خود کو بدلیے کہ بدلنے کا وقت ہے

خود کو بدلیے کہ بدلنے کا وقت ہے
عبدالحنان راجہ
صرف ایران ہی نہیں بدل رہا ہے بلکہ امریکی مفادات اور تعلقات بھی تبدیلیوں کی زد میں ! گریٹر اسرائیل کا منصوبہ دم توڑ رہا ہے تو خلیجی ممالک کی مصنوعی ترقی و دولت کا زعم بھی۔ خطہ تبدیلیوں کی زد میں ہے تو بھارتی غرور خاک میں ! یہ سب سوال آج کے کالم کا عنوان مگر غور طلب بات کہ پاکستان کی عالمی پذیرائی کے باوجود کیا عوام پاکستان، بیوروکریسی اور صاحبان اقتدار بھی بدلنے کو تیار ہیں ؟ تاحال اثبات میں جواب مشکل ! یہ کہنا، سننا اور ماننا غلط نہ گا کہ مئی2025ء سے مقبول بیانیوں اور رائج mayths کے ٹوٹنے کا جو عمل شروع ہوا تھا وہ جاری و ساری ہے۔ مودی کا بیانیہ بھارت میں ہی نہیں امریکہ و روس بلکہ یورپ حتی کہ خلیجی ممالک میں بھی مقبول تھا، پھر بھارت کو خطہ کی بڑی عسکری طاقت ، معاشی و آئی ٹی کے شعبہ جات میں ترقی کا زعم تھا تو عالمی سفارت کاری میں مقام اور سب سے بڑی جمہوریت کا اعزاز بھی اسے مقام دلانے ہوئے تھا مگر چند گھنٹوں کی جنگ نے سب کچھ بدل دیا اور سبھی اعزازات چھین لیے کہ قدرت کو پاکستان کی عزت و وقار منظور۔ بھارتی گود میں بیٹھے بنگلہ دیش میں مجیب الرحمن کا طوطی بولتا تھا اور حسینہ واجد کو دو تہائی اکثریت و انتہا پسندانہ مقبولیت اتنی کہ پی ٹی آئی جیسی مقبول عام جماعت کے سربراہ شیخ مجیب کے گن اور اسے ہیرو قرار دینے لگے مگر تقدیر کی گرفت سے شیخ مجیب الرحمن کا جھوٹ نفرت اور تشدد پر مبنی55سالہ بیانیہ اور حسینہ واجد کی ظالمانہ حکومت بھی نہ بچی۔ دہائیوں سے گریٹر اسرائیل کی خواہش اور اسرائیلی قوت کا خوف بھی جاتا رہا۔ اسرائیل عربوں کے لیے ڈرائونا خواب تھا مگر اب دھول چاٹ رہا ہے۔ بلکہ پہلی بار کسی امریکی صدر کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم کو شپ اپ کال بلکہ۔۔۔۔ روس یوکرین جنگ کے خاتمہ کی بھی نوید ہے تو پاکستان و خلیجی ممالک کی نئی صف بندی کی شنید بھی۔
کہتے ہیں کہ بہت کچھ نیا ہونے جا رہا ہے ایک طرف ایران کی عالمی تنہائی کا اختتام تو تاریخی، ثقافتی و روحانی مقامات کے حامل ملک کے شہر اور ائیر پورٹ آباد ہونے جا رہے ہیں۔ 45سالہ پابندیاں ختم اور ایرانی تیل کے جہاز دنیا بھر کے ساحلوں پر لنگر انداز ہونے کو تیار۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق طرف پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کی فائلوں پر جمی گرد صاف کی جانے لگی ہے تو خلیج فارس اور جزیرہ نمائے عرب میں بھارتی اثر و نفوذ بھی دم توڑنے کو۔ چار اسلامی ممالک کے اتحاد کے بعد خلیجی ممالک کے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدات بھی تیار اور کئی دہائیوں بعد عرب ایران تعلقات کی سرد مہری و خدشات اب گرم جوشی اور بھائی چارے کی طرف گامزن اور اس سب میں مرکز پاکستان۔
