Column

علاج کے ساتھ امید بھی۔۔۔ پنجاب کا انقلابی قدم 

علاج کے ساتھ امید بھی۔۔۔ پنجاب کا انقلابی قدم

تحریر : رفیع صحرائی

 

صحت کا شعبہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی پہچان اور ریاستی ذمہ داری کا سب سے واضح مظہر ہوتا ہے۔ وہ ریاستیں ہی حقیقی معنوں میں فلاحی کہلاتی ہیں جو اپنے شہریوں کو بیماری، مجبوری اور کسمپرسی کے عالم میں تنہا نہیں چھوڑتیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو پہلے ہی مشکل بنا رکھا ہے، وہاں مہنگے علاج معالجے کا بوجھ کسی عذاب سے کم نہیں۔ ایسے میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے کینسر کے مریضوں کے لیے ’’ کیمو تھراپی پروگرام‘‘ کا آغاز ایک مثبت، بروقت اور انسان دوست اقدام ہے، جو نہ صرف علاج بلکہ امید کا پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کینسر جیسے مہلک مرض کا نام سنتے ہی مریض اور اس کے اہلِ خانہ ذہنی، جذباتی اور مالی طور پر ٹوٹ کر رہ جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد کینسر کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس مرض کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں علاج کی سہولیات محدود اور اخراجات ناقابلِ برداشت حد تک زیادہ ہیں۔ کیمو تھراپی کے ایک ایک سیشن پر آنے والی خطیر رقم عام آدمی کے لیے کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں، جس کے باعث بہت سے مریض علاج شروع ہی نہیں کروا پاتے اور اگر بعض مریض علاج شروع کروا بھی لیں تو ناقابلِ برداشت اخراجات کی وجہ سے ادھورا علاج چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس تناظر میں حکومت کا یہ قدم محض ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک انسانی فریضے کی ادائیگی ہے۔

اس پروگرام کے خدوخال اگرچہ ابتدائی مرحلے میں ہیں تاہم دستیاب معلومات کے مطابق سرکاری ہسپتالوں اور مستند کینسر مراکز میں مریضوں کو کیمو تھراپی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ایک مربوط نظام کے تحت مریضوں کی رجسٹریشن، تشخیص، علاج اور فالو اپ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر اس نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا گیا تو نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ بدعنوانی اور اقربا پروری جیسے مسائل پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک مرکزی ڈیٹا بیس تشکیل دیا جائے، جس کے ذریعے مریضوں کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہو اور علاج کے تسلسل میں کوئی خلل نہ آئے۔

تاہم، محض اعلانات اور منصوبہ بندی کسی بھی پروگرام کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ اصل امتحان اس کے مثر، شفاف اور مستقل نفاذ میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ پنجاب کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو بھی اس سہولت تک مساوی رسائی ملنی چاہیے۔ ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ جدید سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود رکھی جاتی ہیں جبکہ دو تہائی آبادی دیہات میں رہتی ہے۔ اگر یہ پروگرام بھی صرف بڑے شہروں تک محدود رہا تو اس کی افادیت کم ہو جائے گی۔ اس کے لیے موبائل میڈیکل یونٹس، ضلعی سطح پر کینسر مراکز کے قیام اور ریفرل سسٹم کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔

مزید برآں، کینسر کے علاج کے لیے صرف مشینری کافی نہیں ہوتی بلکہ ماہر آنکولوجسٹ ڈاکٹرز، تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف اور معاون طبی عملے کی موجودگی بھی لازمی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ماہر آنکولوجسٹ کی تعداد انتہائی محدود ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ میڈیکل تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائے، آنکولوجی کے شعبے میں اسپیشلائزیشن کی حوصلہ افزائی کرے اور نوجوان ڈاکٹروں کو اس میدان میں آنے کے لیے مراعات فراہم کرے۔

کینسر کا علاج محض جسمانی نہیں بلکہ ایک شدید ذہنی و نفسیاتی آزمائش بھی ہوتا ہے۔ مریض اکثر ڈپریشن، خوف اور بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں نفسیاتی معاونت یعنی کونسلنگ کو علاج کا لازمی جزو بنایا جانا چاہیے۔ اگر مریض کو حوصلہ، رہنمائی اور جذباتی سہارا فراہم کیا جائے تو اس کے صحت یاب ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ملکِ عزیز میں ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک اور سنگین مسئلہ ہیں، جو نہ صرف کینسر بلکہ عام بیماریوں کے مریضوں کے لیے بھی مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ادویات کی قیمتوں پر موثر کنٹرول کے لیے ٹھوس پالیسی مرتب کرے، مقامی فارماسیوٹیکل صنعت کو فروغ دے اور ضروری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ اسی کے ساتھ ساتھ جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈائون ناگزیر ہے۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف علاج کو بے اثر کرتا ہے بلکہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری نظام کو مضبوط، شفاف اور جوابدہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گزشتہ روز پنجاب کے وزیرِ صحت کی رہنمائی میں لاہور میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک جعلی ادویہ بنانے والی فیکٹری پکڑی گئی ہے جس کے اندر سے کروڑوں روپے مالیت کی جعلی ادویہ برآمد ہوئی ہیں۔ اس کام کے ذمہ داران اور پشت پناہوں کو پکڑ کر عبرت کا نشان بنا دیا گیا تو جعلی ادویہ کی تیاری کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ صحت کے شعبے میں اس نوعیت کے اقدامات وقتی نہیں بلکہ پائیدار ہونے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بجٹ میں صحت کے لیے مختص فنڈز میں اضافہ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا فروغ اور فلاحی اداروں کے ساتھ اشتراک ایسے عوامل ہیں جو اس پروگرام کو دیرپا اور موثر بنا سکتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حکومتِ پنجاب کا کیمو تھراپی پروگرام ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جو ریاستی ذمہ داری کے احساس، انسانی ہمدردی اور بہتر طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔ مگر اس کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اسے محض ایک اعلان یا وقتی اقدام نہ رہنے دیا جائے بلکہ ایک مضبوط، شفاف اور پائیدار نظام کی صورت دی جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ پروگرام نہ صرف کینسر کے مریضوں کے لیے زندگی کی نئی امید بنے گا بلکہ پاکستان کے صحت کے نظام میں ایک مثبت مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ بلاشبہ، بیماری کتنی ہی مہلک کیوں نہ ہو، اگر ریاست مریض کے ساتھ کھڑی ہو تو امید کا چراغ کبھی بجھ نہیں سکتا۔

جواب دیں

Back to top button