Column

نصیحت، وصیت اور تربیت

نصیحت، وصیت اور تربیت
شہرِ خواب
صفدر علی حیدری۔۔۔
نصیحت، وصیت اور تربیت انسانی زندگی کے وہ بنیادی ستون ہیں جن پر تہذیب، اخلاق اور کردار کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔ انسان اگرچہ علم و شعور کا حامل ہے، مگر اس کے باوجود اس کی فطرت رہنمائی کی محتاج رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ انسانی میں ہر دور نے نصیحت کو اصلاح کا ذریعہ، تربیت کو کردار سازی کا فن اور وصیت کو تجرباتِ زندگی کا خلاصہ سمجھا ہے۔
نصیحت دراصل وہ نرم آواز ہے جو دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے، تربیت وہ مسلسل عمل ہے جو انسان کے اندر شخصیت کو تشکیل دیتا ہے، اور وصیت وہ آخری چراغ ہے جو اندھیرے راستوں میں آنے والی نسلوں کے لیے روشنی چھوڑ جاتا ہے۔ مگر یہ تمام عناصر اُس وقت اپنی حقیقی بلندی کو پہنچتے ہیں جب یہ کسی عام فرد کے نہیں بلکہ ایک ایسے کامل رہبر کی زبان سے صادر ہوں جو علم و عمل دونوں کا جامع ہو، جو نہ صرف شریعت کا شارح ہو بلکہ اس کا عملی پیکر بھی ہو، جس کی زندگی خود قرآن کی تفسیر ہو اور جس کا کردار سنتِ نبویؐ کا آئینہ دار ہو۔
ایسی ہستی کی وصیت محض الفاظ نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ نظامِ ہدایت بن جاتی ہے جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ہر دور کے انسان کو راستہ دکھاتی رہتی ہے۔ اسی پس منظر میں امیرالمومنین حضرت علیؓ کی چند حکیمانہ وصیتیں پیش کی جاتی ہیں جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتی ہیں۔
1۔ تقویٰ اور دنیا کی حقیقت
حضرت علیؓ کی سب سے بنیادی نصیحت یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کا مرکز تقویٰ کو بنائے۔ دنیا اپنی تمام تر رنگینیوں کے باوجود فانی ہے، اس پر دل لگانا انسان کو غفلت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اصل کامیابی اس شخص کی ہے جو دنیا کو ذریعہ بنائے، مقصد نہ بنائے، اور آخرت کو اپنی اصل منزل سمجھے۔
2۔ حق، عدل اور مظلوم کی حمایت
آپؓ حق گوئی کو ایمان کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ظلم کے خلاف کھڑا ہونا محض اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی فریضہ ہے۔ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت انسان کو عدل کے قریب لے جاتی ہے اور معاشرے کو توازن عطا کرتی ہے۔
3۔ نظم، تعلقات اور معاشرتی اصلاح
انسانی زندگی کا حسن تعلقات میں پوشیدہ ہے۔ حضرت علیؓ کی نصیحت کے مطابق اپنے معاملات کو منظم رکھنا اور باہمی تعلقات کو درست کرنا عبادات کے روحانی اثرات کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے رشتے معاشرے کو کمزور کرتے ہیں۔
4۔ یتیموں کی کفالت
یتیموں کے بارے میں آپؓ کی وصیت ایک مکمل سماجی نظام کی بنیاد رکھتی ہے۔ یتیم صرف مالی امداد نہیں بلکہ محبت، توجہ اور تحفظ کے بھی مستحق ہیں۔ ان کی حفاظت دراصل انسانیت کی حفاظت ہے۔
5۔ ہمسایوں کے حقوق
اسلامی معاشرت کی خوبصورتی ہمسایہ داری میں ہے۔ حضرت علیؓ ہمسایوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کی علامت قرار دیتے ہیں۔ قریب رہنے والا انسان اگر محفوظ نہ ہو تو پورا معاشرہ غیر مستحکم ہو جاتا ہے۔
6۔ قرآن پر عمل
قرآن محض کتابِ تلاوت نہیں بلکہ کتابِ زندگی ہے۔ حضرت علیؓ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قرآن پر عمل کیا جائے، ورنہ اس کی تلاوت بھی ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔
7۔ نماز کی اہمیت
نماز دین کا ستون ہے۔ یہ انسان اور اللہ کے درمیان براہِ راست تعلق کو قائم رکھتی ہے۔ حضرت علیؓ کے نزدیک اگر نماز درست ہو جائے تو باقی اعمال بھی درست سمت اختیار کرتے ہیں۔
8۔ فتنہ اور اتحاد
فتنہ معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حضرت علیؓ امت کو اتحاد، برداشت اور اخوت کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ اختلاف اگر نفرت میں بدل جائے تو امت اپنی قوت کھو بیٹھتی ہے۔
9۔ عفو اور عدل
عدل کے ساتھ ساتھ معافی ایک بلند اخلاقی درجہ ہے۔ آپؓ کے نزدیک انتقام میں اعتدال ضروری ہے، اور اگر معافی ممکن ہو تو وہ دلوں کو جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
10۔ علم اور حلم
علم انسان کو روشنی دیتا ہے، مگر حلم اس روشنی کو متوازن کرتا ہے۔ حضرت علیؓ کے نزدیک علم بغیر حلم کے تکبر پیدا کر سکتا ہے، اس لیے دونوں کا ساتھ ضروری ہے۔
11۔ رزقِ حلال اور قناعت
حلال رزق انسان کی روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے، اور قناعت اسے داخلی سکون عطا کرتی ہے۔ حرص انسان کو بے چین اور قناعت اسے باوقار بناتی ہے۔
12۔ زبان کی حفاظت
زبان بظاہر چھوٹا عضو ہے مگر اس کے اثرات بہت بڑے ہوتے ہیں۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ انسان کی نجات اور ہلاکت اکثر اسی ایک عضو سے وابستہ ہوتی ہے۔
13۔ خود احتسابی اور توبہ
انسانی کامیابی کا آغاز خود احتسابی سے ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہتا ہے وہ گمراہی سے بچ جاتا ہے، اور توبہ اسے روحانی طور پر پاک کرتی ہے۔
14۔ راہِ خدا میں جدوجہد
حق کے قیام کے لیے جدوجہد صرف جنگ نہیں بلکہ زبان، مال اور کردار کی جدوجہد بھی ہے۔ حضرت علی ؓ حق بات کہنے میں کسی خوف کو حائل نہیں ہونے دیتے۔
یہ تمام وصیتیں دراصل ایک ہی سرچشمے سے پھوٹنے والی وہ روشنی ہیں جو انسان کو فرد کی سطح سے اٹھا کر ایک باکردار، باوقار اور ذمہ دار انسان بناتی ہیں۔ ان میں زندگی کا نظام بھی ہے، اخلاق کی بنیاد بھی، معاشرت کا اصول بھی اور آخرت کی تیاری بھی۔
یوں نصیحت راستہ دکھاتی ہے، تربیت چلنا سکھاتی ہے اور وصیت منزل کا شعور عطا کرتی ہے۔ جب یہ تینوں عناصر کسی کامل رہبر کی حکمت کے ساتھ جمع ہو جائیں تو انسان کا وجود سنور جاتا ہے، معاشرہ سنبھل جاتا ہے اور زندگی عبادت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button