احتجاج کس کے لیے؟

احتجاج کس کے لیے؟
تحریر: رفیع صحرائی
بھارت کے طلبہ کے کامیاب احتجاج اور ہمارے بے اثر احتجاجوں سے ایک اہم سبق ضرور حاصل ہوا ہے۔ اور وہ سبق یہ ہے کہ احتجاج کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار اس کے مقصد سے جڑا ہوتا ہے۔ کسی بھی زندہ اور باشعور معاشرے میں احتجاج عوام کی اجتماعی آواز ہوتا ہے۔ جب حکمران عوامی مسائل کو نظرانداز کریں تو پُرامن احتجاج ایک جمہوری حق بن جاتا ہے۔ لیکن احتجاج کی کامیابی صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوتی کہ کتنے لوگ سڑکوں پر نکلے، کتنے نعرے لگے یا کتنی تقریریں ہوئیں۔ اصل کامیابی واضح مقصد، اجتماعی شعور، اتحاد اور مطالبات کے حصول تک ثابت قدمی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
بھارت میں طلبہ کے حالیہ احتجاج کی کامیابی اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کی خبر نے ایک اہم سوال ضرور اٹھایا ہے کہ وہاں طلبہ کا احتجاج اپنے مقصد میں کامیاب کیوں ہوا، جبکہ ہمارے ہاں بڑے بڑے احتجاج، دھرنے اور لانگ مارچ اکثر عوام کے بنیادی مسائل کا مستقل حل کیوں نہیں نکال پاتے؟ شاید اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہاں احتجاج مسئلے کے لیے تھا اور ہمارے ہاں اکثر شخصیات کے لیے ہوتا ہے۔ وہاں تعلیم کا مسئلہ مرکزِ نگاہ تھا، جبکہ پاکستان میں بہت سے احتجاج سیاسی شخصیات اور جماعتوں کے گرد گھومتے ہیں۔ وہاں مطالبہ اہم ہوتا ہے، ہمارے ہاں لیڈر اہم ہو جاتا ہے۔ یہی فرق احتجاج کے نتیجے کو بدل دیتا ہے۔
پاکستان میں آج مہنگائی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں بڑھیں تو ہر گھر کا بجٹ متاثر ہوتا ہے۔ روزگار کے مواقع محدود ہیں، تعلیم مہنگی ہے اور علاج عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ کسان، مزدور اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات اپنی جگہ، مگر اس سارے بحران میں سب سے زیادہ بے بس ملازم پیشہ طبقہ ہے۔
ملازم کی آمدنی مقرر ہوتی ہے۔ وہ اپنی تنخواہ خود نہیں بڑھا سکتا۔ مہنگائی چاہے دس فیصد بڑھے یا پچاس فیصد، اس کی آمدنی میں اضافہ حکومت یا آجر کی مرضی سے ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے اخراجات کم کرتا، بچوں کی ضروریات محدود کرتا، علاج موخر کرتا اور خاموشی سے مہنگائی کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس طبقے کی آواز نہ حکومت سنجیدگی سے سنتی ہے اور نہ معاشرہ توجہ دیتا ہے۔ ملازمت کی مجبوریوں کی وجہ سے یہ طبقہ مسلسل اور مستقل احتجاج کے لیے وقت بھی نہیں نکال پاتا۔
دوسری طرف ہماری معاشی زندگی کا ایک عجیب تضاد بھی ہے۔ حکومت اگر بجلی، گیس یا پٹرول کی قیمت میں دو فیصد اضافہ کرتی ہے تو بعض کاروباری حلقے اپنی اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں دس فیصد تک اضافہ کر دیتے ہیں۔ دکاندار حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے گاہکوں کی جیب پر مزید بوجھ ڈال دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹر کرایہ بڑھاتا ہے، صنعت کار مصنوعات مہنگی کرتا ہے اور یوں مہنگائی کا بوجھ آخرکار عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کے خلاف کوئی وسیع اور مسلسل عوامی تحریک جنم نہیں لے پاتی۔
