Column

ٹوکیو سے لندن، کاسا بلانکا سے کوالالمپور تک پاکستان کے چرچے

ٹوکیو سے لندن، کاسا بلانکا سے کوالالمپور تک پاکستان کے چرچے
تحریر : محمد عاصم جیلانی
عالمی افق پر جب جنگ کے سیاہ بادل چھا رہے تھے، بارود کی بو فضا میں ہر طرف پھیل رہی تھی انسانیت ایک اور بڑے المیے کے دہانے پر کھڑی تھی، ایسے میں پاکستان نے وہ کردار ادا کیا، جسے تاریخ سنہری حروف میں لکھے گی، یہ کوئی معمولی لمحہ نہیں، بلکہ وہ گھڑی ہے جب ایک قوم نے اپنے تدبر، ایمان اور اتحاد سے جنگ کے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ یہ ’’ تاریخ کا شاندار لمحہ‘‘ ہے۔ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک احساس ہے، فخر کا، شکر کا، اور ذمہ داری کا۔ جو اب ہمارے کندھوں پر آ چکی ہے۔ جب ایران کے صدر مسعود پزشکیان اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے عالمی رہنما پاکستان کی اپیل پر جنگ بندی پر آمادہ ہوتے ہیں تو یہ صرف سفارتی کامیابی نہیں، بلکہ یہ اس اعتماد کا اظہار ہے، جو دنیا آج پاکستان پر کر رہی ہے۔
اسلام آباد آج صرف پاکستان کا دارالحکومت نہیں رہا، یہ امید کا مرکز بن چکا ہے، امن کا استعارہ، جہاں دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ یہاں ہونے والے ایران، امریکہ مذاکرات محض بات چیت نہیں، بلکہ ایک ایسی جنگ کے خاتمے کی امید ہیں جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔
یہ کامیابی کسی ایک شخصیت کا کارنامہ نہیں، بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ دعا، محنت اور نیت کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی پر اثر قیادت، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی انتھک سفارتکاری اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی مضبوط قیادت نے جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا، وہی اصل طاقت بنی یہ وہ ہم آہنگی ہے جو قوموں کو عروج دیتی ہے، جب فیصلے ذاتی نہیں، بلکہ قومی مفاد میں کیے جائیں۔
دل کو چھو لینے والی بات یہ ہے کہ ملک کے اندر بھی ایک نئی فضا جنم لے رہی ہے۔ سیاسی اختلافات کے باوجود، جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا اپنے جلسے اور احتجاج موخر کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ جب بات پاکستان کی ہو تو سب ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں، یہی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے، یہی ہماری جیت ہے۔
دنیا کے کونے کونے سے پاکستان کے لیے تحسین کے پیغامات آ رہے ہیں ٹوکیو سے لندن، کاسابلانکا سے کوالالمپور تک ہر طرف پاکستان اور پاکستان کی امن کے لئے کوششوں کا تذکرہ ہے۔ محمد بن سلمان، رجب طیب اردوان سمیت دوست ممالک کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان تنہا نہیں، بلکہ ایک مضبوط عالمی برادری اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
لیکن اس روشن تصویر کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی ہے۔ امن کے دشمن خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ بھارت کا واویلا اور منفی پراپیگنڈا اسی بے چینی کی علامت ہے۔ وہ قوتیں جو ہمیشہ نفرت اور تقسیم کو ہوا دیتی ہیں، وہ اس امن کے سفر کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گی۔ اس لیے ہمیں ہوشیار بھی رہنا ہے۔
اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات، تعطیلات کا اعلان، اور عالمی وفود کی آمد یہ سب اس لمحے کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کوئی عام مذاکرات نہیں، بلکہ تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں ایک غلطی تباہی لا سکتی ہے اور ایک درست قدم پوری دنیا کو سکون دے سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جس طرح مہنگائی کے طوفان کو روکنے اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کیے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت صرف عالمی سطح پر نہیں بلکہ اندرون ملک بھی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ کیونکہ ایک مضبوط پاکستان ہی دنیا میں مضبوط کردار ادا کر سکتا ہے۔
آج واقعی پاکستان بدلا ہوا ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جو صرف ردعمل نہیں دیتا بلکہ قیادت کرتا ہے، جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے سوچتا ہے۔
یہ لمحہ سجدہ شکر کا ہے۔ یہ لمحہ صرف کامیابی کا نہیں، بلکہ ذمہ داری کا ہے اگر ہم نے اس موقع کو سنبھال لیا تو تاریخ ہمیں صرف ایک ملک کے طور پر نہیں، بلکہ ’’ امن کے معمار‘‘ کے طور پر یاد رکھے گی۔

جواب دیں

Back to top button