Column

امن معاہدہ، پاکستان کا کلیدی کردار

اداریہ۔۔۔۔
امن معاہدہ، پاکستان کا کلیدی کردار
دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی تھی جہاں جنگ اور امن کے درمیان لکیر نہایت باریک ہوچکی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی طاقتوں کے باہمی تنازعات اور خطے کی بے یقینی صورت حال نے نہ صرف عالمی معیشت کو جھنجھوڑا بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا تھا۔ ایسے ماحول میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کا معاہدہ ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے، جسے عالمی سطح پر امن کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جارہا ہے۔ اس امن معاہدے میں پاکستان نے کلیدی کردار نبھایا۔ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں جس اعتماد اور امید کا اظہار کیا، وہ نہ صرف پاکستان کے ریاستی موقف کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ دنیا اب تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مکالمے کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ’’ جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوا ہے‘‘۔ دراصل اس اجتماعی انسانی خواہش کی ترجمانی ہے جو برسوں سے خطے میں پائیدار امن کی متلاشی تھی۔ اس معاہدے میں جہاں امریکا اور ایران نے فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر اتفاق کیا ہے، وہیں خطے کے دیگر فریقین اور عالمی طاقتوں کی شمولیت اس عمل کو مزید معنی خیز بناتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس امن عمل میں کردار اور جنیوا میں مجوزہ تقریب کی میزبانی کی بات ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ عدم استحکام کا شکار رہا ہو، پاکستان کا ثالث اور سہولت کار کے طور پر سامنے آنا ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ کسی بھی جنگ بندی یا امن معاہدے کی اصل آزمائش اس کی نفاذ اور تسلسل میں ہوتی ہے۔ محض دستخط یا اعلامیے کافی نہیں ہوتے، بلکہ اصل کامیابی اُس وقت ہوتی ہے جب فریقین اپنے وعدوں پر مکمل طور پر عمل درآمد کریں۔ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ بھی اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ جوہری سرگرمیوں کی نگرانی، خطے میں فوجی موجودگی میں کمی اور پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے جیسے اقدامات اگر شفافیت کے ساتھ آگے بڑھیں تو یہ معاہدہ ایک نئی عالمی مثال قائم کر سکتا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس عمل میں خطے کے متعدد ممالک نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ قطر، سعودی عرب، ترکی اور چین جیسے ممالک کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سفارت کاری اب یک قطبی نہیں رہی بلکہ ایک کثیرالجہتی ڈھانچے میں ڈھل رہی ہے جہاں مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔ خاص طور پر چین کی سہولت کاری اور پاکستان کی میزبانی کا امکان اس امر کو واضح کرتا ہے کہ یہ دونوں ممالک عالمی امن میں موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب اس پیش رفت کے معاشی اثرات بھی نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے، جو دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک، جو مہنگائی اور توانائی بحران سے دوچار ہیں، اس پیش رفت سے براہِ راست فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ مقف بھی اہم ہے کہ عالمی معاشی بہتری کے اثرات عوام تک منتقل کیے جائیں گے، کیونکہ اصل مقصد صرف معاہدی نہیں بلکہ عام انسان کی زندگی میں بہتری ہے۔تاہم اس پورے منظرنامے میں کچھ سوالات بھی موجود ہیں، خاص طور پر معاہدے کی شفافیت، فریقین کی اعلیٰ قیادت کی مکمل شمولیت اور عملی ضمانتوں کے حوالے سے۔ بین الاقوامی مبصرین بجا طور پر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ معاہدہ دیرپا ثابت ہوگا یا ماضی کی طرح ایک عارضی وقفہ ثابت ہوگا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس امن عمل کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ امن کوئی لمحاتی کیفیت نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جس کے لیے سیاسی عزم، سفارتی صبر اور باہمی اعتماد ناگزیر ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں مسائل کو حل نہیں کرتیں بلکہ انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ اس کے برعکس مکالمہ، برداشت اور سفارت کاری وہ راستے ہیں جو انسانیت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ آج جب دنیا ایک بار پھر امن کی طرف قدم بڑھا رہی ہے تو یہ لمحہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ایران اور امریکا کا یہ معاہدہ اگر حقیقی معنوں میں اپنی روح کے مطابق نافذ ہوگیا تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ ایک ایسا دور جس میں جنگ کی جگہ ترقی، نفرت کی جگہ اعتماد اور خوف کی جگہ امید ہو۔ یہ وقت ہے کہ عالمی قیادتیں اس موقع کو ایک تاریخی موڑ میں بدلیں، تاکہ آنے والی نسلیں جنگ نہیں بلکہ امن کی داستانیں سنیں۔
شذرہ۔۔۔
نوجوان آبادی، ملک کا بڑا سرمایہ
مشعل پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ’’ سٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026‘‘ پاکستان کے سماجی، معاشی اور ڈیجیٹل منظرنامے کی ایک اہم تصویر پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی آبادی 24کروڑ 50لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 64فیصد آبادی30سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ یہ اعدادوشمار اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے نوجوان آبادی ایک عظیم نعمت اور قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، بشرطیکہ اسے تعلیم، ہنر، روزگار اور ترقی کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر اس بڑی آبادی کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے تو پاکستان معاشی ترقی، جدت اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع میسر نہ ہوں تو یہی صلاحیت ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں ڈیجیٹل ترقی کی بھی حوصلہ افزا تصویر سامنے آئی ہے۔ ملک میں 19کروڑ 50لاکھ سے زائد موبائل کنکشنز اور 14کروڑ 50لاکھ براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معاشرے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ رجحان تعلیم، کاروبار، ای گورننس اور معلومات تک رسائی کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ کا ایک اہم پہلو خواتین کی ڈیجیٹل رسائی میں موجود فرق بھی ہے۔ خواتین کے موبائل فون رکھنے کے امکانات مردوں کے مقابلے میں 20فیصد کم ہیں، جو ڈیجیٹل شمولیت کے حوالے سے ایک تشویش ناک حقیقت ہے۔ جدید دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، معلومات اور معاشی خودمختاری کے اہم وسائل ہیں۔ لہٰذا اس فرق کو کم کرنا قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ یہ رپورٹ اس بات کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ آبادی، آزادی اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر ہیں۔ پاکستان کو اپنی نوجوان آبادی کو بوجھ نہیں بلکہ موقع سمجھنا ہوگا۔ اگر درست پالیسیاں اختیار کی جائیں، ڈیجیٹل سہولتوں کو عام کیا جائے اور خواتین کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان نسل پاکستان کو ترقی اور خوش حالی کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button