
امن کا چراغ جگمگا نہیں ٹمٹما رہا ہے
تحریر : سی ایم رضوان
پاکستان میں ایران اور امریکہ کے وفود کی آمد اور اسلام آباد میں ہونے والے متوقع مذاکرات نے عالمی سطح پر توجہ تو حاصل کی ہے مگر موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایک مستقل امن معاہدے کی توقع کرنا قبل از وقت لگتا ہے، تاہم موجودہ کوششیں ایک بڑی جنگ کو روکنے کے لئے اہم سنگ میل ضرور ثابت ہو سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں 11۔12اپریل 2026ء کو اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا تھا۔ امریکہ نے اپنے ( نائب صدر جے ڈی وینس کے ذریعے) ایران سے ایٹمی پروگرام مکمل ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ ایران اب بھی اپنے ٹویٹس کے تناظر میں اسے اپنی سلامتی کے لئے ناگزیر سمجھتا ہے۔ اس سے قبل 8اپریل کو ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کو اب غیر معینہ مدت کے لئے بڑھا تو دیا گیا ہے، لیکن دونوں ممالک کے مطالبات میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ حاصل یہ کہ جب تک بنیادی تنازعات ( ایٹمی پروگرام، میزائل صلاحیت اور پابندیوں) پر اتفاق نہیں ہوتا، مستقل امن ایک مشکل ہدف رہے گا اور اگر فی الحال کوئی معاہدہ ہو بھی جاتا ہے، تو اسے کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہو گا۔ مثال کے طور پر اب اگر یہ کہا جائے کہ تیسری عالمی جنگ سمٹ کر آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کی صورت میں جلوہ گر ہوئی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرات کسی بھی معاہدے کو نہ صرف اب بلکہ آئندہ بھی ایک منٹ میں ختم کر سکتے ہیں۔ حال ہی میں ایرانی مال بردار جہاز کی قبضے میں لیے جانے جیسی کارروائیاں دوطرفہ اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ دونوں ممالک میں ایسے سخت گیر گروہ موجود ہیں جو اپنی کسی بھی قسم کی نرمی کو کمزوری تصور کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ پر ریپبلکن ہاکس (Hawks)کا دبائو ہے کہ ایران کی فوجی طاقت کو مکمل طور پر مفلوج کیا جائے، جبکہ ایران میں پاسدارانِ انقلاب جیسی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کسی بھی ایسے معاہدے کی مخالف ہے جو ان کے دفاعی اثاثوں پر سمجھوتہ کرے۔ جبکہ خطے میں اسرائیل کے سکیورٹی خدشات اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کسی بھی وقت معاہدے کی بساط الٹ سکتی ہے۔ ایسے میں صدر ٹرمپ کی سخت بیانی کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ان کی پریشر ٹیکٹکس کا حصہ ہے اور شاید آئندہ بھی ٹرمپ کی جانب سے ایران کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے یا ایرانی انفراسٹرکچر کی تباہی جیسی دھمکیاں فوراً ختم نہ ہوں۔ وہ ان بیانات کو مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کے پیچھے ٹرمپ کا بنیادی مقصد بہترین ڈیل حاصل کرنا ہے جس میں ایران کی تمام عسکری اور ایٹمی صلاحیتوں کو کم کیا جا سکے۔ لہٰذا جب تک وہ محسوس نہیں کریں گے کہ ایران ان کی تمام شرائط مان چکا ہے، ان کے سوشل میڈیا پیغامات اور تند و تیز تقاریر کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ گو کہ پاکستان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن حقیقی امن کا انحصار بالآخر اس بات پر ہے کہ آیا واشنگٹن اور تہران ایک درمیانی راستہ نکالنے پر تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔ لیکن اگر ان میں سے ایک فریق بھی اس امر کے لئے تیار نہیں ہوتا تو ابھی تک کی صورتحال میں تو صرف کشیدگی میں کمی ہی سب سے بڑی کامیابی نظر آتی ہے۔ خوش فہمی میں آ کر موجودہ عالمی حکمرانوں کے امن کے جھوٹے دعووں پر ایمان لانے سے بہتر ہے کہ اس وقت کی تلخ زمینی صورتحال کی درست تجزیہ کاری کی جائے اور درست تجزیہ یہی ہے کہ جب بحری ناکہ بندیاں اور براہِ راست فوجی دھمکیاں میزائلوں کی زبان میں دی جا رہی ہوں، تو سفارتی میز پر بیٹھنا محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔ بلکہ ان حالات میں کشیدگی میں کمی بھی مشکل ہدف نظر آتا ہے اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لئے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایران کے لئے یہ واحد ترپ کا پتہ ہے جس کے ذریعے وہ عالمی معیشت کو مفلوج کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ اسے اپنی عالمی برتری اور اتحادیوں کے تحفظ کے لئے ریڈ لائن قرار دیتا ہے۔ جب دونوں فریق ایک ایسی جگہ پر آمنے سامنے ہوں جہاں پیچھے ہٹنا سیاسی خود کشی سمجھا جائے، تو وہاں مفاہمت کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ خاص طور پر اس تناظر میں کہ جب دونوں اطراف سے نفرت بھرے پیغامات کا سلسلہ زور شور اور بلا لحاظ جاری رہے، موجودہ امریکی انتظامیہ اور تہران کے درمیان لفظی جنگ اب ذاتی حملوں اور نفسیاتی دبا میں بدل چکی ہے۔ جب قیادت کی سطح پر زبان اتنی تند و تیز ہو جائے، تو عوام اور فوج کے اندر بھی سمجھوتے کی خواہش ختم ہو جاتی ہے۔ حالانکہ کسی بھی امن معاہدے کے لئے ’’اعتماد‘‘ بنیادی شرط ہوتا ہے، جو اس وقت منفی سطح پر ہے۔ دونوں اطراف اس وقت ایسی پوزیشن پر ہیں جہاں ایک کی جیت دوسرے کی مکمل ہار تصور کی جا رہی ہے اور دونوں اطراف سے ہم جیتے کا خبط کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کا اثر و رسوخ مکمل ختم ہو جائے جبکہ ایران اپنی بقا کے لئے مزاحمتی جنگ کو برقرار رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔ ان حالات میں مستقبل کے منظر نامہ میں امن کی امید کا چراغ جگمگاتا نہیں بلکہ ٹمٹماتا نظر آتا ہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگ کے بادل گہرے ترین ہوتے ہیں، تبھی پسِ پردہ سفارت کاری متحرک ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں وفود کی آمد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہو سکتی ہے جہاں شاید امن تو نہ ملے، لیکن جزوی تصادم کا نسبتاً محفوظ انتظام ضرور کر دیا جائے گا تاکہ دونوں اطراف میں سے کسی ایک جانب موجود کوئی غلط فہمی ایک بڑی عالمی تباہی کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔ فی الحال صورتحال یہی ہے کہ دونوں فریق جنگ کے دہانے تک جا کر ایک دوسرے کے اعصاب آزما رہے ہیں، لیکن کوئی بھی پہلا قدم پیچھے ہٹانے کو تیار نہیں۔
ایسے میں چین یا روس جیسے کسی تیسرے فریق کی مداخلت اس ڈیڈ لاک کو توڑنے میں کامیاب تو ہو سکتی ہے لیکن روس اور چین براہِ راست اس آگ میں کودنا نہیں چاہیں گے، لیکن وہ اس کشیدگی میں بالواسطہ طور پر اس لئے دخیل ہیں کیونکہ اس خطے میں طاقت کا توازن بگڑنا ان کے اپنے مفادات کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ ان کے ملوث ہونے کے پیچھے ٹھوس محرکات یہ ہیں کہ ایک تو چین کا اپنا توانائی کی سکیورٹی اور معاشی مفاد وابستہ ہے۔ چین دنیا میں تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور اس کی توانائی کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے یا وہاں بڑی جنگ چھڑتی ہے، تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی جس سے چینی معیشت کا پہیہ جام ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے حال ہی میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بحال کروا کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اب صرف ایک تاجر نہیں بلکہ ایک سیاسی کھلاڑی بننا چاہتا ہے۔ وہ پسِ پردہ ایران کو معاشی مدد کی یقین دہانی کروا کر اسے مکمل جنگ سے روکنے کی کوشش کر سکتا ہے جبکہ روس اس جنگ کو جاری رکھ کر یورپ کی جنگ سے مغرب کی توجہ ہٹانے کا موقع حاصل کرنے کی سوچ پر عمل کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے روس کی صورتحال چین سے مختلف ہے کیونکہ روس خود تیل پیدا کرتا ہے، اس لئے تیل مہنگا ہونا اس کے لئے مالی طور پر فائدہ مند ہو سکتا ہے ساتھ ہی روس یہ بھی چاہتا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ کی دلدل میں پھنسا رہے تاکہ یوکرین پر سے مغربی دبا کم ہو سکے۔ یعنی روس ایران کو انٹیلیجنس یا دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کر کے امریکہ کے لئے اس جنگ کو انتہائی مہنگا بنا سکتا ہے۔
