پاکستان کی اٹھارویں ترمیم کی طرف جس کی منظوری کے بعد کہا گیا تھا کہ 1973ء کے آئین کی وفاقی اور پارلیمانی روح کو پھر سے بحال کرتے ہوئے صوبوں کے عوام کا ان کے وسائل پر پہلا حق تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کی منظوری سے قبل ، قومی محصولات کی صوبوں اور وفاق کے درمیان جائز تقسیم کے لیے ساتویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کا فارمولا از سر نو متعین کرتے ہوئے اسے اس طرح قانونی تحفظ دیا گیا کہ صوبوں کے طے شدہ حصص کم نہ کیے جا سکیں۔
جس اٹھارویں ترمیم کی منظوری پر مذکورہ باتیں کہیں گئی تھیں، بعض حلقوں کی طرف سے اسے ختم کرنے کے ساتھ پاکستان کی بنیاد رکھنے والے صوبوں کو توڑ کر ان کی جگہ کئی چھوٹے چھوٹے صوبے بنانا لازم قرار دیا جارہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے ذہن میں بار بار یہ سوال ابھر رہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم ختم کر کے اور ان صوبوں کو توڑ کر جنہوں نے پاکستان کو بنانے کی بنیاد رکھی تھی، ان کشمیریوں کو کیا پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے جن کے کشمیر کو ہم اپنے ملک کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ اگر اٹھارویں ترمیم کو ختم اور ساتویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کا فارمولا تبدیل کیا گیا تو صرف پاکستان کے ان صوبوں میں ہی احتجاج نہیں ہوگا جن کے عوام نے طویل سیاسی جدوجہد کے بعد قرارداد لاہور کے مطابق اپنے حقوق حاصل کیے بلکہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش پر بھی کئی سوال اٹھیں گے۔

جواب دیں

Back to top button