رونما ہوتی تبدیلیوں کے دوران ہی کلچرل قونصلر ایران آقائے مجید مشکائی سے آقائے امجد حسین کی وساطت سے ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ سپر پاور کا زعم ختم ہوا اور اسرائیل کے جارحانہ عزائم کو بریک لگی۔ مسلم دنیا کہ جس نے گزشتہ 200، ڈھائی سو سال سے عسکری فتح کا ذائقہ نہیں چکھا تھا کو جشن فتح کا موقع میسر آیا۔ ان کا یہ کہنا بھی درست کہ اس جنگ نے پاکستان و عالم اسلام میں شیعہ سنی تفریق ختم کر دی ‘‘، یہ بھی کیا کم کہ خلیجی ممالک میں احیا کا دور دورہ ہے اور وہ امریکی دفاعی چھتری سے نکلنے پر آمادہ۔
پاکستان اب عالمی دنیا کا بھروسہ مند ملک کہ جس نے محض روایتی سفارت کاری نہیں کی بلکہ ذمہ دار ریاست کا پختہ ریاستی شعور اجاگر کیا اور ناکامیوں کی دلدل سے کامیابیوں کو سمیٹا۔ مذاکرات کے مرکزی کردار نے حکمت، دانش اور شجاعت سے اہداف کو حاصل کیا اور پاکستان نے ایک ہی جست میں عالمی امن کے نقیب کا عنوان سمیٹا اس جنگ نے بھارتی عیاری و موقع پرستی کو ایران پر واضح کیا کہ بھارت ہی 160ایرانی سیلرز کی شہادت کا ذمہ دار، یہ پیش رفت بھی کیا کم کہ 4دہائیوں سے منجمند ایرانی فنڈز بحال ہونا شروع اور ایران کے لیے عالمی تجارت کی راہیں کھلنے کو۔ایک طرف عالمی منظر نامہ، خلیجی خطہ اور جنوب مشرقی ایشیا بدلنے کو تیار مگر اتنی پذیرائی، عالمی کامیابیوں اور سفارتی تنہائی کے خاتمہ کے باوجود پاکستان معاشی اٹھان کی طرف بڑھنے میں ناکام۔ وجہ سرخ فیتہ، حکومت و انتظامی مشینری مثبت تبدیلی پر آمادہ نہیں۔ بیوروکریسی سمیت حکومتی ذمہ داران نے عادات بدلیں نہ اطوار۔ کرپشن کا جادو سر چڑھ، کھلے عام اور دندنا کر بولتا ہے۔ آپ کچہری، تھانہ، ریونیو، کسٹمز، حتی کہ سمندر کنارے کسٹمز کلرئینس کے لیے چلے جائیں، آپ نے گرین میٹر لگوانا ہو، بجلی کا ٹرانسفارمر نصب کرانا ہو یا انڈسٹری لگانے کا شوق ہو۔ ادارے آپ کی راہ میں قانون کے نام پر رکاوٹ پر رکاوٹ کھڑی کریں گے، ہر محکمہ و ادارہ میں سائل رسوائی کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ مگر رشوت ہر کام آسان اور آپ کو باعزت بنا دیتی ہے۔ افسر لمبی قطاروں میں کھڑے جوان و بزرگ کو دیکھ کر تسکین محسوس کرتے ہیں اور ان پر رعب جھاڑنا فرض منصبی۔ حکومت پوری دنیا میں سرمایہ کاری کے لیے ماری پھرتی ہے مگر اس کی ناک نیچے ادارے سرمایہ کاروں کا بھرکس نکال رہے ہوتے ہیں۔ متعلقہ محکمہ کا ساتویں گریڈ کا اہل کار بھی اپنے اندر اپنی اوقات کے مطابق فرعون کی روح حلول کیے بیٹھا ہوتا ہے۔ بیوروکریسی اور سیاست دانوں کا گڑھ جوڑ سرمایہ اور سرمایہ کاروں کی راہ میں خود روکاوٹ اور ہر محکمہ میں کرپشن کی الگ داستان۔
اب جبکہ نیا ورلڈ آرڈر ترتیب پا رہا ہے اور خطہ میں پاکستان مڈل پاور کے طور پر ابھر رہا ہے تو نظام کو بدلے بغیر ترقی، عروج اور استحکام کی باتیں خواب ہی رہیں گی۔ خود کو بدلیے کہ اب بدلنے کا وقت بھی ہے، اور موقع بھی۔
وگرنہ !!!!
پس تحریر : 17جون ہر سال شہدائے ماڈل ٹائون کی یادیں اور دلوں کے زخم تازہ کرتا ہے۔ نامزد ملزمان کہ جن کے نام مقدمہ میں درج ابھی تک قانون کی گرفت سے آزاد، مقتولین کے ورثا دربدر اور سال ہا سال سے انصاف کے منتظر کہ جو پاکستان کے نظام عدل و تفتیش پر سوالیہ نشان !!!





