Column

پنجاب: عوام دوست اور متوازن بجٹ

پنجاب: عوام دوست اور متوازن بجٹ
پنجاب حکومت کی جانب سے مالی سال 27۔2026کا 5ہزار 903ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کیا جانا بلاشبہ صوبے کی معیشت، ترقیاتی ترجیحات اور عوامی فلاح کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ موجودہ معاشی چیلنجز، مہنگائی کے دبا اور سماجی ضروریات کے تناظر میں یہ بجٹ ایک ایسے وژن کی عکاسی کرتا ہے جس میں ترقی، سماجی تحفظ اور ادارہ جاتی بہتری کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس بجٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7فیصد اور پنشن میں 3.5فیصد اضافہ ہے۔ مہنگائی کے موجودہ دور میں یہ اقدام نہ صرف ملازمین کے معاشی دبا کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ان کی قوتِ خرید کو بھی کسی حد تک سہارا دے گا۔ ایک بڑی سرکاری افرادی قوت کے لیے یہ اضافہ مجموعی معاشی سرگرمیوں پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ جب گھریلو آمدن میں بہتری آتی ہے تو مارکیٹ میں طلب بڑھتی ہے جو بالآخر معاشی چکر کو متحرک رکھتی ہے۔ بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو دی جانے والی توجہ بھی قابلِ تحسین ہے۔ تعلیم کے لیے 900 ارب روپے سے زائد اور صحت کے لیے 680ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت انسانی ترقی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھ رہی ہے۔ یہ دونوں شعبے کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں اور ان میں سرمایہ کاری دراصل مستقبل کی معیشت میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔ اگر ان رقوم کا موثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جائے تو اس کے ثمرات طویل مدت میں پورے صوبے کو مل سکتے ہیں۔ اسی طرح سماجی تحفظ کے لیے 25ارب روپے کی مختص رقم بھی ایک مثبت اقدام ہے۔ کم آمدن والے طبقات، محروم اور کمزور طبقوں کے لیے ایسے پروگرامز معاشرتی عدم مساوات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بجٹ میں رمضان پیکیج، یونیورسٹی گرانٹس، طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم، الیکٹرک اسکوٹیز اور اسکالرشپ پروگرام جیسے اقدامات بھی نوجوانوں اور متوسط طبقے کے لیے ایک واضح ریلیف پیکیج کی صورت سامنے آئے ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف تعلیم کے فروغ میں مددگار ہوں گے بلکہ ڈیجیٹل اور جدید مہارتوں کی طرف نوجوانوں کو راغب کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ لوکل گورنمنٹ اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے لیے 115ارب روپے کی تجویز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ حکومت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مقامی ترقی کے ماڈل کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ اسی طرح زراعت، آبپاشی، لائیو اسٹاک اور فشریز جیسے شعبوں کے لیے مختص رقوم دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش ہیں، جو پنجاب جیسے زرعی صوبے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ پولیس، عدلیہ اور قانون و پارلیمانی امور کے لیے بجٹ مختص کرنا ادارہ جاتی استحکام کی طرف ایک اور قدم ہے۔ ایک مضبوط قانونی اور انتظامی ڈھانچہ ہی سرمایہ کاری، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر ان شعبوں میں اصلاحات کے ساتھ وسائل کا درست استعمال کیا جائے تو گورننس کے معیار میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔ اس بجٹ میں ’’ ستھرا پنجاب پروگرام‘‘ اور دیگر شہری ترقیاتی منصوبوں کی لیے مختص رقوم بھی شہری سہولتوں اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہیں۔ جدید شہری نظام میں صفائی، ٹرانسپورٹ اور ہائوسنگ بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں، اور ان پر توجہ ایک ترقی یافتہ صوبے کی سمت اشارہ کرتی ہے۔ اگر مجموعی طور پر اس بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک متوازن اور عوام دوست حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تو دوسری طرف سماجی تحفظ اور انسانی ترقی کے شعبوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ یہی توازن کسی بھی موثر بجٹ کی اصل خوبی ہوتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی بجٹ کی کامیابی کا انحصار صرف اعداد و شمار اور اعلان کردہ رقوم پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے عملی نفاذ پر ہوتا ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، میرٹ اور موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تو یہ بجٹ واقعی عوامی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کا یہ بجٹ ایک امید افزا دستاویز ہے جو اگر درست سمت میں نافذ ہو تو صوبے کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عوامی ریلیف، نوجوانوں کے لیے مواقع اور سماجی تحفظ کے اقدامات اس بجٹ کو ایک متوازن اور مستقبل بین دستاویز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
خسرے سے درجنوں بچوں کی اموات
سندھ میں خسرہ کی وبا کا پھیلا اور درجنوں بچوں کی اموات کی خبر افسوس ناک مگر سنجیدہ صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ محض ایک صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے کہ قابلِ ویکسین بیماریوں کے باوجود بچے آج بھی بڑی تعداد میں متاثر ہورہے ہیں۔ صرف سندھ میں دو ہزار سے زائد کیسز اور درجنوں اموات اس امر کا ثبوت ہیں کہ حفاظتی نظام میں اب بھی خلا موجود ہے۔ خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو بروقت ویکسی نیشن کے ذریعے آسانی سے روکی جاسکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آگاہی کی کمی، غلط فہمیوں اور بعض اوقات سہولتوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بچے حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی غفلت اس وبا کے پھیلا کی بنیادی وجہ بنتی ہے۔ یہ صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ حکومت اور صحت کے ادارے اپنی حکمتِ عملی کو مزید موثر اور فعال بنائیں۔ پاکستان بھر میں ایک مربوط، مضبوط اور پیشگی حفاظتی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ ہر بچے تک ویکسین کی بروقت رسائی یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ اس مقصد کے لیے نیشنل امیونائزیشن پروگرام کو مزید فعال، ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جائے تاکہ کوئی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہ سکے۔ دیہی علاقوں، کچی آبادیوں اور دور دراز علاقوں میں موبائل ویکسی نیشن یونٹس کا قیام بھی ناگزیر ہے تاکہ رسائی کے مسائل ختم کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہمات کو بھی مزید موثر بنایا جائے۔ والدین کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ویکسی نیشن کوئی اختیار نہیں بلکہ بچوں کی زندگی کا تحفظ ہے۔ مساجد، اسکولوں اور میڈیا کے ذریعے مسلسل آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور حفاظتی ٹیکوں پر اعتماد بڑھے۔ صحت کے شعبے میں ڈیٹا بیس سسٹم کو بہتر بنا کر ایسے بچوں کی فوری نشان دہی کی جائے جو ویکسین سے محروم ہیں۔ ابتدائی سطح پر بیماریوں کی نگرانی اور فوری ردعمل کا نظام قائم کیا جائے تاکہ وبا پھیلنے سے پہلے ہی اس پر قابو پایا جا سکے۔ خسرہ جیسی بیماریوں کا پھیلائو دراصل ہمارے نظامِ صحت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں مزید خطرناک وبائیں بھی جنم لے سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، صحت کے ادارے اور معاشرہ مل کر ایک ایسا مضبوط حفاظتی ڈھانچہ تشکیل دیں جو ہر بچے کو بیماریوں سے محفوظ رکھ سکے۔

جواب دیں

Back to top button