وفاقی بجٹ پاکستان کو خود انحصار، فلاحی ریاست بنانے کی طرف مضبوط قدم

وفاقی بجٹ پاکستان کو خود انحصار، فلاحی ریاست بنانے کی طرف مضبوط قدم
قاسم فارق
پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026۔27ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب ملک کی معیشت کئی برسوں کے شدید دبا، مہنگائی، زرِ مبادلہ کے بحران اور مالی مشکلات سے بتدریج نکل کر استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں عوام اور کاروباری طبقے نے مشکل معاشی فیصلوں کے اثرات برداشت کیے، لیکن اب حکومت کی کوشش ہے کہ اس استحکام کو ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی ریلیف میں تبدیل کیا جائے۔ اس بجٹ میں کئی ایسے اقدامات شامل کیے گئے ہیں جو نہ صرف معیشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ عام آدمی، صنعت، زراعت، نوجوانوں اور کاروباری شعبے کے لیے بھی مثبت امکانات پیدا کرتے ہیں۔
ملکی معیشت کی ترقی کا پہیہ صنعتوں کی مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے اور اس بجٹ میں صنعتی شعبے بالخصوص برآمدات بڑھانے والے اداروں کو جو مراعات دی گئی ہیں وہ ملکی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ماضی میں ہمارے تاجروں اور صنعت کاروں کو سب سے بڑا گلہ یہ رہتا تھا کہ انہیں کاروبار چلانے اور سرمایہ کاری کے لیے بینکوں سے بہت مہنگے داموں قرض ملتا ہے جس کی وجہ سے وہ عالمی منڈی میں دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔ حکومت نے اس دیرینہ درد کا مداوا کرتے ہوئے ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح سود کو انیس فیصد سے یکدم کم کر کے صرف ساڑھے چار فیصد کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا انقلابی قدم ہے جو مردہ ہوتی ہوئی صنعتوں میں نئی جان پھونک دے گا۔ جب کارخانہ دار کو اتنے سستی قرض ملیں گے تو وہ اپنے یونٹ بند کرنے کے بجائے ان کو وسعت دے گا جس سے نہ صرف پیداوار بڑھے گی بلکہ ملک میں لاکھوں کی تعداد میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جو ہمارے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ برآمدات پر لگنے والے مجموعی ٹیکس کو دو فیصد سے گھٹا کر ایک اعشاریہ پچیس فیصد کر دیا گیا ہے اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کو تو سرے سے ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا سیدھا فائدہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر مینوفیکچرنگ صنعتوں کو پہنچے گا۔ جب کارخانوں کو خام مال اور نئی مشینری کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی سے استثنا ملے گا تو ہماری بنی ہوئی اشیاء عالمی منڈیوں میں سستی اور معیاری ہو کر بکیں گی جس سے ملک میں ڈالر آئیں گے اور تجارتی خسارہ کم ہوگا۔ صنعتوں کے لیے ساڑھے سات ہزار سے زائد ٹیرف لائنز میں کمی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت ملک میں کارخانے لگانے اور تاجر برادری کو سہولت دینے کے لیے سنجیدہ ہے۔ جب مقامی صنعت ترقی کرے گی تو اس کا براہ راست اثر عام مزدور کی مزدوری پر پڑے گا اور مارکیٹ میں پیسے کی گردش بڑھنے سے ہر چھوٹے بڑے کاروبار کو فائدہ ہوگا۔
ملازمت پیشہ اور متوسط طبقے کے لیے بھی یہ بجٹ خوشی کی بڑی نوید لے کر آیا ہے۔ طویل عرصے کے بعد انکم ٹیکس کے سلیبز کو اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ مڈل کلاس پر ٹیکس کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر لگنے والے نو فیصد اضافی سرچارج کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ مختلف آمدن کے حساب سے ٹیکس کی شرح میں واضح کمی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر جو لوگ سالانہ بائیس سے بتیس لاکھ روپے کماتے تھے ان کا ٹیکس تئیس فیصد سے کم کر کے بیس فیصد کر دیا گیا ہے اور اسی طرح دیگر سلیبز میں بھی ریلیف دیا گیا ہے۔ ٹیکس میں یہ کمی براہ راست ایک ملازم کی ماہانہ بچت میں اضافے کی شکل میں سامنے آئے گی جس سے وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور گھر کے دیگر اخراجات زیادہ اچھے طریقے سے پورے کر سکے گا۔ بینکنگ چینلز کو فروغ دینے اور عام لوگوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر ٹیکس کو پانچ فیصد سے کم کر کے صرف آدھا فیصد یعنی صفر اعشاریہ پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس سے ملکی بینکاری نظام پر عوام کا اعتماد بڑھے گا اور لوگ قانونی راستوں سے لین دین کو ترجیح دیں گے۔
