Column

قوموں کی تباہی کا آغاز

قوموں کی تباہی کا آغاز
شکیل امجد صادق
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ قومیں ایک دن میں تباہ نہیں ہوتیں۔ ان کے زوال کا سفر اس دن شروع ہوتا ہے جب ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، جب دانش کی جگہ تماشہ، تحقیق کی جگہ شور اور کتاب کی جگہ کھیل کا میدان قومی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ افسوس کہ ہم بھی ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں تعلیم، تحقیق اور علم کی اہمیت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ نمائشی سرگرمیوں کو قومی کامیابی کا نام دیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی قوم کی اصل ترجیحات جاننی ہوں تو اس کے بجٹ کو دیکھ لیجیے۔ بجٹ دراصل حکومتوں کا آئینہ ہوتا ہے۔ تقریریں اور دعوے کچھ بھی ہوں، اصل سچ اعداد و شمار میں چھپا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم کے لیے معمولی وسائل مختص کیے جائیں اور دوسری طرف غیر پیداواری شعبوں پر اربوں روپے لٹائے جائیں تو اس کا مطلب صاف ہے کہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے زیادہ اہم وقتی تالیاں اور سیاسی تشہیر سمجھی جا رہی ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ترقی کی تعریف ہی بدل دی ہے۔ ہمارے نزدیک ترقی کا مطلب بلند و بالا عمارتیں، رنگین تقریبات، بڑے بڑے سٹیڈیم اور شور مچاتے ہجوم ہیں۔ ہم اس سوال پر غور ہی نہیں کرتے کہ ان عمارتوں کے اندر سوچنے والے دماغ کتنے ہیں؟ ان میدانوں کے باہر بھوکے، بے روزگار اور مایوس نوجوان کتنے ہیں؟ ان تقریبات کے بعد ملک کو حاصل کیا ہوا؟ تعلیم کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ ایک استاد محض تنخواہ لینے والا ملازم نہیں ہوتا بلکہ قوم کے مستقبل کا معمار ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں استاد کو عزت کم اور تضحیک زیادہ ملتی ہے۔ کبھی اسے نااہل قرار دیا جاتا ہے، کبھی اسے سست کہا جاتا ہے، کبھی اس کی محنت کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جس قوم کے استاد ذلیل ہوں وہاں ترقی یافتہ نسل پیدا ہونے کی توقع بھی رکھی جاتی ہے۔ آج لاکھوں بچے ایسے ہیں جو معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ ہزاروں اسکول بنیادی سہولیات سے خالی ہیں۔ کہیں اساتذہ نہیں، کہیں عمارتیں نہیں، کہیں بجلی نہیں، کہیں پینے کا پانی نہیں۔ لیکن ان مسائل پر قومی سطح کا شور نظر نہیں آتا۔ ٹی وی سکرینوں پر بحث کسی اور چیز کی ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر رجحانات کسی اور طرف ہوتے ہیں اور حکمرانوں کی ترجیحات کسی اور سمت۔
لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ اگر یہی وسائل تحقیقی اداروں، جدید لیبارٹریوں، اسکالرشپس، یونیورسٹیوں اور سرکاری اسکولوں پر خرچ کیے جائیں تو کیا منظر ہوگا؟ شاید ہزاروں سائنس دان پیدا ہوں، شاید نئی ایجادات سامنے آئیں، شاید بے روزگاری میں کمی آئے، شاید دنیا ہماری طرف علم کے لیے دیکھے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ علم کے نتائج فوری نہیں ہوتے، جبکہ تماشے کی چمک فوراً نظر آتی ہے۔ سیاست دان اگلے الیکشن کی فکر کرتے ہیں اور قوم کی فکری تعمیر دہائیوں مانگتی ہے۔ دنیا کی کامیاب قوموں نے ہمیشہ تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنایا۔ جاپان نے جنگ کے بعد اپنی تباہ شدہ معیشت کو کتاب کے ذریعے زندہ کیا۔ جرمنی نے علم کی طاقت سے اپنی شناخت بحال کی۔ جنوبی کوریا نے تعلیم کو قومی مشن بنایا اور آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان ممالک نے اپنے نوجوانوں کو سٹیڈیموں کے شور میں نہیں بلکہ لائبریریوں کی خاموشی میں کامیابی کا راستہ دکھایا۔
ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ایک طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی بے روزگار پھرتا ہے۔ ایک محقق اپنی تحقیق کے لیے فنڈز ڈھونڈتا رہتا ہے۔ ایک استاد مہنگائی کے ہاتھوں پریشان رہتا ہے۔ ایک ڈاکٹر بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ دیتا ہے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ برین ڈرین کیوں ہو رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے ذہنوں کی قدر ہی نہیں کی۔ قوموں کی بدقسمتی صرف غربت نہیں ہوتی بلکہ غلط ترجیحات ہوتی ہیں۔ غریب ملک بھی ترقی کر سکتے ہیں اگر ان کے پاس درست سمت ہو۔ لیکن اگر وسائل محدود ہوں اور ان کا استعمال بھی غلط ہو تو پھر زوال مقدر بن جاتا ہے۔ افسوس کہ ہم اکثر بیماری کی جڑ کو چھوڑ کر اس کے ظاہری اثرات سے لڑتے رہتے ہیں۔ ہمارا نوجوان آج دو انتہائوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ ایک طرف بے روزگاری، مہنگائی اور ناامیدی ہے، دوسری طرف تفریح اور شہرت کے جھوٹے خواب ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ کامیابی محنت، تحقیق اور علم سے نہیں بلکہ راتوں رات مشہور ہونے سے ملتی ہے۔ یہی سوچ قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم نے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم یہ نہیں پوچھتے کہ تعلیم پر خرچ کیوں کم ہے؟ ہم یہ نہیں پوچھتے کہ تحقیق کے لیے وسائل کیوں نہیں؟ ہم یہ نہیں پوچھتے کہ ہزاروں ذہین نوجوان ملک چھوڑنے پر کیوں مجبور ہیں؟ ہم صرف تالی بجاتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور اگلے تماشے کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل زیادہ خوفناک ہوگا۔ ہمارے پاس شاید بڑے میدان ہوں گے مگر عظیم سائنس دان نہیں۔ ہمارے پاس شاید شاندار تقریبات ہوں گی مگر عالمی معیار کی جامعات نہیں۔ ہمارے پاس شاید شور بہت ہوگا مگر دانش کم ہوگی۔ اور یاد رکھیے، شور کبھی ترقی پیدا نہیں کرتا، ترقی ہمیشہ علم پیدا کرتا ہے۔ قوموں کی قسمت اسمبلیوں، محلات اور اسٹیڈیموں سے زیادہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لکھی جاتی ہے۔ اگر درسگاہیں کمزور ہوں گی تو ریاست بھی کمزور ہوگی۔ اگر استاد بے وقعت ہوگا تو علم بھی بے وقعت ہوگا۔ اگر علم بے وقعت ہوگا تو قوم ہمیشہ دوسروں کی محتاج رہے گی۔
آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظرثانی کریں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کتاب کے ساتھ کھڑے ہیں یا تماشے کے ساتھ۔ ہم مستقبل کے معمار پیدا کرنا چاہتے ہیں یا صرف تماشائی۔ کیونکہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ سخت ہوتا ہے۔ وہ قومیں جو علم کو نظر انداز کرتی ہیں، خود تاریخ کے حاشیوں میں گم ہو جاتی ہیں۔
کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے ایٹم بم، اس کے اسٹیڈیم یا اس کے نعرے نہیں ہوتے۔ اس کی اصل طاقت اس کے اسکول، اس کے استاد، اس کے محقق اور اس کے طالب علم ہوتے ہیں۔ جس دن ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا، اسی دن ہماری ترقی کا سفر شروع ہوگا۔ اور جس دن ہم نے اسے نظر انداز کیا، اسی دن ہمارا زوال مزید تیز ہو جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button