جو طبقہ اپنی اشیاء کی قیمت یا خدمات کا معاوضہ بڑھا سکتا ہے، وہ کسی نہ کسی طرح اپنے نقصان کا ازالہ کر لیتا ہے، مگر جس کی تنخواہ مقرر ہے، وہ بے بسی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتا ہے۔
ہماری اجتماعی نفسیات بھی اس صورت حال کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ہم سیاسی وابستگیوں میں اس قدر تقسیم ہو چکے ہیں کہ ایک جماعت کا احتجاج دوسری جماعت کے نزدیک عوامی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی سازش بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے حقیقی مسائل سیاسی نعروں کے شور میں دب جاتے ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر کوئی سیاسی رہنما گرفتار ہو یا کسی جماعت کو سیاسی نقصان پہنچے تو ہزاروں لوگ سڑکوں پر آ سکتے ہیں، لیکن جب ایک عام آدمی کا بجلی کا بل اس کی ماہانہ آمدنی سے بڑھ جائے، جب ایک باپ اپنے بچے کی فیس ادا نہ کر سکے، جب ایک مریض مہنگی دوا خریدنے سے قاصر ہو اور جب ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کے لیے دربدر ہو تو اس کے حق میں اجتماعی آواز کیوں نہیں اٹھتی؟
یاد رکھنا چاہیے کہ جس قوم کے احتجاج شخصیات کے گرد گھومتے ہیں، وہاں شخصیات تو مضبوط ہوتی ہیں، قوم مضبوط نہیں ہوتی۔ احتجاج کسی فرد کی حمایت یا مخالفت کے بجائے عوامی مفاد کے لیے ہو تو اس کا اثر کہیں زیادہ وسیع اور دیرپا ہوتا ہے۔
ہمیں احتجاج کی ثقافت کو بھی سنجیدہ اور ذمہ دار بنانا ہوگا۔ احتجاج کا مقصد صرف حکومت گرانا نہیں بلکہ مسائل حل کرانا ہونا چاہیے۔ پُرامن، آئینی اور مسئلے کا احاطہ کرتا احتجاج ہی حقیقی جمہوری قوت بنتا ہے۔ اگر مہنگائی کے خلاف آواز ہو تو اس میں مزدور، ملازم، کسان، تاجر اور عام صارف سب شریک ہوں۔ تعلیم کا مسئلہ ہو تو طلبہ اور والدین متحد ہوں۔ روزگار کی بات ہو تو نوجوان سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھائیں۔
حکومتوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ عوام کی خاموشی کو ہمیشہ اطمینان نہ سمجھا جائے۔ بعض اوقات لوگ احتجاج اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے پاس وقت، وسائل یا اجتماعی تنظیم نہیں ہوتی۔ خاموش عوام بھی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان کے مسائل بھی فوری توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔
بھارتی طلبہ کے احتجاج سے ہمیں یہ سبق ضرور حاصل کرنا چاہیے کہ جب لوگ کسی واضح اور اجتماعی مسئلے کے لیے متحد ہو جائیں، ان کا مطالبہ جائز ہو اور وہ ثابت قدم رہیں تو اقتدار کے ایوانوں کو جواب دینا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری آوازیں شخصیات کے بجائے مسائل کے لیے بلند ہوں۔ ہم کسی ایک لیڈر کے لیے نہیں، اپنے بچوں کی تعلیم، اپنی روٹی، اپنے روزگار، سستے علاج اور بہتر مستقبل کے لیے متحد ہوں۔ جس دن پاکستانی عوام نے اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے حقیقی مسائل کو مشترکہ مسئلہ سمجھ لیا، اس دن احتجاج محض ہجوم نہیں رہے گا بلکہ ایک مثر عوامی طاقت بن جائے گا۔
قومیں نعروں سے نہیں، شعور سے بدلتی ہیں۔ اور جس دن شعور بیدار ہو جائے، احتجاج شخصیات کے لیے نہیں، عوام کے حقوق اور قوم کے مستقبل کے لیے ہوتے ہیں۔