خاص طور پر اس صورت میں بھی کہ جبکہ روس اور ایران کے دفاعی تعلقات اب اس سطح پر ہیں جہاں ایران کی کمزوری کو روس اپنی تزویراتی شکست سمجھے گا۔ لہٰذا روس اور چین براہِ راست جنگ تو نہیں لڑیں گے، لیکن وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف کسی بھی سخت ترین قرارداد یا پابندی کو ویٹو کر کے، امریکی پابندیوں کو ناکام بنانے کے لئے ایران کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں تجارت کر کے ایرانی معیشت مکمل طور پر گرنے سے روک سکتے ہیں تاکہ وہ لڑتا رہے اور کسی امن ڈیل پر نہ آئے۔ اسلام آباد میں وفود کی آمدورفت میں بھی ان دونوں طاقتوں کی خاموش رضامندی شامل ہو سکتی ہے، کیونکہ پاکستان ان دونوں کا قریبی اتحادی ہے اور اس خطے میں استحکام ان سب کی مشترکہ ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ روس اور چین کا اس جنگ اور ڈیل کے بیچ میں آنا امن کی محبت میں نہیں بلکہ اپنی عالمی بالادستی برقرار رکھنے اور امریکہ کو یک طرفہ فیصلے کرنے سے روکنے کے لئے ہے۔ وہ ایران کو گرنے نہیں دیں گے، لیکن شاید اسے کھلی چھٹی بھی نہیں دیں گے کہ وہ پورے خطے کو جنگ میں جھونک دے۔ دوسری طرف امریکہ بھی روس اور چین کے اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو برداشت نہیں کرے گا یا وہ ایران پر حملہ کر کے اس توازن کو توڑنے کی کوشش کرے گا۔
یا وہ ایسا امن معاہدہ کرنے کی کوشش کرے گا کہ اس خطہ میں نہ مکمل امن ہو اور نہ ہی ایران کو سر اٹھانے کا موقع مل سکے۔ یعنی اسلام آباد میں جاری موجودہ امن مذاکرات سے امن کا چراغ جگمگاتا نہیں ٹمٹماتا نظر آتا ہے کیونکہ پیچھے بیٹھے طاقتور کھلاڑی مستقل امن نہیں چاہتے۔
بلوم برگ اور آئی ای اے کی رپورٹس کے مطابق، آبنائے ہرمز کی بندش اور بحری جہازوں پر حملوں کی وجہ سے عالمی تیل کی ترسیل میں تقریباً بیس فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ بحران سے پہلے اس راستے سے یومیہ 20ملین بیرل تیل گزرتا تھا، جو کہ اب کم ہو کر صرف 3.8ملین بیرل یومیہ کی اوسط پر آ گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ترسیل میں 80% سے زائد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ ویٹول(Vitol)کے سی ای او کے مطابق، اس جنگ اور کشیدگی کی وجہ سے اب تک 600سے 700ملین بیرل تیل کی پیداوار ضائع ہو چکی ہے، اور خدشہ ہے کہ یہ نقصان ایک ارب بیرل تک جا سکتا ہے۔ اس سپلائی میں کمی کے نتیجے میں مارکیٹ میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ مارچ 2026ء میں برینٹ کروڈ کی قیمتیں 126ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی تھیں۔ اپریل کے وسط تک، اسلام آباد مذاکرات اور عارضی جنگ بندی کی خبروں کے باوجود، قیمتیں اب بھی 100ڈالر سے اوپر برقرار ہیں کیونکہ سپلائی لائنز ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئیں۔ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک جیسے سعودی عرب، کویت، عراق اور متحدہ عرب امارات کی مجموعی پیداوار میں مارچ کے مہینے میں 10ملین بیرل یومیہ تک کی کمی رپورٹ کی گئی تھی، کیونکہ برآمدی راستے بند ہونے کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی کی گنجائش ختم ہو گئی تھی۔ بلوم برگ کے مطابق، یہ 1970ء کے بعد عالمی توانائی کی تاریخ کا سب سے بڑا سپلائی بریک ڈان ہے، جس نے نہ صرف قیمتوں کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معاشی شرحِ نمو کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ لیکن عالمی طاقت کے ٹھیکیداروں کے پیش نظر آج بھی دنیا کی معیشت نہیں بلکہ طاقت کی شطرنج کی بساط پر خوفناک چالیں ہی ترجیح کی حیثیت رکھتی ہیں۔
سی ایم رضوان







