CM RizwanColumn

امن پسند فولادی اعصاب جیت گئے

جگائے گا کون؟
امن پسند فولادی اعصاب جیت گئے
تحریر: سی ایم رضوان
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جمعہ کو جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے پر دستخطوں کی تقریب کا میزبان ہو گا۔ پیر کو قومی اسمبلی سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کی تاریکی کے بعد امن کا سورج طلوع ہو چکا ہے کیونکہ ایران اور امریکہ نے تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کر دی ہے۔ امن معاہدے پر پہنچنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس معاہدے کی کاوشوں میں قطر کے امیر تمیم بن حمد ال ثانی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کے شکر گزار ہیں۔ چینی صدر نے ابھی اس معاہدے کی پیش رفت میں اہم تعاون کیا۔ پاکستان کو خطے میں امن قائم کرانے میں جو عزت آج ملی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کے بقول یہ صرف دو ممالک کا معاہدہ نہیں بلکہ امن اور مکالمے کی فتح ہے۔ جس کے نتیجے میں آج پوری دنیا اس عظیم دن کی گواہ بن رہی ہے۔
اکثر لوگ کہہ رہے ہیں کہ حالیہ ایران امریکہ امن معاہدہ ( ایم او یو) میں ایران جیت گیا ہے جبکہ کچھ لوگ اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ سپر پاور کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔ اس حوالے سے درست بات تو یہی ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی سفارتی معاہدے، خصوصاً امریکہ، ایران جیسے کٹر حریفوں کے درمیان ہونے والی اس ڈیل کو کسی ایک فریق کی مکمل ‘’’ ہار‘‘ یا ’’ جیت‘‘ کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے چند مفادات کی جیت کا فارمولا ہے، جہاں دونوں ممالک کو اپنے کچھ بڑے اہداف حاصل ہوئے اور کچھ پر سمجھوتہ کرنا پڑا۔
تاہم، اگر زمینی حقائق، پابندیوں کے دبائو اور خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے، تو یہ کہنا بجا ہو گا کہ ایران اس ڈیل میں ایک واضح فاتح کے طور پر ابھرا ہے۔ ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ شدید ترین معاشی اور فوجی دبا کے باوجود جھکنے کی بجائے اپنی شرائط پر معاہدہ کرنے کی پوزیشن میں رہا۔ جیسا کہ ایران کا سب سے بڑا ہدف معاشی تنہائی کا خاتمہ تھا۔ اس ڈیل کے نتیجے میں ایران پر عائد سخت ترین اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار ختم ہوں گی، جس سے وہ اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں کھل کر بیچ سکے گا اور اس کے منجمد اربوں ڈالر کے اثاثے بحال ہوں گے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے اس ڈیل سے قبل ایران کو سیکڑوں ملین ڈالر نقد ادا کئے ہیں تاکہ وہ اپنے نقصانات کا ازالہ کر سکے۔ مزید یہ کہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ اس نے سخت بین الاقوامی نگرانی ( آئی اے ای اے انسپکشن) کو تو تسلیم کر لیا ہے، لیکن تکنیکی مہارت، سینٹری فیوجز اور پرامن مقاصد کے لئے یورینیئم افزودگی کا اپنا بنیادی حق برقرار رکھا ہے۔ یہ امریکہ کے اس پرانے مقف کی شکست ہے کہ ایران کا جوہری نیٹ ورک مکمل تباہ کیا جائے۔ نیز یہ کہ امریکہ اور اسرائیل کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ ایران مڈل ایسٹ ( لبنان، یمن، شام، عراق) میں اپنی حامی تنظیموں کی پشت پناہی چھوڑ دے۔ ایران نے اس معاملے پر بھی مکمل طور پر پسپائی اختیار نہیں کی بلکہ اپنی سکیورٹی لائنز کو برقرار رکھتے ہوئے ڈیل کی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے کی دھمکی اور اپنی میزائل طاقت کا کامیاب مظاہرہ کر کے امریکہ کو یہ بھی باور کروایا ہے کہ ایران پر حملہ عالمی معیشت اور خود امریکہ کے لئے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنے گا۔ اسی عسکری طاقت نے امریکہ کو میز پر بیٹھنے پر مجبور کیا تھا۔ اس سب کے باوجود یہ کہنا کہ امریکہ مکمل طور پر ’’ ہار‘‘ گیا، درست نہیں ہو گا کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ملک کے لئے چند اہم مقاصد حاصل کیے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹرمپ انتظامیہ کا سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ مڈل ایسٹ کی جنگ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو تباہ کن حد تک بڑھا دے گی، جس سے خود امریکہ میں مہنگائی کا طوفان آتا۔ جنگ ٹال کر امریکہ نے اپنی معیشت کو بچایا۔ اس ڈیل کا دوسرا بڑا فائدہ ٹرمپ انتظامیہ کو یہ ہوا ہے کہ امریکہ اپنے عوام کو یہ دکھانے میں کامیاب رہا کہ اس نے ایران کو جوہری بم بنانے سے ( کم از کم نگرانی کے فریم ورک کے ذریعے) روک دیا ہے۔ امریکہ نے یہ فائدہ بھی حاصل کیا ہے کہ اس ڈیل کے بعد خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں پر منڈلاتا ہوا ایرانی میزائلوں کا خطرہ ٹل گیا ہے یعنی اگرچہ دونوں فریقین نے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر معاہدہ کیا ہے لیکن سیاسی اور اخلاقی طور پر پلہ ایران کا ہی بھاری رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی سپر پاور ( امریکہ) اور اس کے اتحادی اسرائیل نے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے انتہائی دبا کی پالیسی اپنائی ہوئی تھی لیکن ایران نے ان تمام مہمات، پابندیوں اور فوجی خطرات کا کامیابی سے مقابلہ کیا، اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کی امریکی کوششوں کو ناکام بنایا اور بالآخر امریکہ کو مجبور کیا کہ وہ اسے خطے کی ایک تسلیم شدہ اور ناگزیر طاقت مان کر اس کے ساتھ برابری کی سطح پر معاہدہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اس ڈیل سے شدید ناخوش ہے، کیونکہ وہ اسے ایران کی تزویراتی فتح قرار دے رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ ڈیل یا تاریخی امن معاہدہ بلاشبہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک تباہی سے بچانے کی جانب ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ اس نازک اور طویل ترین ثالثی کے عمل میں پاکستان، خصوصاً چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا کردار کلیدی رہا ہے، جن کی فولادی اعصاب کا اعتراف بین الاقوامی سفارتی حلقوں اور ملکی سیاست دانوں نے بھی بارہا اور دیانتداری و غیر جانب داری سے کیا ہے۔ جنرل عاصم منیر کے فولادی اعصاب کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایران امریکہ جنگ بندی سے لے کر حتمی ڈیل تک کے سفر اور اس دوران پیش آنے والی اعصاب شکن تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے وہ ہمیشہ پر عزم، بیباک اور مثر نظر آئے۔ مارچ اور اپریل 2026ء کے دوران جب امریکہ، ایران جنگ شدت اختیار کر چکی تھی اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی معیشت خطرے میں تھی، تو امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو ثالثی کے لئے متحرک کیا۔ 5اپریل 2026 ء کو جنرل عاصم منیر اور پاکستانی حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ (بشمول نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف) کی طرف سے ایک 15نکاتی فریم ورک ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی تک پہنچایا۔ یوں 8اپریل کو پاکستان کی انتھک کوششوں کے بعد دونوں ممالک دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر راضی ہوئے اور ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔
اس جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کے لئے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں تاریخی مذاکرات کا انعقاد ہوا۔ یہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ امریکہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت ( امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف) ایک میز پر براہِ راست بات چیت کے لئے بیٹھے۔ جنرل عاصم منیر، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار پر مشتمل پاکستانی ٹیم نے 21گھنٹے طویل جاری رہنے والے ان اعصاب شکن مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کی، تاکہ فریقین کے درمیان موجود گہرے شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔ دوسری جانب اس امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں اور اسرائیل کا شیطانی کردار بھی پورے زور شور، تباہ کاریوں اور سازشی حشر سامانیوں کے ساتھ جاری رہا۔ یہی نہیں بلکہ ثالثی کے اس پورے عمل کے دوران اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے کے بعض دیگر عناصر کی جانب سے بھی بار بار ایسے اقدامات کیے گئے جن کا مقصد اس امن معاہدے کو ناکام بنانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی 8اپریل کو جنگ بندی کا اعلان ہوا، اسرائیل نے چند ہی منٹ میں جنوبی لبنان اور بیروت پر 100سے زائد فضائی حملے کر دیئے ( جسے آپریشن ایٹرنل ڈارکنس کا نام دیا گیا)۔ ایران اور پاکستانی ثالثوں کا موقف تھا کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، جبکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کا پابند نہیں ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کو اشتعال دلا کر معاہدے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا تھا۔ ایران کے اندر ڈرون حملے بھی ہوئے جنگ بندی کے فوری بعد ایران کے شہروں تہران، اصفہان اور لار کے قریب اسرائیل کے مشکوک ڈرونز اور فضائی خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، تاکہ تہران کو دوبارہ میزائل داغنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس سارے عرصے کے دوران ایران کو خدشہ تھا کہ یہ مذاکرات محض ایک جال ہیں، کیونکہ ماضی میں بھی جب مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں پہنچتے تو اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے ایران یا اس کے کسی اتحادی پر حملے کر دیئے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ مئی 2026ء کے وسط میں یہ ڈیل اس وقت شدید خطرے میں پڑ گئی جب صدر ٹرمپ نے ایرانی تجاویز کو ناپسند کرتے ہوئے کہا کہ ’’ معاہدہ لائف سپورٹ پر ہے‘‘ اور امریکہ نے دوبارہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی دھمکی دی۔ ایسے نازک موڑ پر جنرل عاصم منیر نے مئی کے آخری ہفتے میں تہران کا اہم دورہ کیا۔ انہوں نے ایرانی سپہ سالاروں اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں اور انہیں قائل کیا کہ وہ خطے کے وسیع تر مفاد میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی راستہ بند نہ کریں۔ پاکستان نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنمائوں کے ساتھ مل کر واشنگٹن پر بھی دبائو برقرار رکھا۔ ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر متوقع فوجی حملے کو موخر کیا اور مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے۔ مہینوں کی اس پسِ چلمن سفارت کاری، اسرائیل کی مسلسل رکاوٹوں کے سامنے پاکستانی وزیر اعظم، فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم کے فولادی اعصاب کا مظاہرہ کرنے اور دونوں فریقین کے درمیان مسلسل پل کا کردار ادا کرنے کے بعد بالآخر کامیابی حاصل ہوئی اور 12جون 2026ء کو امریکہ اور ایران نے جنگ کے باضابطہ خاتمے، جوہری پروگرام کی سخت نگرانی، پابندیوں میں مرحلہ وار ریلیف اور آبنائے ہرمز کی مستقل سکیورٹی کے حوالے سے ایک تاریخی فریم ورک پر اتفاق کر لیا۔ اب اس معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب جمعہ 19جون 2026ء کو سوئٹزر لینڈ میں طے پائی ہے۔ پاکستانی قیادت بشمول بلاول بھٹو، صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس کامیابی پر مسلح افواج اور جنرل عاصم منیر کی بصیرت کو سراہا ہے، جنہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو ایک ہولناک علاقائی جنگ کے شعلوں میں جلنے سے بچا لیا ہے۔
بات ہو رہی تھی اس ڈیل کے تناظر میں جیت کی تو ہم تو یہ کہیں گے کہ اس ڈیل کے ڈن ہونے میں دراصل امن کی فتح کار فرما ہے جو کہ دراصل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم کے فولادی اعصاب میں جلوہ گر رہی جس نے دنیا کو نہ صرف جنگ کی تباہی سے بچا لیا ہے بلکہ تیل کی دولت سے مالامال ایران جیسے ملک کو امریکی پابندیوں سے آزاد کروا کر گویا خطہ کی معیشت کو عالمی جبر کے پنجوں سے آزاد کروا لیا ہے۔ کوئی بھی شخص محض سیاسی مخالفت کی بنا پر اس رائے سے اختلاف کر سکتا ہے مگر غیر جانبدارانہ رائے یہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button