ٹرمپ سے دنیا سوال کریگی جنگ سے کیا کھویا کیا پایا ؟

ٹرمپ سے دنیا سوال کریگی جنگ سے کیا کھویا کیا پایا ؟
نذیر احمد سندھو
ایران، امریکہ کے درمیان پیس پراسس جاری ہے، پیس ایگریمنٹ کا ڈرافٹ مکمل کر لیا گیا، فریقین کے ذمہ داروں نے اسکی تصدیق کر دی ہے اور مصدقہ خبر ہے 19جون کو ڈرافٹ پر دستخط ہو جائیں گے، بشرطیکہ کوئی نئی شرارت کسی بھی طرف سے نہ ہوئی۔ اسرائیل جنگ کا اولین مہرہ تھا مگر امن پراسس سے باہر ہے، اس نے لبنان کے بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے، اگر اسرائیل نے لبنان کے علاقے خالی نہ کئے تو معاملات بگڑ بھی سکتے ہیں۔ امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کا بلاک کر رکھا یقینا وہ کھل جائیگا ایران آبنائے ہر مز سے تمام جہازوں کو گزرنے دیگا کسی قسم کے ٹیکس کا مطالبہ نہیں کریگا مگر امریکی بلاک اور ہرمز کو کنٹرول کرنے والے ایران کے لوازمات اپنی جگہ من و عن موجود رہیں گے۔ یہ عرصہ 60دن پر محیط ہے، افواج ،ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کا اتنا عرصہ آئی کنٹیکٹ میں رہنا کسی خطرے سے خالی نہیں۔ لبنان کی حکومت اسرائیل کی دوست نہیں تو دشمن بھی نہیں، عام تاثر ہے لبنان ایک مسلم ملک ہے گو اکثریت مسلمانوں کی ہے، مگر عیسائی اور دروز چالیس فیصد کے لگ بھگ ہیں، اور آئینی فارمولے کے مطابق سب حکومت میں شامل ہیں۔ لبنان کی حکومت اور اسرائیل کے درمیان امریکہ میں مذاکرات ہوئے تھے جو کسی معاہدہ پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے تھے، کسی وقت دوبارہ جاری ہو سکتے ہیں، مگر ان مذاکرات میں حقیقی فریق حزب اللہ شامل نہیں۔ اسرائیل نے حملہ حزب اللہ پر کیا تھا اور حزب اللہ ہی اسرائیل سے بر سر جنگ ہے، لبنانی حکومت تو اس جنگ میں شامل ہی نہیں۔ ایران، امریکہ جنگ کے دوران چند روز قبل لبنانی آرمی چیف پاکستان آئے تھے اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سے ملے تھے، سرکاری صحافیوں اور میڈیا نے بڑی بے پر کی اڑائی تھیں، مگر لبنانی آرمی چیف کے دورے کا مقصد ایران کو پیغام دینا تھا، حزب اللہ کو سمجھائیں اور ہمارے اسرائیل سے مذاکرات کو کامیاب ہونے دیں تاکہ اسرائیل ہمارے علاقے خالی کر دے، ہم جنگ نہیں چاہتے یاد رکھیں۔ لبنانی حکومت اسرائیل کی بجائے ایران پر دوران جنگ تنقید کرتی رہی ہے۔ لبنانی آرمی چیف نے نہ تو کسی اسلحہ کی فیلڈ مارشل سے درخواست کی ہے اور نہ ہی کسی فوجی مدد کی۔ جنگ سے امریکہ نکلنا چاہتا تھا کیوں سوال تو بنتا ہے۔ ہزاروں میل سے جنگ کرنے آیا تھا، اسرائیل سے ملکر ایران پر حملہ آور ہوا تھا، دونوں اتحادی اس خیال پر متفق تھے ایک ہفتے کے اندر وہ اپنے اہداف حاصل کر لیں گے۔ اب کم از کم امریکہ تو واضح کہتا ہے وہ اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے۔ کہیں یہ امن کی آشا کوئی جنگی چال تو نہیں۔ ٹرمپ نے ثابت کیا ہے وہ ناقابل اعتماد ہے اور اپنی کسی بھی بات سے مکر سکتا ہے۔ معاہدوں کے خلاف بھی جا سکتا ہے یہی وجہ ہے ایران گارنٹی مانگتا ہے۔ طاقتور کی گارنٹی اس سے زیادہ طاقتور ہی دے سکتا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں چین اور امریکہ نے ایران کو گارنٹی دی ہے۔ اگر امریکہ پلٹ کر وار کرتا ہے تو وہ ایران کو بچانے کھل کر آئیں گے، ایسا کچھ سامنے نہیں آیا۔ امریکہ نے اس جنگ میں بہت کچھ کھویا ہے پایا کچھ نہیں امریکہ کی ساکھ متاثر نہیں ہوئی آبنائے ہر مز میں ڈوب گئی ہے اس امکان کو رد نہیں کر سکتے امریکہ اپنی ڈوبی ہوئی ساکھ کو آبنائے ہرمز سے نکالنے کیلئے پلٹ کر وار کرے۔ امریکہ اس وقت زخمی کوبرا ہے، اور زخمی کوبرا بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ امریکہ اپنے وار شپس پرانے مقامات پر واپس لے جائے تو وہ 3سے7دن کے اندر واپس اسی جگہ پر آ سکتا جہاں سے اس نے ایرانی بندگاہوں کو بلاک کر رکھا ہے۔ امریکہ نے اپنے ارادوں کو چھپایا نہیں، وہ جنگ کے دوران ببانگ دہل کہتا رہا ہے وہ ایران میں قیادت ہی تبدیل نہیں کرنا چاہتا، وہ وینزویلا کی طرح ایرانی تیل پر قبضہ کرکے چین کی شہ رگ دبانا چاہتا ہے ۔ جین کا صنعتی نظام اتنا بڑا ہے وہ چند ہفتے بھی تیل درآمد کئے بغیر نہیں چل سکتا، وہ تیل کا دنیا میں سب سے بڑا امپورٹر ہے۔ کیا یہ بات چین نہیں جانتا ایران کی جنگ اصل میں چین کے خلاف ہے۔ چین جانتا ہی نہیں سمجھتا بھی ہے، ایران یہ جنگ تنہا نہیں جیتا، اس کی پشت پر دو طاقتور ہاتھ تھے، وہ اس جیت کے سب سے بڑے حصہ دار ہیں۔ اس جنگ کے خاتمے سے سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہو گا۔4دن کی پاک بھارت جنگ کا فائدہ چین کا ہوا تھا اور امریکہ ایران جنگ کے خاتمے پر بھی سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہو گا۔ پاکستان نے بھارت کے رافیل گرائے تھے اور رافیل بنانے والی کمپنی کے بہت سے آرڈر منسوخ ہو گئے تھے۔ ایران نے تو ایف 35گرا دیا تو اس کا بھی سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہو گا، چین کی دفاعی صنعت کو بوسٹ ملنے والا ہے۔ یہ وہ سب آثار ہیں جو امریکہ کے پلٹ کر وار کرنے کے امکانات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھول دیا اور امریکی یا چینی وار شپس کو بارودی سرنگیں ہٹانے کی اجازت دے دی تو کیا ایران آبنائے ہرمز کو قلیل وقت میں دوبارہ اسی پوزیشن میں کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میں پھر کہوں گا میرے لفظوں کا سارا زور قلیل وقت پر ہے، جس کی مدت معینہ 3سے7دن سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ کیا ایران قلیل وقت میں اپنے سمندروں میں اسی طرح بارودی سرنگیں، اینٹی وار شپس میزائل، تیز رفتار حملہ آور کشتیاں، چھوٹی چھوٹی آبدوزیں ،ڈرون اور بغیر پائلٹ سمندری گاڑیوں کا جال بچھا سکتا، قافلے لا سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا ہو گا اب دشمن پوری تیاری سے اترے گا۔ پہلے امریکہ نے ایران کو کمزور دشمن سمجھ کر حملہ کیا تھا اب ایک طاقتور دشمن سے لڑنے کی پوری تیاری کرکے حملہ کر سکتا ہے۔ دشمن کبھی بھی قابل اعتبار نہیں ہوتا اور زخمی طاقتور دشمن تو کبھی بھی قابل اعتبار نہیں ہوتا ۔ یہ میرے خدشات ہیں ورنہ امریکہ کی تاریخ مختلف ہے جس سے شکست کھائی اس سے محبت کی پینگیں بڑھائیں، ویت نام اس کی بہترین مثال ہے، امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے کہا تھا امریکہ کی دوستی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کی بہترین مثال پاکستان ہے، پاکستانی حکمرانوں نے ہمیشہ کہا ہم آپ کے تابعدار دوست ہیں، امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کی پشت میں چھرا گھونپا۔ یقینا یہ سب خطرات، امکانات ایرانیوں کے پیشِ نظر ہونگے اور ایرانیوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے ایران ذہین اور بہادر لوگوں کی سرزمین ہے۔ گو ایران میں غداروں کی ایک معتدبہ تعداد پکڑی گئی ہے مگر محب وطن ، تاریخ اور تہذیب پر کٹ مرنے اور فخر کرنے والوں کی تعداد 9کروڑ ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کو سب سے بڑی تھریٹ بھی یہی ہے دونوں کو پتہ چل گیا ایرانی مریں گے تو ماریں گے بھی، ایرانی مٹ تو سکتے ہیں جھکیں گے نہیں۔ ایرانیوں نے یہ بھی ثابت کر دیا وہ یمن، حزب اللہ اور حماس کی پشت سے اپنا ہاتھ نہیں ہٹائیں گے، صلح ایران سے ہی نہیں حماس، حزب اللہ، یمن اور لبنان سے بھی ہو گی۔ ہم نہ دشمن کو بھولتے ہیں نہ دوست کو ۔ اب آتے ہیں اس سرخی کی طرف جو کالم کے اوپر لگا رکھی ہے امریکہ نے جنگ میں کیا کھویا اور ایران نے کیا پایا۔ میرا تجزیہ ہے ایران نے کچھ کھویا نہیں امریکہ نے کچھ پایا نہیں کھویا ہی کھویا ہے۔ ایران کے شہداء کی تعداد میں اضافہ ضرور ہو ا ہے۔ امریکہ نے ساکھ کھو دی۔ امریکہ کے ساتھ جو سپر پاور کا لاحقہ تھا وہ ایران جنگ نے اتار پھینکا اب امریکہ کا موازنہ ایران سے ہو رہا ہے ، ایران کو دنیا فاتح مانتی ہے اور امریکہ اسرائیل جنھیں ناقابل تسخیر مانا جاتا تھا اب قابل تسخیر مفتوح مانتی ہے۔ امریکہ کی دفاعی صنعت کو بڑا دھچکا لگنے والا ہے۔ امریکہ کی F۔35بنانے والی لاک ہیڈ کمپنی کو بھی رافیل بنانے والی فرانسیسی ڈیسالٹ کی طرح جھٹکا لگنے کے امکانات ہیں۔ امریکی وار شپ جیرالڈ فورڈ اور ابراہم لنکن جو ٹائی ٹینک کی طرح ناقابل تسخیر مانے جاتے تھے اپنی ساکھ کھو بیٹھے عرب جاپان شمالی کوریا جو امریکی دفاعی چھتری کو اپنا حصار مانتے تھے سب اس حصار کو اپنی بربادی کا سبب ماننے لگے ہیں۔ ایران نے کیا پایا ۔ ایران دنیا سے کٹا ہوا تھا اب مل بیٹھے گا۔ ایران جسے معمولی ملک مانا جاتا تھا امریکہ کے مقابل گردانا جانے لگا۔ ایران سے ہر قسم کی پابندیاں ہٹ جائیں گی جن کا بوجھ وہ پچاس سال سے اٹھا رہا تھا تیل بیچے گا اور دنیا بھر سے تجارت کریگا۔ ایران کے24 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے واگزار ہو جائینگے اور دوبارہ عالمی برادری کا حصہ ایک طاقتور ملک کے طور بنے گا۔ عرب اپنا دستِ تعاون بڑھا چکے ہیں اگر امن معاہدہ ہو گیا تو یہ ہاتھ اور لمبے ہو جائیں گے۔ ایرانی صرف یہ وعدہ کریں گے وہ کبھی ایٹم بم نہیں بنائیں گے اور نہ ہی کسی سے لیں گے ۔ کیا امریکی نہیں سمجھتے وعدے توڑنے کیلئے کیے جاتے ہیں۔ آج کی قیادت وعدے سے نہیں پھرے گی تو کل کی قیادت ایسا کر سکتی ہے ۔ کسی قوم کو مستقل وعدوں کا پابند نہیں رکھا جا سکتا۔ ایران زندہ باد





