Column

نوجوان ۔۔۔۔ قوموں کی اصل طاقت

حرف جاوید
نوجوان ۔۔۔۔ قوموں کی اصل طاقت
تحریر: جاوید اقبال
تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کی تقدیر ہمیشہ بادشاہوں، جرنیلوں یا سیاست دانوں نے نہیں بدلی ۔ کئی بار ایسا ہوا کہ تبدیلی کا آغاز یونیورسٹی کے کسی طالب علم نے کیا، کسی نوجوان نے ایک سوال اٹھایا، کسی استاد نے ایک خیال پیش کیا یا کسی عام شہری نے ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی۔ وقت نے ثابت کیا کہ جب نوجوان اپنے مستقبل کو اپنی ذمہ داری سمجھ لیتے ہیں تو پھر تاریخ کا دھارا بھی بدل جاتا ہے۔
بھارت میں حالیہ دنوں پیش آنے والا واقعہ بھی اسی حقیقت کی ایک نئی مثال ہے۔ ایک اعلیٰ عدالتی جج کے ریمارکس، جن میں بے روزگار اور سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوانوں کو ’’ پیراسائٹس‘‘ اور’’ کاکروچ‘‘ کہا گیا، شاید ایک معمول کی عدالتی آبزرویشن سمجھے گئے ہوں، لیکن یہی الفاظ لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک ایسا استعارہ بن گئے جس نے پورے ملک میں ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی۔
اس واقعے کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ اس احتجاج کی بنیاد کسی بڑی اپوزیشن جماعت، کسی معروف سیاسی خاندان یا کسی روایتی رہنما نے نہیں رکھی۔ امریکہ میں پبلک ریلیشنز میں ماسٹرز کرنے والے نوجوان ابھیجیت ڈپکی نے انہی الفاظ کو احتجاج کی علامت بناتے ہوئے ’’ کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے ایک عوامی تحریک شروع کی۔ ابتدا میں شاید بہت سے لوگوں نے اسے ایک طنزیہ مہم سمجھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ نوجوانوں اور طلبہ کی ایسی آواز بن گئی جسے نظر انداز کرنا ممکن نہ رہا۔ سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی یہ تحریک گلیوں، سڑکوں، تعلیمی اداروں اور قومی میڈیا تک جا پہنچی۔ عوامی دبائو میں اضافہ ہوا، حکومت دفاعی پوزیشن میں آئی اور بالآخر مرکزی وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔
یہ واقعہ صرف بھارت کی سیاست کا ایک باب نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے ہر ملک، خصوصاً پاکستان، کے لیے ایک آئینہ ہے۔ پاکستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ دنیا کی شاید ہی کوئی دوسری قوم ہو جس کے پاس اتنی بڑی نوجوان افرادی قوت موجود ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جس طاقت کو ہماری سب سے بڑی قومی دولت ہونا چاہیے تھا، وہ آج بے روزگاری، غیر معیاری تعلیم، مایوسی، سیاسی تقسیم اور عدم اعتماد کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے ۔ ہمارے نوجوان میں صلاحیت کی کمی نہیں۔ پاکستانی نوجوان دنیا کی بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، عالمی کمپنیوں میں خدمات انجام دے رہا ہے، ٹیکنالوجی، کھیل، کاروبار، صحافت اور فنون میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستانی نوجوان قابل ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا سیاسی اور سماجی نظام اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے؟
بدقسمتی سے اس سوال کا جواب حوصلہ افزا نہیں۔ ہم نے نوجوان کو باشعور شہری بنانے کے بجائے سیاسی کارکن بنانے پر زیادہ توجہ دی۔ ہم نے اسے قومی مسائل پر تحقیق کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر مخالفین کو گالیاں دینے کا ہنر سکھایا۔ ہم نے اسے قانون اور آئین پڑھانے کے بجائے شخصیات کے قصیدے یاد کروا دئیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا نوجوان اکثر یہ تو جانتا ہے کہ اس کا پسندیدہ لیڈر کیا کہہ رہا ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ اس کے حلقے کا رکن اسمبلی گزشتہ پانچ برس میں کتنی بار اسمبلی گیا، کتنے قوانین بنائے، یا اس نے اپنے حلقے کے لیے کیا کام کیا۔
یہی وہ فرق ہے جو باشعور شہری اور جذباتی کارکن کے درمیان ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں نوجوان سیاست کو ملازمت یا جذباتی وابستگی نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہ کسی رہنما سے محبت ضرور کر سکتے ہیں، مگر اس محبت کو عقل پر غالب نہیں آنے دیتے۔ اگر ان کا پسندیدہ سیاست دان غلط فیصلہ کرے تو وہ سب سے پہلے اسی سے سوال کرتے ہیں، کیونکہ ان کی وفاداری کسی شخصیت سے نہیں بلکہ آئین، قانون اور ریاست سے ہوتی ہے۔پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ یہاں اکثر اوقات سیاست دلیل سے زیادہ عقیدت کا نام بن جاتی ہے۔ ایک جماعت کا کارکن اپنے رہنما کی ہر بات کو درست سمجھتا ہے، دوسری جماعت کا کارکن اپنے قائد کو تنقید سے بالاتر مانتا ہے۔ سوشل میڈیا پر دلیل کی جگہ تضحیک، تحقیق کی جگہ افواہ اور مکالمے کی جگہ نفرت نے لے لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اختلاف آہستہ آہستہ سماجی دشمنی میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت موروثی سیاست ہے۔پاکستان میں کئی دہائیوں سے اقتدار مخصوص خاندانوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ ایک نسل جاتی ہے تو دوسری اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ باپ کے بعد بیٹا، بیٹی، بھتیجا یا داماد سیاسی وراثت سنبھال لیتا ہے۔ اصولی طور پر کسی سیاست دان کے خاندان کا فرد سیاست میں آئے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ذہین، دیانتدار اور باصلاحیت نوجوان کو بھی وہی مواقع حاصل ہیں جو ایک سیاسی خاندان کے فرد کو پیدائش کے ساتھ ہی مل جاتے ہیں؟۔
اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ مساوی مواقع کا بھی نام ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا نوجوان اکثر دو انتہائوں کے درمیان کھڑا نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ سیاست سے مکمل بیزار ہو جاتا ہے اور دوسری طرف اگر سیاست میں آتا ہے تو شخصیت پرستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دونوں راستے نقصان دہ ہیں۔ پہلی صورت میں اچھے لوگ میدان چھوڑ دیتے ہیں اور دوسری صورت میں سیاست نظریات کے بجائے شخصیات کی جنگ بن جاتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے بھی نوجوانوں میں جمہوری شعور پیدا کرنے میں وہ کردار ادا نہیں کر سکے جس کی توقع کی جاتی تھی۔ طلبہ یونینز پر طویل پابندی، کیمپس میں علمی مباحث کے فقدان، اور سیاسی تربیت کے بجائے محض انتخابی نعروں نے نوجوانوں کی فکری نشوونما کو محدود کر دیا۔ حالانکہ دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں نہیں دیتیں بلکہ مستقبل کی قیادت بھی تیار کرتی ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں طلبہ سیاست کو ازسرِنو سمجھا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں طلبہ سیاست کا نام آتے ہی تشدد، اسلحہ، ہڑتالیں اور تعلیمی اداروں میں انتشار کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے۔ حالانکہ دنیا کی بیشتر کامیاب جمہوریتوں میں طلبہ سیاست کا مطلب مستقبل کی قیادت کی تیاری، پالیسی سازی پر مباحثہ، اختلافِ رائے کا احترام اور جمہوری اقدار کی تربیت ہے۔ آکسفورڈ، کیمبرج، ہارورڈ، اسٹینفورڈ اور دنیا کی بے شمار جامعات نے ایسے رہنما پیدا کیے جنہوں نے پہلے طالب علم کی حیثیت سے دلیل دینا سیکھی، پھر ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔پاکستان میں بھی ایک زمانہ تھا جب جامعات علمی مباحث کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ اختلاف ہوتا تھا مگر مکالمہ بھی ہوتا تھا۔ نظریات پر بحث ہوتی تھی، معاشی پالیسیوں پر سیمینار منعقد ہوتے تھے، آئین اور قانون پر گفتگو ہوتی تھی۔ رفتہ رفتہ سیاست میں تشدد، اسلحہ اور بیرونی مداخلت نے طلبہ سیاست کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پورا نظام ہی معطل کر دیا گیا۔ اس خلا کو کسی متبادل جمہوری تربیت نے پُر نہیں کیا۔ ایک پوری نسل سیاست کو یا تو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگی یا پھر سوشل میڈیا کی جذباتی جنگوں کو ہی سیاست سمجھ بیٹھی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا نوجوان کا کردار صرف جلسوں میں حاضری لگانا ہے؟ کیا اس کی ذمہ داری صرف جھنڈا اٹھانا اور مخالفین کو سوشل میڈیا پر جواب دینا ہے؟ کیا اس کی سیاسی تربیت صرف اتنی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے پسندیدہ رہنما کی ہر بات پر تالیاں بجائے اور مخالف کی ہر بات کو مسترد کر دے؟، اگر ایسا ہے تو پھر ہم باشعور شہری نہیں بلکہ اندھی وابستگی پیدا کر رہے ہیں۔
جمہوریت کا حسن اختلافِ رائے میں ہے۔ جمہوریت کا حسن سوال پوچھنے میں ہے۔ جمہوریت کا حسن اس بات میں ہے کہ عوام اپنے نمائندوں سے پوچھ سکیں کہ پانچ برس پہلے جو وعدے کیے گئے تھے، ان میں سے کتنے پورے ہوئے؟ اگر کوئی حکومت بہتر کام کرتی ہے تو اسے سراہا جائے اور اگر ناکام رہتی ہے تو اسے ووٹ کے ذریعے تبدیل کیا جائے۔ یہی آئینی اور جمہوری راستہ ہے جو قوموں کو آگے لے جاتا ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ نے شاہین کا تصور پیش کرتے ہوئے نوجوان کو بلندی، خودداری اور مسلسل جدوجہد کا پیغام دیا تھا۔ ان کا نوجوان کسی فرد کا غلام نہیں بلکہ اپنی عقل، اپنے کردار اور اپنے یقین کے بل پر دنیا کا سامنا کرتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے بارہا کہا کہ اپنی صفوں میں اتحاد، ایمان اور نظم پیدا کریں۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ شخصیتوں کی اندھی تقلید کرو۔ ان کی پوری جدوجہد آئین، قانون اور تنظیم کے گرد گھومتی تھی۔
بدقسمتی سے ہم نے ان دونوں عظیم رہنمائوں کے پیغام کا صرف وہ حصہ یاد رکھا جو ہمارے جذبات کو اپیل کرتا تھا، مگر وہ حصہ بھلا دیا جو ہمیں ذمہ داری، نظم و ضبط اور تنقیدی سوچ سکھاتا تھا۔ آج کا پاکستانی نوجوان اگر واقعی تبدیلی چاہتا ہے تو اسے چند بنیادی فیصلے کرنے ہوں گے۔ پہلا فیصلہ یہ کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ ووٹ شخصیت کو نہیں بلکہ کارکردگی، دیانت اور پالیسی کو دے گا۔ تیسرا یہ کہ وہ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے کے بجائے تحقیق اور دلیل کو فروغ دے گا۔ چوتھا یہ کہ وہ مقامی حکومتوں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور عوامی مسائل میں عملی کردار ادا کرے گا، کیونکہ قومی سیاست کی بنیاد ہمیشہ مقامی سطح سے مضبوط ہوتی ہے۔
دنیا کی ہر کامیاب قوم نے اپنے نوجوانوں کو صرف خواب نہیں دئیے بلکہ انہیں ان خوابوں کی تعبیر کا راستہ بھی دکھایا۔ جنوبی کوریا، سنگاپور، ملائیشیا، روانڈا اور کئی دوسرے ممالک اس کی مثال ہیں۔ وہاں تبدیلی کسی ایک مسیحا کے انتظار سے نہیں آئی بلکہ اداروں کی مضبوطی، تعلیم، احتساب اور شہری شعور سے آئی۔
پاکستان بھی اسی راستے پر چل سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ کوئی ایک شخصیت، ایک خاندان یا ایک جماعت اس ملک کے تمام مسائل کا حل نہیں۔ ریاستیں اداروں سے چلتی ہیں، افراد سے نہیں۔ شخصیات آتی ہیں، چلی جاتی ہیں، مگر مضبوط ادارے قوموں کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔
ہمارے نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جذبات وقتی جوش تو پیدا کر سکتے ہیں مگر مستقل تبدیلی علم، کردار، صبر اور مسلسل جدوجہد سے آتی ہے۔ انقلاب کا سب سے محفوظ اور پائیدار راستہ آئین، قانون اور جمہوری عمل سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسی راستے پر چلنے والی قومیں اپنے اختلافات کو تصادم کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بناتی ہیں۔
بھارت میں نوجوانوں کی حالیہ تحریک سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، مگر اس نے ایک حقیقت ضرور واضح کی کہ جب نئی نسل اپنے مستقبل کے کسی مسئلے پر منظم ہو کر آواز اٹھاتی ہے تو اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں رہتا۔ پاکستان کے نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی اصل طاقت کسی شخصیت کے گرد جمع ہونے میں نہیں بلکہ ایک بہتر پاکستان کے تصور پر متحد ہونے میں ہے۔
یہ ملک کسی ایک جماعت کا نہیں، کسی ایک خاندان کا نہیں اور کسی ایک رہنما کی جاگیر بھی نہیں۔ یہ بائیس کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی مشترکہ امانت ہے، اور اس امانت کے سب سے بڑے وارث وہ نوجوان ہیں جو آج کالجوں، یونیورسٹیوں، ورکشاپوں، کھیتوں، فیکٹریوں، دفاتر اور آن لائن دنیا میں اپنے مستقبل کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اگر انہوں نے اپنی توانائی کو علم، تحقیق، دیانت، جمہوری شعور اور قومی مفاد کے لیے وقف کر دیا تو پاکستان کو کوئی طاقت ترقی سے نہیں روک سکتی۔ لیکن اگر وہ شخصیت پرستی، موروثی سیاست، نفرت، تعصب اور اندھی تقلید کے دائرے سے باہر نہ نکل سکے تو پھر آنے والی نسلیں بھی وہی سوال پوچھیں گی جو آج ہم پوچھ رہے ہیں۔
فیصلہ نوجوانوں نے کرنا ہے کہ وہ صرف تاریخ کے تماشائی بن کر رہیں گے یا تاریخ لکھنے والوں میں اپنا نام شامل کریں گے۔ قوموں کی تقدیر ایوانوں میں بیٹھے چند افراد نہیں بدلتے، بلکہ وہ نوجوان بدلتے ہیں جو سوچنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، سوال کرنے کی جرات رکھتے ہیں، اختلاف کو برداشت کرنے کا ظرف رکھتے ہیں اور اپنے وطن سے محبت کو کسی فرد یا جماعت کی محبت سے بڑا سمجھتے ہیں۔
شاید پاکستان کی حقیقی تبدیلی کا سفر بھی اسی دن شروع ہوگا جب اس ملک کا نوجوان یہ اعلان کرے گا کہ میری وفاداری کسی شخصیت سے نہیں، پاکستان کے آئین، اس کے اداروں اور اس کے مستقبل سے ہے۔ یہی اعلان ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button