Columnمحمد مبشر انوار

ثالثی کا بدلہ

ثالثی کا بدلہ
محمد مبشر انوار
پاکستان ایک اہم مسئلے میں سرخرو ہو چکا ہے، اور خطے میں جنگ کے پھیلتے بادل، فی الوقت امن کی چادر اوڑھ چکے ہیں، البتہ امن کی اس چادر کو تار تار کرنے کے لئے ابھی بھی ایک بدبخت ریاست کا بد طینت حکمران، خطے میں جنگ جاری رکھنے پر مصر ہے۔ گو کہ پاکستان نے امریکہ خواہشات کے مد نظر رکھتے ہوئے نہ صرف فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا بلکہ اپنی سالمیت کو یقینی بنانے اور اس جنگ کی آگ کو اپنے صحن میں آنے سے بخوبی روکا ہے۔ 28فروری کو اسرائیل کی جانب سے پڑوسی ملک ایران پر سخت حملہ کرتے ہوئے، اس کے قیادت کو پہلے ہلے میں ہی شہید کرنے کے بعد، اسرائیل کا حوصلہ بہت بڑھ چکا تھا اور اس کو یہ خام خیالی تھی کہ اس کا پھیلایا ہوا جال کامیابی کے ساتھ بروئے کار آتا رہے گا اور وہ ایران میں نہ صرف رجیم چینج کرنے میں کامیاب ہو جائے گا بلکہ ایران کے تمام تر اثاثوں کو بھی بعینہ ویسے ہی ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا جس طرح عراق کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ کی اس خام خیالی کا جنازہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ہی نہیں بلکہ خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں کی تباہی کے ساتھ اچھی طرح نکالا اور دونوں ممالک کو یہ باور کروادیا کہ انہوں نے ایران کی عسکری طاقت یا مزاحمت کا انتہائی غلط اندازہ لگایا تھا۔ چالیس روز کی جنگ کے بعد، امریکی صدر کو جب اپنی شکست، ہزیمت و سبکی کا احساس ہوا کہ امریکہ اس جنگ میں بری طرح پٹ رہا ہے تو پاکستانی وزیر اعظم کے سوشل میڈیا پیغام، جو درحقیقت امریکی انتظامیہ کی جانب سے ہی بھیجا گیا تھا، پر ٹرمپ نے فوری جنگ بندی کے لئے پاکستانی وزیر اعظم کی درخواست قبول کرتے ہوئے، جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کی حیثیت اتنی ہی تھی کہ جو حکم امریکہ بہادر کی طرف سے آئے، اس پر من و عن عمل کرکے، امریکہ کو جنگ سے نکلنے کے لئے فیس سیونگ فراہم کر دے اور بعد ازاں بھی جو مشقت پاکستان نے کی، اس کی بنیاد یا خواہش امریکہ ہی کی جانب سے تھی البتہ خبریں یہ بھی گرم ہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت کو حتمی بنانے اور فریقین کی منظوری کے لئے، امریکی موقف میں تبدیلی؍ لچک کے لئے کہیں کہیں تھوڑی بہت ڈنڈی بھی ماری گئی ہے، جس کا ذکر تحریر کے آخر میں کروں گا۔ بہرحال معاملات جو بھی رہے، اس وقت عالمی برادری میں پاکستان کا ڈنکا پوری طرح بج رہا ہے اور ساری دنیا پاکستان کی اس کاوش پر مسرور نظر آتی ہے اور اس کا کریڈٹ بھی بہرحال پاکستان کو دے رہی ہے گو کہ اس ثالثی کو سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور سب سے بڑھ کر چین و روس کی مکمل حمایت حاصل تھی جس کی بنا پر پاکستان اس میں کامیاب و کامران ٹھہرا ہے۔ اس کامیابی کا سہرا پوری دنیا کی جانب سے بجا طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر باندھا جا رہا ہے قطع نظر اس حقیقت سے کہ آیا یہ فریضہ واقعتا فیلڈ مارشل سے متعلقہ تھا بھی یا نہیں کہ اصولی طور پر اس قسم کی مفاہمت ؍ثالثی سیاستدانوں کی جانب سے ہوتی ہے لیکن اسے پاکستان کی بدنصیبی یا بد قسمتی سمجھیں کہ اس وقت پاکستا ن پر مسلط حکومت عوامی نماءندہ نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کی مہربانی و مقتدرہ کی خواہش کے مطابق فارم 47کے طفیل اقتدار میں بیٹھی ہے، اور اس اہم ترین معاملے پر ان کی کارکردگی بالخصوص پس منظر میں رہنا، ان کی اہلیت و صلاحیت کو چاک کر رہی ہے۔ عالمی سطح کی سفارت کاری یا گفت و شنید کی اہلیت سے عاری سیاسی قیادت کا مظاہرہ تو کر چکی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کر چکی ہے کہ ایسے خلاء میں عسکری قیادت بہرطور موجود ہے جو ایسے پیچیدہ معاملات کو طے کرنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتی ہے۔ گو کہ ایک جمہوری کہلائے جانے والے ملک میں، ایسے انتظامات کسی بھی طور قابل ستائش نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ تصویر کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ سول و ملٹری قیادت باہم مل کر امور سرانجام دے رہے ہیں تو تیسرا پہلو اور بھی اہم ترین ہے کہ انتظامی لحاظ سے صدر، وزیر اعظم، وزیر دفاع، سیکرٹری دفاع کے بعد آرمی چیف کا نمبر آتا ہے، لیکن پاکستان کی حیثیت خصوصی ہے لہذا ہر جگہ پر آرمی چیف کو پہلے نمبر پر ہی دیکھا اور رکھا جاتا ہے۔
بروز جمعہ ،جینوا میں مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی باقاعدہ تقریب کا انعقاد ہو گا، گو کہ تقریب جینوا میں ہوگی لیکن اس تقریب کا میزبان، پاکستان ہی ہو گا، کتنی عجیب بات ہے کہ اس سارے عمل میں پاکستان نے اپنی تمام تر توانائیاں جھونکیں، پاکستانی قیادت، مسلسل فریقین ے ساتھ رابطے میں رہی، پیغامات کا تبادلہ کرتی رہی، فریقین کو قائل کرتی رہی، مذاکرات کے ایک دور کی میزبانی کا شرف بھی اسلام آباد کو حاصل ہوا، گو کہ یہ میزبانی پاکستانی شہریوں کو بہت بھاری پڑی، اور پہلے رائونڈ کے بعد بھی یہ توقع رہی کہ جلد ہی دوسرا رائونڈ بھی اسلام آباد میں ہو گا اور شہریوں کو شدید ترین پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن بظاہر فوری مذاکرات کا دوسرا رائونڈ ہوتا دکھائی نہ دیا تب شہریوں کے لئے ان دو شہروں کو کھولا گیا۔ اتنے سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود، جب مفاہمتی یادداشت پر حتمی دستخط کا وقت آیا تو اس کے لئے یورپ کو چنا گیا گو کہ اتنا احسان پاکستان پر کیا گیا کہ اس کی میزبانی کا کریڈٹ اب بھی پاکستان کو ہی ملا ہے اور تاریخ میں پاکستان کے اس کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ سوال مگر یہ بھی ہے کہ اس ساری مشق میں پاکستان کو کیا ملا؟ کیا یہ سب پاکستان نے خطے اور کرہ ارض پر امن کی خاطر فی سبیل اللہ کیا ہے؟ اور کیا پاکستان کو اتنا اہم کام فی سبیل اللہ کرنا چاہئے بالخصوص اس دور میں، ایسے فریق کے ساتھ، جو ’’ نو فری لنچ‘‘ کا قائل ہے؟ یا پاکستان نے اپنے ریاستی مفادات کو پس پشت ڈال کر صرف ’’ حق دوستی‘‘ ادا کیا ہے؟؟ ویسے امریکہ دنیا میں کسی کو دوست بنانے کا قائل ہرگز نہیں بالخصوص پاکستان جیسے ملک کو بلکہ امریکی طریقہ کار اور ترجیح ہمیشہ یہی رہی ہے کہ موجودہ مادہ پرستی کے دو ر میں، قیمت ادا کر کے، اپنا مقصد حاصل کیا جائے اور کچھ نہیں، مستقبل میں مزید تعاون حمایت یا مدد درکار ہو، تو اس کے لئے موقع کی مناسبت سے نئی شرائط طے کی جاتی ہیں اور مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ جب ایک آمر مطلق العنان حکمران تھا، اس نے اپنے اقتدار کے عوض، خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کیا تھا جبکہ اس دوران انتہائی شاطرانہ انداز میں امریکہ کو افغان جنگ میں ملوث کر کے، پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے اس کی آنکھیں پھیر دی تھیں، یہ ایک حقیقی طور پر بہت بڑا کارنامہ ہے اور جنرل ضیاء کی تمام تر غیر قانونی اقتدار کے باوجود، اس کارنامہ سے انکار ممکن نہیں البتہ دوسری طرف پاکستان کی معاشرتی زندگی میں جو تبدیلیاں اس ایک غیر قانونی اقتدار سے آئی، ان کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال ایک مرتبہ پھر جنرل مشرف کے دور میں دکھائی دی، جب امریکہ کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ یا ہمارا ساتھ دو وگرنہ پتھر کے دور میں جانے کے لئے تیار رہو، جنرل مشرف یوں تو بہت دلیر ہونے کا تاثر دیتے تھے مگر بدقسمتی سے امریکی دھمکی کے سامنے، دبائو کا سامنا نہ کر سکے اور امریکہ کے ساتھ کھڑے ہو کر، اپنے تئیں پاکستان کو اس وقت پتھر کے دور میں جانے سے بچا لیا مگر بدقسمتی دیکھئے کہ ہماری معاشی حالت حالت آج کسی بھی طور اس سے کم نہیں کہ ہماری ساری معیشت اس وقت قرضوں پر چل رہی ہے اور اشرافیہ مسلسل اس کو بوجھ عوام پر لاد رہی ہے۔ آمروں کے دور میں یہ قدر مشترک رہی ہے کہ کسی دوسری جنگ میں اپنے کندھے فراہم کر کے، ڈالر تو ملک میں لاتے رہے مگر معیشت کو سنبھالنے اور پروان چڑھانے والے حقیقی اقدامات سے دور رہے ماسوائے جنرل ایوب، کہ ان کے دور میں پاکستان میں صنعت نے واقعتا ترقی کی۔
اس مفاہمتی یادداشت کے بدلے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان کو بہت سی مراعات دی جاتیں، جن میں پاکستان پر واجب الادا قرضوں کے حجم میں نمایاں کمی کی جاتی اور پاکستان کو ایران کے ساتھ مجوزہ تیل و گیس پائپ لائن معاہدے پر عملدرآمد کی اجازت مل جاتی تا کہ پاکستان سے توانائی کا بحران ختم ہوتا، پاکستان کو سستے داموں تیل و گیس میسر ہوتی ( جو ممکنہ طور پر مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے بعد، فریقین کے رویوں کے بعد مل جائے لیکن فوری طور پر ابھی ممکن نہیں کہ ایران پر ابھی پابندیاں برقرار ہیں)۔ ابھی تو جو حقائق سامنے آئے ہیں، ان کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ کے ایرانی مذاکرات کاروں سے براہ راست رابطے استوار ہو چکے تھے اور وہ براہ راست مذاکرات کر رہے تھے، پیغامات کا تبادلہ بالواسطہ نہیں ہو رہا تھا، مزید کہا کہ ہم براہ راست مذاکرات میں یہ بھی چیک کر رہے تھے کہ حقائق کیا ہیں اور مبالغہ آرائی کتنی ہے، یعنی پاکستان کے کردار پر شک کا اظہار کرتے ہوئے، پاکستان کو اس سارے عمل سے مکھن سے بال کی طرح نکال پھینکا ہے ؟؟۔

جواب دیں

Back to top button