پاکستان کی ترقی کے سفر میں آئی ٹی اور فری لانسنگ کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ہمارے لاکھوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گھر بیٹھے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کما رہے ہیں۔ حکومت نے اس نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کے لیے آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے برآمد کنندگان کے لیے نافذ العمل صفر اعشاریہ پچیس فیصد کا رعایتی ٹیکس نظام اگلی تین سالوں یعنی سن دو ہزار تیس تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پالیسی کے تسلسل سے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی ملے گی کہ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کے لیے ماحول سازگار ہے۔ اس سے نہ صرف نئی اسٹارٹ اپس کو فروغ ملے گا بلکہ سافٹ ویئر ہاسز بڑے پیمانے پر نئی ملازمتیں پیدا کریں گے اور ملک کا ہر وہ نوجوان جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ خود کفیل ہو سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے قومی نظام کے لیے ایک ارب ڈالر کا فلیگ شپ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جو پاکستان کو جدید دنیا کی صف اول میں لا کھڑا کرے گا۔
کاروبار کو آسان بنانے اور چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس کے پیچیدہ نظام اور محکموں کی مبینہ ہراسگی سے بچانے کے لیے بھی بجٹ میں ایک انتہائی سہل اور دوستانہ حل پیش کیا گیا ہے۔ اب وہ تمام چھوٹے خوردہ فروش اور دکاندار جن کی سالانہ فروخت بیس کروڑ روپے یا اس سے کم ہے وہ ایک فیصد فکسڈ ٹیکس نظام کے تحت اپنی سیلز کا ٹیکس ادا کر کے سکون سے اپنا کاروبار کر سکتے ہیں۔ اس اقدام سے تاجروں کا خوف ختم ہوگا، وہ خوشی سے ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے اور ملک کی معیشت دستاویزی شکل اختیار کرے گی۔ معیشت کا دستاویزی ہونا اس لیے ضروری ہے تاکہ ریاست کو پتہ ہو کہ کہاں کتنی دولت ہے اور اسے عوامی فلاح کے منصوبوں پر کیسے خرچ کرنا ہے۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ اور جائیداد کی خرید و فروخت کے شعبے میں فائلرز یعنی باقاعدگی سے ٹیکس جمع کرانے والے شہریوں کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو ڈھائی فیصد سے کم کر کے سوا فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ دیانتدار ٹیکس گزاروں کے لیے ایک بہت بڑا انعام ہے جس سے ملک میں قانونی طور پر جائیداد کی خرید و فروخت بڑھے گی اور تعمیراتی شعبے کو فروغ ملے گا جو اپنے ساتھ مزید چالیس صنعتوں کو چلاتا ہے۔
بجٹ کا ایک اہم پہلو سماجی تحفظ اور غریب پرور اقدامات کا فروغ ہے۔ ملک میں جاری مہنگائی کی لہر سے سب سے زیادہ متاثر غریب اور دیہاڑی دار طبقہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس بات کا احساس کرتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں سترہ فیصد کا شاندار اضافہ کر کے اسے آٹھ سو اڑتیس ارب روپے تک پہنچا دیا ہے۔ یہ رقم پاکستان کی تاریخ میں غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے رکھی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ اس رقم کی مدد سے اب ملک کے تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ مستحق خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ یہ امداد صرف چند ہزار روپے نہیں بلکہ ایک غریب ماں کے چولہے کو جلتا رکھنے، اس کے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے اور انہیں اسکول بھیجنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم سے کم اجرت میں دس فیصد کا اضافہ کر کے محنت کش طبقے کو ایک بڑا سہارا دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی بنیادی ضرورتیں عزت نفس کے ساتھ پوری کر سکیں۔ خواتین کی صحت اور صفائی کے بنیادی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر سے سیلز ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جو کہ ایک انتہائی ترقی پسند اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کی طرف بڑا قدم ہے کیونکہ اس سے دیہی اور پسماندہ علاقوں کی لاکھوں خواتین کو سستی اور معیاری صحت کی سہولیات تک رسائی ملے گی۔صحت کے میدان میں ایک اور بڑا اور تاریخی فیصلہ کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کی ادویات بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایک سو سے زائد خام مال پر سے کسٹمز ڈیوٹی کا مکمل خاتمہ ہے۔ اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان میں کینسر جیسی جان لیوا بیماریوں کا علاج اور ادویات عام آدمی کی پہنچ میں آ جائیں گی اور غریب مریضوں کو سستی ادویات کے لیے در در کی خاک نہیں چھاننا پڑے گی۔ ایک فلاحی ریاست کی یہ سب سے بڑی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیمار اور لاچار شہریوں کی ڈھال بن کر کھڑی ہو جائے اور موجودہ بجٹ میں یہ جذبہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ کسی بھی ملک کی طویل مدتی بقا اور معاشی خودمختاری کا دارومدار اس کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے وسائل پر ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت پانی کی کمی اور مہنگی بجلی کے شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ اس بجٹ میں حکومت نے مستقبل کی نسلوں کو پانی اور سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پانی کے بڑے منصوبوں اور ڈیموں کی تعمیر کے لیے ایک سو تین ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ اس میں ڈیامیر بھاشا ڈیم کے لیے چودہ ارب، مہمند ڈیم کے لیے بائیس ارب اور داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لیے پندرہ ارب روپے شامل ہیں۔ یہ ڈیم جب مکمل ہوں گے تو ملک کو سستی ترین پن بجلی حاصل ہوگی جس سے کارخانوں اور گھروں کو سستی بجلی ملے گی اور ہمیں مہنگے امپورٹڈ تیل پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کے دیرینہ بحران کو حل کرنے کے لیے کے فور بلک واٹر سپلائی پروجیکٹ کے لیے دس ارب روپے رکھے گئے ہیں جو روشنیوں کے شہر کے باسیوں کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہے۔
عام آدمی کو چھت کی فراہمی کے لیے وزیر اعظم کی اپنا گھر ہائوسنگ اسکیم کے لیے اکہتر ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں صرف پانچ فیصد کی معمولی مارک اپ شرح پر ہائوسنگ لون یا مارگیج کی سہولت دی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ غریب اور متوسط خاندان جو زندگی بھر کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں وہ اب انتہائی آسان اقساط پر اپنے ذاتی گھر کے مالک بن سکیں گے۔ یہ اسکیم لاکھوں خاندانوں کے سر چھپانے کا خواب سچ کرے گی اور معاشرے میں ایک خوشحالی اور استحکام کی لہر پیدا کرے گی۔ ماحولیاتی تحفظ اور سستی سواری کے فروغ کے لیے الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور بسوں پر دی گئی ٹیکس چھوٹ کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ ملک میں آلودگی کم ہو اور غریب اور مڈل کلاس طبقے کا پٹرول کا خرچہ بچ سکے۔
بجٹ کے مجموعی معاشی اشاریے بھی یہ بتاتے ہیں کہ ملک اب قرضوں کے دلدل سے بتدریج باہر نکل رہا ہے۔ ملک کا قرض اور جی ڈی پی کا تناسب جو ستر فیصد سے اوپر تھا اب کم ہو کر اڑسٹھ اعشاریہ پانچ فیصد پر آ گیا ہے اور مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں اس سے روپے کی قدر مستحکم ہوگی اور مہنگائی کی شرح جو ماضی میں آسمان کو چھو رہی تھی وہ اب اوسطاً آٹھ اعشاریہ دو فیصد تک نیچے آنے کی توقع ہے۔ جب مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں یعنی نو فیصد سے نیچے آئے گی تو بازار میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی جیب کے مطابق ہو جائیں گی۔ یہ بجٹ پاکستان کو ایک خود انحصار، ترقی پسند اور فلاحی ریاست بنانے کی طرف ایک مضبوط اور پر اعتماد قدم ہے جس کے ثمرات بہت جلد ملک کے چپے چپے اور ہر شہری کے گھر تک پہنچیں گے۔





