
جگائے گا کون؟
جنگ ایران، مصائب پاکستان میں؟
تحریر: سی ایم رضوان
یہ کس قدر تشویشناک حقیقت ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر کوئی بحران سر اٹھاتا ہے تو اس کے براہ راست اثرات پاکستان کی معیشت پر کم اور عام آدمی کی جیب پر زیادہ پڑتے ہیں۔ اب ایران، امریکہ جاری جنگ کے باعث بھی پاکستانی عوام مصائب کے ایک پہاڑ کے نیچے دب گئے ہیں۔ موجودہ حالات میں جبکہ دنیا بھر میں پاکستان کی نیک نامی ہو رہی ہے، وزیر اعظم اور آرمی چیف کی سفارتی مساعی کو دنیا بھر میں بجا طور پر خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے لیکن پاکستانی عوام پر معاشی مظالم کی وہی پرانی حکومتی روایت نہایت بیدردی سے آزمائی جا رہی ہے۔ عام پاکستانی سوال کناں ہے کہ ہمارے حکمرانوں کا دنیا کے امن کے لئے ہلکان ہو جانا کتنے ثواب کا باعث ہو گا جبکہ غریب پاکستانی نان جویں کو ترس جائیں۔ بعینہٗ سابقہ حکومتوں میں بھی یہی ہوتا رہا ہے تو عوام کو موجودہ لائق فائق رجیم کا کیا فائدہ۔ ایران امریکہ جاری جنگ کے اثرات کے تناظر میں عوام پر جو معاشی ظلم جنگ کے پہلے میزائل کے پھٹتے ہی ڈال دیا گیا تھا وہ اب مزید طویل، تلخ اور برداشت کی تمام حدود کراس کر گیا ہے۔ اب اس تلخ حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس وقت پاکستان کا متوسط اور غریب طبقہ اس نوعیت کی حالت جنگ سے گزر رہا ہے کہ جو نوعیت شاید ایران کے عام شہریوں کو بھی درپیش نہیں۔
عام آدمی کے لئے حکومت کی موجودہ پالیسیاں اس لئے بھی مشکل ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ حکومت نے اپنے ریونیو اہداف پورے کرنے کے لئے براہ راست امیروں پر ٹیکس لگانے کی بجائے بجلی کے بلوں، پٹرول اور روزمرہ کی اشیاء پر ان ڈائریکٹ ٹیکسز لگا دیئے ہیں۔ جس کا سب سے زیادہ اثر دیہاڑی دار طبقے پر پڑا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط اور عالمی بحرانوں کے نام پر لگائے گئے نئے ٹیکسز نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو تقریباً ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ عام پاکستانی کا غصہ اس لئے بھی فطری ہے کہ ایک طرف عالمی جنگوں کے اثرات ہیں تو دوسری طرف ملک کے اندر انتظامی اصلاحات کی کمی۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں تھوڑی بڑھتی ہیں لیکن مقامی منافع خور ذخیرہ اندوزی کر کے قیمتیں دوگنا کر دیتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضلعی سطح پر ایسا سخت نظام نافذ کرے کہ مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کو کڑی سزائیں دی جائیں۔ سب سے اہم یہ کہ جب تک حکومت اشرافیہ کو نوازنے کی پالیسی ترک کر کے عوام دوست بجٹ نہیں بنائے گی، تب تک بیرونی بحرانوں کا ملبہ غریب پر ہی گرتا رہے گا۔ یہ کہنا بھی درست ہے کہ موجودہ حالات کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ترجیحات کا غلط ہونا ہے۔ یہاں یہ سوال بڑا اہم ہے کہ کیا موجودہ سیاسی نظام میں اتنی ہمت ہے کہ وہ بااثر حلقوں پر ٹیکس لگا کر غریب کو ریلیف دے۔ پاکستان کے مالیاتی اور معاشی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی اس وقت ملک کا سب سے بڑا انتظامی المیہ بن چکا ہے۔ جب ادارے ایک دوسرے کی سمت کے برعکس کام کریں گے تو اس کا خمیازہ عام آدمی کو مہنگائی کے جھٹکوں کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر عام طور پر مانیٹری پالیسی ( اسٹیٹ بینک) اور فسکل پالیسی ( وزارتِ خزانہ) کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے، لیکن اکثر یہاں تضاد نظر آتا ہے۔ اسٹیٹ بینک مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے شرحِ سود بلند رکھتا ہے تاکہ مارکیٹ میں پیسے کی گردش کم ہو۔ وزارتِ خزانہ حکومت کو اپنے اخراجات چلانے کے لئے بڑے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ شرحِ سود زیادہ ہونے کی وجہ سے حکومت کے قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے، جسے پورا کرنے کے لئے وہ عوام پر مزید ٹیکس لگا دیتی ہے۔ ایک دیگر حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سے وسائل کی تقسیم پر وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی واضح ہے۔ وفاق کا گلہ ہے کہ صوبے زراعت اور ریئل اسٹیٹ جیسے بڑے شعبوں سے ٹیکس جمع نہیں کر رہے، جس کا بوجھ وفاق کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں صوبوں کا موقف ہے کہ وفاق اپنی نااہلی کا ملبہ ان پر ڈال رہا ہے۔ اس کھینچا تانی میں وہ مشترکہ معاشی ایجنڈا غائب ہو جاتا ہے جس کی ملک کو ضرورت ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ پاکستان میں معاشی فیصلے اداروں کے بجائے شخصیات یا وقتی ضرورت ( جیسے آئی ایم ایف کی قسط وغیرہ) کے تحت کیے جاتے ہیں۔ ایف بی آر، پٹرولیم ڈویژن اور پاور ڈویژن کے درمیان ڈیٹا اور حکمتِ عملی کا کوئی اشتراک نہیں۔ مثال کے طور پر، وزارتِ صنعت، پیداوار بڑھانا چاہتی ہے لیکن پاور ڈویژن بجلی کی قیمتیں اتنی بڑھا دیتا ہے کہ کارخانے بند ہونے لگتے ہیں۔ ان خرابیوں کے مستقل ہونے کے ساتھ ساتھ اب ایران امریکہ تنازع کے تحت حکومت کی ری ایکٹو حکمتِ عملی سامنے آئی۔ ہمارے ادارے پلاننگ کی بجائے صرف ردِعمل دینے میں لگ گئے اور بغیر سوچے سمجھے تیل مہنگا کر دیا۔ ظاہر ہے کہ جب تیل مہنگا ہوتا ہے، تو ادارے یہ نہیں سوچتے کہ اس کا اثر عوام پر کیسے کم کیا جائے،
اداروں کے مابین اس خلا کو پر کرنے کے لئے سب سے پہلے تو نیشنل اکنامک کونسل کو فعال بنانا چاہئے تھا اسے محض رسمی میٹنگ کی بجائے ایک ایسا فورم بننا چاہیے تھا جہاں روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا کا تبادلہ ہو۔ تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان کم از کم 10سال کے لئے ایک معاشی روڈ میپ پر اتفاق ہونا بھی ضروری تھا تاکہ حکومت بدلنے یا عالمی حالات بدلنے سے پالیسی نہ بدلے۔ ڈیجیٹلائزیشن کے تحت تمام مالیاتی اداروں کے ڈیٹا کو ایک جگہ اکٹھا کرنا بھی اہم ہے تاکہ ٹیکس چوری روکی جا سکے اور بوجھ صرف چند طبقوں پر نہ رہے۔ اب یہ اداروں کی نااہلی ہے یا جان بوجھ کر پیدا کی گئی بد نظمی ہے کہ اشرافیہ فائدہ اٹھاتی رہے اور جنگ کی ساری تباہی عام پاکستانی کے گھر کو ہی نشانہ بناتی رہے۔ ظاہر ہے کہ جب ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں اور پالیسیوں میں تسلسل اور تطابق نہ ہو، تو وہ نااہلی اور بدنظمی مل کر عوام کے خلاف ایک معاشی جنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس یکطرفہ گولہ باری میں دفاع کرنے والا اور تباہ ہونے والا صرف عام آدمی جبکہ حملہ آور سدا کی حکومتی پالیسیاں اور نااہلیاں ہیں جو یہ ’’ گولہ باری‘‘ کر رہی ہیں۔ ایک نااہلی یہ ہے کہ عوام پر گردشی قرضے کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق بجلی اور گیس کے شعبے میں اصلاحات نہ کر کے لائن لاسز ( بجلی چوری) اور نااہل افسران کا بوجھ عوام پر ’’ فیول ایڈجسٹمنٹ‘‘ اور ’’ اضافی سرچارج‘‘ کی صورت میں ڈالا جاتا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ آپ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں، آئی پی پیز کو ادائیگی کے نام پر آپ کے بلوں میں وہ رقم بھی شامل کی جاتی ہے جو سسٹم کی خرابی کی نذر ہو گئی۔ دوسری بدنظمی ٹیکسیشن کا غیر منصفانہ نظام ہے۔ یعنی جب ایف بی آر بڑے مگر مچھوں، بڑے تاجروں اور جاگیر داروں سے ٹیکس لینے میں ناکام ہو جاتا ہے، تو وہ اپنی ’’ نااہلی‘‘ چھپانے کے لئے اس گفتنی بدنظمی کا سہارا لیتا ہے۔ ان خرابیوں کے ازالہ کے لئے عوام پر حکومتی گولہ باری کا آسان طریقہ یہ ہے کہ موبائل کارڈ کے ریچارج سے لے کر آٹے، چینی اور گھی تک ہر چیز پر بھاری سیلز ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ یہ وہ ٹیکس ہے جو ایک کروڑ پتی بھی اتنا ہی دیتا ہے جتنا کہ ایک دیہاڑی دار مزدور۔ عام پاکستانی درآمدی مہنگائی اور کرنسی کی بے قدری کا بھی خمیازہ بھگت رہا ہے جبکہ حکومتی ادارے روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لئے کوئی طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے، تو اس کا اثر بھی پٹرول کی قیمت پر پڑتا ہے۔ اس نااہلی کو بھی جاری رکھتے ہوئے جیسے ہی ایران امریکہ تنازع کی وجہ سے تیل مہنگا ہوا، حکومت نے اسے ’’ عالمی مارکیٹ‘‘ کا بہانہ بنا کر فوری طور پر عوام پر منتقل کر دیا، لیکن جب عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہیں، تو وہ ریلیف عوام تک نہیں پہنچنے دیا جاتا۔ حکومت پاکستان کی معاشی بدنظمی دراصل ایک سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے جہاں مراعات یافتہ طبقے کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ سرکاری افسران کو مفت پٹرول اور بجلی فراہم کی جاتی ہے، جس کا خرچہ وہ عام آدمی اٹھاتا ہے جس کی اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ختم ہونے والا ہوتا ہے۔ افسوس کہ جنگی ایمرجنسی کے نام پر قربانی صرف غریب سے مانگی جاتی ہے، صاحبِ اقتدار سے نہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کا عام شہری اس گولہ باری کے سامنے بالکل نہتا ہے۔ جب تک کہ حکومت اپنے اخراجات کم نہیں کرتی، ڈائریکٹ ٹیکس ( امیروں پر ٹیکس) کا نفاذ نہیں ہوتا۔ اور اداروں کی جواب دہی نہیں ہوتی۔ تب تک یہ بدنظمی برقرار رہے گی۔ یہ محض اتفاقی مہنگائی نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو غریب کی جیب سے نکال کر طاقتور کے نظام کو سہارا دینے کے لئے بنایا گیا ہے۔ اس ’’ یکطرفہ گولہ باری‘‘ کو روکنے کے لئے یقینی طور پر کوئی پرامن عوامی دبائو یا تحریک اثر دکھا سکتی ہے، یا نظام کے اندر سے تبدیلی کی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے وہ بھی اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر توجہ دیں تو۔ سابقہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو امید کا دامن تھامنا بھی مشکل ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب نظام کا ظلم اپنی انتہا کو چھو لیتا ہے، تو وہیں سے تبدیلی کی راہ نکلتی ہے۔ عام پاکستانی کی مایوسی اس ظلم کی وجہ سے ہے جو نظر آ رہا ہے، لیکن اگر حقائق پر نظر ڈالیں تو امید کے چند دیگر دریچے اب بھی موجود ہیں چونکہ آج کا عام آدمی پہلے سے کہیں زیادہ باخبر ہے۔ اب عام لوگ جان چکے ہیں کہ بجلی کا بل کیوں زیادہ آ رہا ہے یا آئی پی پیز کے معاہدے کیا ہیں۔ یہ معاشی شعور ہی وہ پہلی اینٹ ہے جس پر تبدیلی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جب عوام سوال کرنا شروع کر دیتے ہیں، تو حکمران طبقے کے لئے سٹیٹس کو جاری رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ موجودہ گھسا پٹا معاشی ماڈل اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ اب ریاست کے پاس مزید گنجائش نہیں بچی کہ وہ صرف غریب کو نچوڑ کر نظام چلائے۔ جب ٹیکس جمع ہونا بند ہو جاتا ہے اور معیشت جمود کا شکار ہوتی ہے، تو خود اشرافیہ کے اپنے مفادات خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ بالآخر یہ دبائو خود نظام کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنے اندر سٹرکچرل ریفارمز کی طرف جائے، چاہے نظام کے کرتا دھرتا اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ خاص طور پر ڈیجیٹلائزیشن اب حکومتوں کی ضرورت بن چکی ہے۔ جیسے جیسے مالیاتی لین دین ڈیجیٹل ہو رہا ہے، ٹیکس چوری کرنا اور کالے دھن کو چھپانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ شفافیت ہی آنے والے وقت میں ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا باعث بنے گی جو اب تک اس ’’ بدنظمی‘‘ کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔ خطے میں دیگر ممالک ( جیسے بنگلہ دیش یا ویتنام) کی معاشی ترقی یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر درست فیصلے کیے جائیں تو چند سالوں میں حالات بدل سکتے ہیں۔ پاکستان کے پاس وسائل، نوجوان افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت موجود ہے۔ صرف ایک دیانتدارانہ سمت کی ضرورت ہے، جو ناممکن نہیں ہے۔ امید کسی مسیحا کے انتظار میں نہیں، بلکہ اس امر میں پوشیدہ ہے کہ جب عوام اپنے نمائندوں سے بجٹ اور ٹیکسوں کا حساب مانگیں گے۔





