قصہ چوتھائی صدی کا۔۔۔

قصہ چوتھائی صدی کا۔۔۔
شکیل امجد صادق
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اکیسویں صدی میں نہیں بلکہ کسی ایسی تاریک صدی میں زندہ ہیں جہاں بھوک جرم نہیں، غربت تقدیر ہے، انصاف خواب ہے، بیماری نصیب ہے، مہنگائی معمول ہے اور انسان کی عزت اس کے کردار سے نہیں بلکہ اس کی جیب کے وزن سے ناپی جاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس دور میں تلواریں تھیں اور آج کمپیوٹر، موبائل فون اور مصنوعی ذہانت ہے۔ ظاہری ترقی نے دنیا کو بدل دیا، مگر عام پاکستانی کی زندگی کے بنیادی مسائل وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔
پاکستان اس خواب کی تعبیر تھا جہاں ہر شہری کو عزت، انصاف، روزگار اور مساوی مواقع ملنے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا تھا جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، اقلیتیں محفوظ ہوں، میرٹ کا بول بالا ہو اور ریاست کمزور کا سہارا بنے۔ لیکن آزادی کے کئی عشرے بعد ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہم اس خواب کے قریب پہنچے یا اس سے مزید دور ہوتے چلے گئے؟
آج ایک مزدور صبح سورج نکلنے سے پہلے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی امید لے کر گھر سے نکلتا ہے، مگر شام کو جب واپس آتا ہے تو اس کی جیب میں اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ اپنے بچوں کی خواہش کے مطابق پھل خرید سکے۔ ایک کسان اپنی فصل اگاتا ہے، مگر منافع کسی اور کی جیب میں جاتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم مہنگائی کے ہاتھوں بے بس ہے، جبکہ روزانہ دیہاڑی کرنے والا مزدور تو صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔
مہنگائی نے ہر گھر کی چولہے کو متاثر کیا ہے۔ آٹا، چینی، دال، سبزی، بجلی، گیس، ادویات، بچوں کی فیسیں، ٹرانسپورٹ، زندگی کا ہر شعبہ مہنگا ہو چکا ہے۔ تنخواہیں چند فیصد بڑھتی ہیں، لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ عام آدمی کی زندگی گویا حساب کی ایک ایسی کاپی بن چکی ہے جس میں آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔
غربت صرف مالی مسئلہ نہیں، یہ انسان کی خودداری پر بھی حملہ کرتی ہے۔ وہ باپ جو اپنی اولاد کی تعلیم کا خرچ نہ اٹھا سکے، وہ ماں جو دوائی نہ خرید سکے، وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھرے، ان سب کی خاموش آہیں کسی بھی معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونی چاہئیں۔
تعلیم کو ترقی کی کنجی کہا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں یہی کنجی سب کے پاس نہیں۔ ایک طرف جدید تعلیمی ادارے ہیں جہاں لاکھوں روپے فیسیں ادا کی جاتی ہیں، دوسری طرف ایسے اسکول بھی ہیں جہاں بچوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں تک موجود نہیں۔ جب تعلیم دو طبقوں میں تقسیم ہو جائے تو پھر معاشرہ بھی دو حصوں میں بٹ جاتا ہے۔
صحت کا شعبہ بھی ایک تلخ حقیقت بیان کرتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولتوں کی کمی اور نجی ہسپتالوں کے بھاری اخراجات نے غریب آدمی کو بے بس کر دیا ہے۔ کئی خاندان صرف علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنا سب کچھ بیچ دیتے ہیں۔ کیا ایک فلاحی ریاست میں علاج صرف دولت مندوں کا حق ہونا چاہیے؟
سب سے زیادہ خطرناک بیماری شاید ڈپریشن اور بے یقینی ہے۔ نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار نہ ملنے پر مایوسی کا شکار ہیں۔ قرضوں میں ڈوبے خاندان، کاروبار کی مشکلات اور مستقبل کا خوف لاکھوں لوگوں کی ذہنی صحت کو متاثر کر رہا ہے۔ افسوس کہ ہم جسمانی بیماریوں پر تو بات کرتے ہیں، مگر ذہنی اذیت کو اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
طبقاتی نظام ہماری سماجی ساخت کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ایک طبقے کے لیے ہر دروازہ کھلا ہے اور دوسرے کے لیے ہر راستہ بند۔ قانون، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف تک رسائی بھی اکثر حیثیت کے مطابق بدل جاتی ہے۔ یہ احساسِ محرومی کسی بھی قوم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سرمایہ داری اگر انسانی اقدار سے خالی ہو جائے تو محنت کش صرف ایک مشین بن کر رہ جاتا ہے۔ محنت کسی اور کی خوشحالی پیدا کرتی ہے، جبکہ مزدور اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی ترستا رہتا ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم معاشرتی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ہوگا۔ صرف ریاست یا حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر ہم اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ رشوت دینے والا بھی ہم میں سے ہے، ٹیکس چوری کرنے والا بھی، قانون توڑنے والا بھی، سفارش کو میرٹ پر ترجیح دینے والا بھی۔ معاشرے کی اصلاح صرف حکومت نہیں، پوری قوم کے کردار سے ممکن ہوتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود قومی مفاد پر متحد ہوں۔ تعلیم کو اولین ترجیح دیں، قانون کی بالادستی قائم کریں، اداروں کو مضبوط کریں، میرٹ کو فروغ دیں، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھائیں اور سب سے بڑھ کر انسان کو انسان سمجھیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں عزت کا معیار دولت نہیں بلکہ کردار ہو، وہی حقیقی ترقی یافتہ معاشرہ کہلا سکتا ہے۔
پاکستان وسائل سے محروم نہیں، بلکہ دیانت دار منصوبہ بندی، شفاف طرزِ حکمرانی، انصاف اور مسلسل قومی عزم کا محتاج ہے۔ اگر ہم اپنی اجتماعی غلطیوں سے سبق سیکھ لیں تو یہ ملک ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔
آخر میں صرف ایک سوال رہ جاتا ہے: اگر ایک عام آدمی آج بھی بھوک، بیماری، بے روزگاری، مہنگائی، ناانصافی اور ذہنی اذیت کے حصار میں جکڑا ہوا ہے تو کیا ہم واقعی اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں؟ یا پھر ہم نے صرف کیلنڈر بدلے ہیں، حالات نہیں؟
تاریخ ہمیں یاد رکھے گی، مگر یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ وہ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد کرے جو حالات کے سامنے ہار گئی، یا ایک ایسی قوم کے طور پر جس نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا، اصلاح کا راستہ اپنایا اور اپنے مستقبل کو خود سنوار لیا۔





