
امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) کو میزائل دفاعی انٹرسیپٹرز کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری تنازع کے بعد امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) کو میزائل دفاعی انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں نمایاں کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث عسکری منصوبہ ساز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا امریکا جوابی کارروائیوں کی موجودہ رفتار برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔
فاکس نیوز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق تنازع سے قبل امریکی پیٹریاٹ دفاعی انٹرسیپٹرز کے ذخائر تقریباً 2 ہزار 300 تھے، جو کم ہو کر 827 سے بھی کم رہ گئے ہیں
اسی طرح ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) نظام کے انٹرسیپٹرز کی تعداد بھی نمایاں طور پر گھٹ گئی ہے، جو 452 سے کم ہو کر 278 سے بھی نیچے آ گئی۔
رپورٹ کے مطابق سی ایس آئی ایس نے خبردار کیا ہے کہ ان اہم دفاعی ذخائر کی بحالی میں کم از کم 3 سال لگ سکتے ہیں، جس سے یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ اگر بحرالکاہل جیسے کسی دوسرے خطے میں نیا بحران پیدا ہوتا ہے تو امریکی فوج بیرونِ ملک تعینات اپنے اہلکاروں اور عسکری تنصیبات کے تحفظ کی صلاحیت برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔
ان کمیوں پر قابو پانے کے لیے پینٹاگون نے مالی سال 2026ء کے لیے پیش کی گئی 67 ارب ڈالرز کی ہنگامی فنڈنگ کی درخواست میں سے 18.2 ارب ڈالرز مختص کیے ہیں، جنہیں پیٹریاٹ میزائلوں، امریکی بحریہ کے ٹاماہاک کروز میزائلوں اور تھاڈ دفاعی نظام کی دوبارہ خریداری پر خرچ کیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوج کے ابتدائی مالی سال 2027ء کے بجٹ مطالبات میں شامل تمام مطلوبہ ہتھیاروں میں سے تقریباً نصف ایسے نسبتاً کم لاگت والے ہتھیار ہیں







