Column

محرم الحرام: فلسفہِ قربانی، درسِ حیات اور احترامِ انسانیت

محرم الحرام: فلسفہِ قربانی، درسِ حیات اور احترامِ انسانیت

مرزا رضوان

اسلامی تقویم کا آغاز جس مہینے سے ہوتا ہے، اسے ’’ محرم الحرام‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک قمری سال کی ابتدا نہیں، بلکہ یہ مہینہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسی عظیم اور جذباتی تاریخ کا امین ہے جس کی گونج چودہ سو برس گزرنے کے باوجود آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ محرم کا لفظ ’ حرمت‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی عزت، تقدس اور احترام کے ہیں۔ اللہ رب العزت نے اس مہینے کو ان چار مہینوں میں شامل کیا ہے جنہیں قرآنِ مجید میں ’’ اشہرِ حرم‘‘ یعنی حرمت والے مہینے قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، اس مہینے کی حرمت و تقدس کو تاریخ کے ایک ایسے واقعے نے دوام بخشا ہے جس نے حق و باطل کے معیار کو ہمیشہ کے لیے متعین کر دیا۔ محرم الحرام ہمیں اس جذبے کی یاد دلاتا ہے جو بندگی کی معراج ہے۔ واقعہ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ یہ عدل، حریت، صبر اور ایثار کا ایک ایسا درس گاہ ہے جس نے انسانیت کو بیداری کا شعور دیا۔ جب ہم کربلا کے پس منظر پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض دو گروہوں کا ٹکرا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا معرکہ تھا جس میں ایک طرف اقتدار کے نشے میں چور وہ سوچ تھی جو دین کو اپنی خواہشات کے تابع کرنا چاہتی تھی، اور دوسری طرف وہ نورِ نبوت کا وارث، امامِ عالی مقام حضرت سیدنا امام حسینؓ تھے، جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے دینِ متین کی اصل روح کو محفوظ کر لیا،حضرت سیدنا امام حسینؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کر کے یہ ثابت کیا کہ جب معاشرے میں ظلم کا بازار گرم ہو اور حاکم وقت حق و انصاف کے تقاضوں کو پامال کر رہا ہو، تو اس وقت خاموش رہنا گناہِ کبیرہ ہے۔ آپؓ کا یہ اقدام امت کے لیے مشعلِ راہ بن گیا کہ حق کا ساتھ دینا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے، ایک سچے مومن کا شیوہ ہے، اس کالم میں اگر خواتینِ کربلا کے کردار کو نظر انداز کر دیا جائے تو تاریخ کا یہ ورق ادھورا رہتا ہے۔ حضرت سیدہ زینبؓ اور دیگر خواتین نے کربلا کے تپتے ریگزاروں میں جس صبر اور استقلال کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی ہر دور کی مظلوم خواتین کے لیے ایک مثال ہے۔ حضرت سیدہ زینبؓ نے کوفہ اور شام کے درباروں میں اپنے خطبات کے ذریعے یزیدی نظام کے مکروہ چہروں کو بے نقاب کیا اور واقعہ کربلا کو تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہونے سے بچایا۔ خواتینِ کربلا کا کردار ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق گوئی کے لیے صنف کی کوئی قید نہیں، اور صبر و استقامت کا راستہ ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
آج کے پرفتن دور میں، جہاں معاشرتی بگاڑ، عدم برداشت اور انتشار جیسے مسائل نے ہماری صفوں میں دراڑیں ڈال رکھی ہیں، محرم ہمیں وحدت کا پیغام دیتا ہے۔ امامِ عالی مقام نے کسی خاص فرقے کے لیے نہیں، بلکہ انسانیت کی بقا اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ اس لیے اس مہینے میں ہمارا طرزِ عمل ایسا ہونا چاہیے جس سے معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور رواداری فروغ پائے۔ آج ہمارا معاشرہ معاشی اور اخلاقی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عام آدمی کی حالتِ زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کربلا کا درس ہمیں سکھاتا ہے کہ وقتی مفادات اور اقتدار کی ہوس کے لیے اصولوں کا سودا نہیں کیا جاتا۔ اگر آج ہمارے حکمران اور فیصلہ ساز طبقات امام حسینؓ کے اس فلسفہِ عدل کو اپنا لیں کہ ’’ حکومت عوام کی خدمت کے لیے ہے، نہ کہ ان پر مسلط ہونے کے لیے‘‘، تو معاشرے کے آدھے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ جب ہم ’’ احترامِ محرم‘‘ کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب صرف رسمی سوگ منانا نہیں ہے، بلکہ اس کے مقاصد کو سمجھنا ہے۔ احترامِ محرم کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زبان، کردار اور سوچ میں وہی پاکیزگی لائیں جس کا درس نواسہ رسولؐ حضرت سیدنا امام حسینؓ اور ان کے رفقائے کار نے دیا تھا۔ اس ماہ میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی توانائیاں تعمیرِ معاشرت میں صرف کریں۔ کیا ہم نے اپنے کردار میں وہی سچائی رکھی ہے؟ کیا ہم اپنے ہمسایوں اور معاشرے کے ضرورت مندوں کا خیال رکھ رہے ہیں؟ محرم کا احترام اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ ہم ان کمزور اور پسماندہ طبقات کی آواز بنیں جن پر ظلم ہو رہا ہے، چاہے وہ معاشی استحصال ہو یا سماجی ناانصافی۔ محرم الحرام کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، لیکن اس مہینے میں ہمیں اعتدال اور وحدت کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔ بدقسمتی سے، ہم نے جذباتیت میں آکر ایسے رویوں کو اپنا لیا ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے دور کرتے ہیں۔ مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرنا، ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنا اور جذبات میں آکر ایسا کوئی قدم نہ اٹھانا جس سے فرقہ وارانہ نفرت پھیلے، یہی اس مہینے کا اصل تقاضا ہے۔ نواسہ رسولؐ حضرت سیدنا امام حسینؓ کی محبت اتحاد کی متقاضی ہے، نہ کہ تفرقے کی۔ جب ہم محرم کا احترام کرتے ہیں، تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام امن، سلامتی اور محبت کا دین ہے۔ ہمیں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم اس عظیم ہستی کے ماننے والے ہیں جنہوں نے انسانیت کی آبیاری کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہمیں ان عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو محرم کے تقدس کی آڑ میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، آئیے! اس محرم الحرام کو ہم اپنی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔ یہ مہینہ ہمیں اپنی زندگیوں کا محاسبہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اپنے گردو پیش پر نظر ڈالنی چاہیے؛ کیا ہمارا معاشرہ ان اقدار پر قائم ہے جن کے لیے امام عالی مقام نے قربانی دی تھی، کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر آپ حق پر ہیں تو تنہا بھی کیوں نہ ہوں، ثابت قدم رہیں۔ موجودہ دور میں، جہاں ہم مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی ناانصافیوں کا سامنا کر رہے ہیں، ہمیں ان حالات میں صبر اور استقامت کا وہی مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے جو نواسہ رسولؐ نے کربلا میں کیا۔ یاد رکھیں، حق گوئی کا سفر آسان نہیں ہوتا، لیکن اس کا انجام ہمیشہ سرخروئی ہے۔ ہمیں اپنے اندر وہ قوتِ برداشت پیدا کرنی ہوگی جس سے ہم معاشرے میں پائی جانے والی انتہا پسندی کا خاتمہ کر سکیں۔
محرم الحرام ہمیں ایک ایسے راستے پر گامزن ہونے کا درس دیتا ہے جہاں منزل خدا کی رضا اور انسانیت کی فلاح ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا مقصد محض دنیاوی کامیابی نہیں، بلکہ آخرت کی ابدی سرخروئی ہے جو قربانی اور ایثار سے ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مہینے کی برکات سے فیض یاب ہونے، کربلا کے پیغام کو سمجھنے اور اسے اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آئیں! اس محرم کے احترام میں ہم اپنی قوم اور وطن کے لیے بھی دعا کریں کہ خدا ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنائے اور ہمیں ان تمام مشکلات سے نجات عطا فرمائے جن کا سامنا آج کا عام آدمی کر رہا ہے۔ آج کے دن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کربلا کے شہیدوں کی قربانیوں کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کریں جہاں انصاف کا بول بالا ہو، جہاں حق کی جیت ہو اور جہاں انسانیت کا احترام ہر چیز سے مقدم ہو۔ یہی اس عظیم مہینے کا سب سے بڑا تقاضا اور شہدا کربلا کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

جواب دیں

Back to top button