سیاسی جماعتوں سے مایوس عوام

سیاسی جماعتوں سے مایوس عوام
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے عوام سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔ اس مایوسی کی سب سے بڑی وجہ مہنگائی اور بے روز گاری ہے جس ختم کرنے میں سیاسی جماعتیں ناکام ہو چکی ہیں۔ گو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اقتدار نہیں ملا ہے مگر پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کئی بار اقتدار کے مزے لے چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اگر وزارتیں نہیں لیں تو اعلیٰ عہدوں پر اپنے رہنمائوں کو فائز کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری صدر مملکت کے منصب پر دوسری مرتبہ فائز ہیں۔ میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ پر نہیں ہیں لیکن ان کے بھائی اور ہونہار بیٹی حکومت میں ہیں۔ یہ بات ہر شخص جانتا ہے ملک کے عوام کے اس وقت دو ہی بڑے مسئلے ہیں ایک مہنگائی اور دوسرا بے روزگاری ہے۔ میاں صاحب نے کم از کم وزارت اعلیٰ کے دور میں ارکان اسمبلی کو نوازنے کے لئے ان کے بیٹوں اور قریبی رشتہ داروں کو بغیر میرٹ کے تحصیل دار، نائب تحصیل دار اور تھانیدار بھرتی کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو پارٹی ورکرز کو خوب نوازا مگر عام شہریوں کے اولادیں حصول روزگار میں در بدر ہیں۔ پی ٹی آئی کی بات اس لئے نہیں کروں گا اسے بہت کم وقت ملا اور جو ملا وہ طاقتور حلقوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ مجھے یاد ہے ایک نجی چینل کے پروگرام میں عمران خان کہہ رہے تھے انہیں احتساب نہیں کرنے دیا گیا اگر انہیں احتساب نہیں کرنے دیا تو پھر باقی کام کیا کرنے دیئے ہوں گے؟۔ دراصل سیاسی رہنمائوں نے غریب عوام کو جھوٹے وعدوں پر ٹرخایا جب کہ عملی طور پر نہ بے روز گاری نہ ہی مہنگائی کے خاتمے کے لئے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے اقدامات کئے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو ملک کے عوام ان دونوں جماعتوں سے مایوس ہیں۔ ایک اردو معاصر میں جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر نصر اللہ رندھاوا کی خبر نظر سے گزری جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے وفاقی دارالحکومت سے پچاس ہزار افراد نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی ہے جو سیاسی جماعتوں سے عوام کی مایوسی کا واضح اظہار ہے۔ آپ دیکھیں پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ نون دونوں جماعتوں کے رہنمائوں نے اپنے خلاف مقدمات جن لوگوں کی آشیرباد سے ختم کرائے انہی کے بل بوتے پر اقتدار میں بیٹھے ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں انتخابات کے نام پر جو کھلواڑ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے مبینہ طور پر راتوں رات فارم 47بدل دیا گیا۔ کمشنر راولپنڈی کی پریس کانفرنس کے بعد کسی ثبوت کی ضرورت تھی مگر سب کچھ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ عوام ووٹ ڈالنے سے بھی گریزاں ہیں جب انہیں اس بات کا پوری طرح ادراک ہے ان کے ووٹ کی کوئی قدروقیمت نہیں لہذا وہ سیاسی جماعتوں سے سخت مایوس ہیں۔ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی عروج پر ہے کسی سیاسی جماعت کو مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کی توفیق نہیں ہوئی۔ جماعت اسلامی جو ایک مذہبی جماعت ہے جس نے غریب عوام کے لئے ملک بھر میں فلاحی منصوبے شروع کئے ہوئے ہیں خصوصا علاج معالجہ کے لئے ان کے ہسپتال اور دیگر منصوبے قابل تقلید ہیں۔ مجھے خود تجربہ ہوا ہے ایک غریب شخص کی آنکھوں میں موتیا آگیا جس کے بعد میں نے اپنے حلقے کے سابق ناظم سید ارشد فاروق سے درخواست کی جن کے تعاون سے ایک بے روزگار اور بے سہارا شہری کی دونوں آنکھوں کا آپریشن مفت ہو گیا۔ موجودہ حکومت نے آئینی ترامیم کرکے اعلی عدلیہ کے پر کاٹ دیئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے رہنمائوں نے اپنے خلاف مقدمات قانون میں ترامیم کرکے ختم کرا لئے ہیں۔ ملک کے عوام اتنے سادہ نہیں انہیں ہر چیز کا پوری طرح ادراک ہے وہ ان دونوں جماعتوں سے پوری طرح مایوس ہیں ۔ یہ ان کی دونوں جماعتوں سے مایوسی کا شاخسانہ تھا لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے اور وہ ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کا ابھری ہے۔ گو بانی پی ٹی آئی قید و بند میں ہے مگر عوام اس کے ساتھ ہیں اگر شفاف الیکشن ہو تو ملک کی آبادی کی اکثریت اسی جماعت کو ووٹ دے گی۔ گو پی ٹی آئی نے اپنے دور میں ڈیلیور نہیں کیا مگر عوام کا عمران خان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ جیسا کہ ایک دور میں پیپلز پارٹی کا نعرہ تھا بھٹو آئے گا راج چلائے گا آج یہی نعرہ عمران خان کی جماعت پر صادق آتا ہے۔ ملک میں مہنگائی بلندیوں کو چھو رہی ہے حکومت مہنگائی کم ہونے کے جھوٹے دعویٰ کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس کے امیر نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی کال دی جس کے بعد حکومت بجلی کے نرخ کم کرنے پر مجبور ہوگئی جب کہ کسی اور سیاسی جماعت کو توفیق نہیں ہوئی وہ مہنگائی اور پٹرولنگ مصنوعات کے خلاف احتجاج کرتی۔ اب جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پٹرول کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کی کال دے رکھی ہے بدقسمتی دیگر سیاسی جماعتوں نے چپ سادھ رکھی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اقتدار کو اوڑنا بچھونا بنا رکھا ہے انہیں عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں اگر سیاسی جماعتوں کو عوام کے مسائل کا ادراک ہوتا وہ مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر ہوتیں۔ تعجب ہے وزیراعظم شہباز شریف امریکہ ایران کی ثالثی کے لئے بھاگ دوڑ میں لگے رہے لیکن کئی عشروں سے بلوچستان دہشت گردی کا شکار ہے وہاں کے ناراض بلوچوں کو راضی کرنے کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف اور عمران خان اگر بلوچستان کے دورے پر گئے بھی تو کوئٹہ سے واپس لوٹ آئے اگر وہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کا دورہ کرتے انہیں وہاں کے عوام کی مشکلات کا علم ہوتا۔ بلوچستان کے غریب عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہے چاغی میں پانی ریل گاڑی کے ذریعے دوسرے علاقوں سے لایا جاتا ہے۔ صوبے میں لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے مگر ہمارے وزیراعظم کو امریکہ، ایران کی جنگ کے خاتمے کی فکر لاحق رہی۔





