سندھ کا 3ہزار 562ارب روپے کا بجٹ: ترقی، چیلنجز اور عوامی توقعات

سندھ کا 3ہزار 562ارب روپے کا بجٹ: ترقی، چیلنجز اور عوامی توقعات
غلام مصطفیٰ جمالی
سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026۔27کے لیے 3ہزار 562ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔ یہ بجٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی مجموعی معیشت مہنگائی، قرضوں کے بوجھ، توانائی کے بحران، بے روزگاری اور ترقیاتی ضروریات جیسے بڑے چیلنجز سے گزر رہی ہے۔ صوبہ سندھ ملک کی معاشی شہ رگ سمجھا جاتا ہے کیونکہ کراچی نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ قومی معیشت میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے سندھ کا بجٹ صرف ایک صوبائی مالی دستاویز نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔
ہر سال بجٹ پیش ہونے کے بعد حکومت اپنی ترجیحات، منصوبے اور اہداف عوام کے سامنے رکھتی ہے۔ اس سال بھی سندھ حکومت نے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، بلدیاتی خدمات، زراعت، آبپاشی، امن و امان اور سماجی بہبود کے شعبوں کے لیے بڑے اعلانات کیے ہیں۔ بظاہر یہ بجٹ ترقیاتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بجٹ عوامی مسائل کے حل میں موثر ثابت ہوگا یا محض اعداد و شمار کی ایک خوبصورت دستاویز بن کر رہ جائے گا۔
سندھ کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ترقی کا فرق اب بھی نمایاں ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر کو پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی اور ٹریفک کے مسائل کا سامنا ہے جبکہ اندرون سندھ کے کئی اضلاع بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایسے حالات میں عوام کی توقع تھی کہ بجٹ میں ایسی پالیسیاں متعارف کرائی جائیں گی جو عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا سکیں۔
بجٹ کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑھایا گیا ہے۔ اس اضافے کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کو وسعت دینا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے۔ ترقیاتی پروگرام کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ سڑکوں، پلوں، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ سندھ حکومت نے تعلیم کے شعبے کے لیے قابل ذکر فنڈز مختص کیی ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی بہتری، نئے تعلیمی اداروں کے قیام، اساتذہ کی تربیت اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے۔ اگر ان منصوبوں پر موثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو یہ صوبے کے لاکھوں بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ صرف فنڈز مختص کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ شفافیت اور نگرانی بھی ضروری ہے۔
صحت کا شعبہ بھی سندھ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ دیہی علاقوں میں بنیادی مراکز صحت کی کمی اور شہری اسپتالوں پر بڑھتا ہوا دبا حکومت کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔ بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔ جدید طبی آلات، ادویات کی فراہمی اور نئے اسپتالوں کی تعمیر کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ اگر ان منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا گیا تو عوام کو صحت کی بہتر سہولیات میسر آ سکتی ہیں۔
کراچی کی ترقی سندھ کی مجموعی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ شہر قائد کو کئی دہائیوں سے انفراسٹرکچر کے مسائل کا سامنا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، پانی کی قلت، سیوریج کے مسائل اور ٹریفک جام شہری زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ بجٹ میں کراچی کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ شہری ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا اور عوامی سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا۔ تاہم شہریوں کی نظر صرف اعلانات پر نہیں بلکہ عملی نتائج پر ہے۔
زرعی شعبہ سندھ کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ صوبے کے لاکھوں افراد کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔ بجٹ میں زرعی ترقی، آبپاشی نظام کی بہتری، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور کسانوں کی معاونت کے لیے مختلف پروگرام شامل کیے گئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی کمی کے باعث زراعت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ مختص کیے گئے وسائل کا درست استعمال کیا جائے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
سندھ کو حالیہ برسوں میں سیلاب اور موسمیاتی آفات سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ اس پس منظر میں بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، سیلابی تحفظ اور ماحولیاتی منصوبوں کے لیے بھی وسائل مختص کیے گئے ہیں۔ یہ ایک مثبت قدم ہے کیونکہ مستقبل میں ایسے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
سرکاری ملازمین کسی بھی حکومتی نظام کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ مہنگائی کی موجودہ صورتحال میں ملازمین کے لیے یہ ایک اہم ریلیف تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اضافہ مہنگائی کی رفتار کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہوگا یا نہیں۔
سماجی بہبود کے پروگراموں کو بھی بجٹ میں اہمیت دی گئی ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں، خواتین، بچوں اور خصوصی افراد کے لیے مختلف فلاحی منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کے لیے یہ اقدامات اہم ہیں لیکن ان کی کامیابی کا انحصار شفاف عملدرآمد پر ہوگا۔
اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے زمینی حقائق کے بجائے روایتی دعووں کو ترجیح دی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ عوام کو درپیش مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کے حل کے لیے زیادہ موثر اقدامات کی ضرورت تھی۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی کے کئی ترقیاتی منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے، اس لیے نئے وعدوں پر عوام کا اعتماد محدود ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ایک متوازن بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ وفاقی مالیاتی ایوارڈ، ٹیکس وصولیوں اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی اور عوامی فلاح کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومتی نمائندوں کے مطابق اگر مالی نظم و ضبط برقرار رہا تو صوبہ ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔
معاشی ماہرین بجٹ کو مجموعی طور پر ایک ترقیاتی دستاویز قرار دے رہے ہیں لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اصل کامیابی عملدرآمد میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان میں اکثر بجٹوں کا مسئلہ یہی رہا ہے کہ اعلانات تو بڑے پیمانے پر کیے جاتے ہیں مگر عملی نتائج توقعات کے مطابق سامنے نہیں آتے۔ اگر منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے تو یہ بجٹ واقعی سندھ کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
عوام کی سب سے بڑی توقع مہنگائی میں کمی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت براہ راست تمام معاشی مسائل حل نہیں کر سکتی، لیکن وہ سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ بجٹ میں ایسے اقدامات کی کامیابی آنے والے مہینوں میں واضح ہوگی۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سندھ پاکستان کے سب سے زیادہ محصولات پیدا کرنے والے صوبوں میں شامل ہے۔ کراچی کی بندرگاہیں، صنعتیں اور تجارتی مراکز قومی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے سندھ کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر صوبے میں بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوگا، سرمایہ کاری بڑھے گی اور عوام کو بہتر سہولیات ملیں گی تو اس کے مثبت اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔
بجٹ صرف آمدن اور اخراجات کا حساب نہیں ہوتا بلکہ یہ حکومت کی سوچ، ترجیحات اور مستقبل کی وژن کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ سندھ حکومت نے اپنے نئے بجٹ میں ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف کا اعلان کیا ہے۔ اب اصل امتحان ان اہداف کو حقیقت کا روپ دینے کا ہے۔ عوام نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، وعدے نہیں۔ اگر حکومت اپنے اعلانات پر موثر انداز میں عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ بجٹ سندھ کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اگر ماضی کی طرح منصوبے کاغذوں تک محدود رہے تو عوامی مایوسی میں مزید اضافہ ہوگا۔
آنے والا وقت فیصلہ کرے گا کہ3ہزار 562ارب روپے کا یہ بجٹ سندھ کے عوام کے لیے خوشحالی کا پیغام بنتا ہے یا محض ایک مالی دستاویز ثابت ہوتا ہے۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ معاشی حالات میں یہ بجٹ صوبے کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور اس کے نتائج آنے والے برسوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔





