سرکاری ملازمین اور حکومتی بے حسی

سرکاری ملازمین اور حکومتی بے حسی
تحریر: رفیع صحرائی
ریاست کی مضبوطی صرف بلند و بالا عمارتوں، ترقیاتی منصوبوں اور اعداد و شمار کی چمک دمک سے نہیں ہوتی بلکہ اس مضبوطی کا اصل انحصار ان لوگوں پر ہوتا ہے جو سرکاری اداروں کو چلانے، عوام کو خدمات فراہم کرنے اور نظامِ حکومت کو رواں رکھنے میں اپنی زندگیاں کھپا دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی طبقہ آج سب سے زیادہ مایوسی، بے بسی اور معاشی دبائو کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
بجٹ 27۔2026 میں پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7فیصد کا معمولی اضافہ اور پنشنرز کے لیے3.5فیصد کے نہایت محدود ریلیف نے لاکھوں خاندانوں کو ایک نئی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ ایسا وقت ہے جب آٹے، گھی، چینی، بجلی، گیس، ادویات، بچوں کی تعلیم اور روزمرہ ضروریات کی قیمتیں مسلسل آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں چند سو یا چند ہزار روپے کا اضافہ کسی حقیقی ریلیف سے زیادہ ایک رسمی کارروائی محسوس ہوتا ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں یہ معمولی اضافہ حکومت پنجاب کی حقائق سے چشم پوشی ہی نہیں، بے حسی کا بھی اظہار ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ایک نوجوان برسوں کی محنت، اعلیٰ تعلیم، مقابلے کے امتحانات اور طویل جدوجہد کے بعد سرکاری ملازمت حاصل کرتا ہے۔ وہ اس امید کے ساتھ نظام کا حصہ بنتا ہے کہ ریاست اس کے مستقبل، عزتِ نفس اور معاشی تحفظ کی ضامن ہوگی۔ مگر جب اسی ملازم کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض، اضافی کام یا احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑے تو سوال صرف تنخواہ کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظام کی ترجیحات پر اٹھتا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک صورتِ حال تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نظر آتی ہے۔ ایک استاد جو نسلوں کی تربیت کرتا ہے، ایک ڈاکٹر جو انسانی جانیں بچاتا ہے، ایک پروفیسر جو قوم کے فکری مستقبل کی تعمیر کرتا ہے، اگر وہی معاشی مسائل کے بوجھ تلے دب کر اپنی عزتِ نفس مجروح محسوس کرے تو یہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہے۔ قومیں اپنے اساتذہ اور معالجین کو عزت دے کر ترقی کرتی ہیں، انہیں مالی پریشانیوں میں مبتلا کرکے نہیں۔ ملازمین کی مجبوری اور بے چارگی دیکھیے، وہ ایک سال سے سڑکوں پر ہیں۔ گزشتہ سال بھی بجٹ کے موقع پر پنجاب حکومت نے ان کا استحصال کیا تھا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ دوسری طرف حکومت کی بے حسی دیکھیے کہ لگتا ہے وہ ویاست دانوں کے علاوہ کسی کو انسان ہی نہیں سمجھتی۔
پنشنرز کی حالت اس سے بھی زیادہ قابلِ رحم ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی جوانی اور صلاحیتیں سرکاری اداروں کے لیے وقف کر دیں، بڑھاپے میں چند فیصد اضافے کے منتظر رہ جاتے ہیں۔ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، علاج معالجے کے اخراجات اور روزمرہ زندگی کی مشکلات ان کے لیے پہلے ہی ایک کڑا امتحان ہیں۔ ایسے میں محض 3.5فیصد معمولی اضافہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کی محرومی کا احساس مزید گہرا کر دیتا ہے۔
حکومتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی فیصلے صرف بجٹ کی کتابوں میں درج اعداد نہیں ہوتے بلکہ ان کے اثرات لاکھوں گھروں کے چولہوں، بچوں کے تعلیمی مستقبل اور بزرگوں کی دوائوں تک پہنچتے ہیں۔ جب سرکاری ملازم خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تو اس کے اثرات انتظامی کارکردگی، عوامی خدمات اور ریاستی اعتماد پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سرکاری ملازمین کے مطالبات کو اکثر محض احتجاج یا دبا کی سیاست سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ ان کا بنیادی مطالبہ زندگی گزارنے کے قابل آمدن کا حصول ہے۔ اگر مہنگائی کی شرح دو ہندسوں میں ہو اور تنخواہوں میں اضافہ اس کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہو تو حقیقی معنوں میں ملازمین کی آمدن بڑھتی نہیں بلکہ کم ہو جاتی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے سرکاری ملازمین، اساتذہ، ڈاکٹروں اور پنشنرز کے نمائندوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرے۔ بجٹ سازی کے عمل میں ان طبقات کی رائے کو شامل کیا جائے اور تنخواہوں و پنشن میں اضافے کا تعین زمینی حقائق اور مہنگائی کی شرح کے مطابق کیا جائے۔
ریاست اور ملازمین کا رشتہ محض آجر اور اجیر کا نہیں بلکہ اعتماد اور ذمہ داری کا تعلق ہے۔ جب یہ اعتماد کمزور پڑ جائے تو ادارے بھی کمزور ہونے لگتے ہیں۔ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں صرف سڑکوں اور پلوں سے نہیں بلکہ انسانوں سے بنتی ہیں، اور جو ریاست اپنے محنت کش، استاد، ڈاکٹر اور پنشنر کو مایوسی کے اندھیروں میں چھوڑ دے، وہاں ترقی کے دعوے دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ عوامی احساسات کو سمجھے، معاشی مشکلات کا ادراک کرے اور ایسے فیصلے کرے جو محرومی نہیں بلکہ امید پیدا کریں۔ کیونکہ بھوک، بے بسی اور مایوسی کبھی کسی معاشرے کو استحکام نہیں دے سکتیں، جبکہ انصاف، عزت اور معاشی تحفظ ہی ایک مضبوط اور خوشحال ریاست کی حقیقی بنیاد ہوتے ہیں۔





