Column

پاکستان ہمیشہ زندہ باد

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
تحریر : محمد ناصرشریف
پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ رکوا دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے پاکستان کی اپیل منظور کرلی۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے لگے۔ 10اپریل 2026ء کو اسلام آباد عالمی نگاہوں کا مرکز اور امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا میزبان ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی موثر سفارتکاری اور حکمت عملی کو عالمی سطح پر بھرپور سراہا جا رہا ہے، جہاں بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان کے کردار کو امن کے قیام میں کلیدی قرار دیا ہے وہیں عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان نے نہ صرف بہترین ملٹری ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنی فعال سفارتی کوششوں کے ذریعے ایک ممکنہ بڑی جنگ کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عالمی میڈیا اداروں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان خطے میں ایک ’’ نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر ‘‘ کے طور پر ابھرا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے حملے روکنے کا اعلان کیا۔ عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان ایک مضبوط ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے خود اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد جنگ روکنے کا فیصلہ کیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پاکستان کئی ہفتے سے مسلسل سفارتی کوششوں میں مصروف تھا اور بالآخر خطے میں امن کے قیام میں کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح گلف نیوز نے لکھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر خود کو ایک قابلِ اعتماد امن ضامن کے طور پر منوایا ہے۔ ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق پاکستان نے ایک تاریخی اور موثر مصالحتی کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو بڑے تباہ کن خطرات سے بچایا۔ بھارتی اخبار دی ہندو نے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کو نمایاں کرتے ہوئے ان کے کردار کو سراہا۔
پاکستان کی قیادت، خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدبرانہ حکمت عملی اور مسلسل کوششوں نے نہ صرف جنگ کے پھیلائو کو روکا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ایران، امریکا تنازع میں پاکستان کی ثالثی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم اور قابلِ اعتماد سفارتی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فلیڈ مارشل عاصم منیر کے بروقت اقدامات نے ممکنہ بڑے تصادم کو ٹال دیا جبکہ لاکھوں افراد کو ممکنہ تباہی سے بچانے میں مدد ملی۔
مختلف رہنمائوں نے جنگ بندی پر ایرانی قوم کے عزم کو سلام پیش کرتے ہوئے حکومت اور پوری پاکستانی قوم مبارک باد دی۔ ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر پاکستان کی سیاسی شخصیات نے پاکستانی سول و عسکری قیادت کے کردار کو سراہا اور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سیز فائر مستقل ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس سنگِ میل کے حصول میں کردار ادا کرنے والے تمام فریقین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور حکومت سے توقع ظاہر کی کہ عالمی حالات میں بہتری کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موثر ثالثی سے دنیا بھر کو ریلیف ملے گا۔ ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے سیاسی و عسکری قیادت کو مبارکباد دی۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بھی وزیراعظم کی قیادت اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کو جنگ بندی ممکن بنانے میں اہم قرار دیا اور اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب سنگِ میل کہا۔ گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا کہ جنگ بندی میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار رہا اور عالمی میڈیا میں بھی پاکستان کی قیادت کو نمایاں طور پر سراہا جا رہا ہے۔ سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ دانشمندی ہے اور یہ پیشرفت خطے میں استحکام اور خوشحالی کا باعث بنے گی۔ جنگ بندی کے بعد ایران میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جہاں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا اور پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنیوالی ویڈیوز اور تصاویر میں ایرانی عوام کو پاکستانی پرچم اٹھائے خوشی کا اظہار کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ تہران سمیت مختلف شہروں میں جشن کا سماں ہے۔
اٹلی کے سابق وزیر اعظم پائولو جینٹی لونی نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو نوبل انعام کا حقدار قرار دے دیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ جنگ بندی کیلئے شہباز شریف نوبل انعام کے مستحق ہیں۔ پاکستان کو دنیا بھر میں وہ عزت ملی جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اب پاکستان کو با اعتماد ثالث کے طور پر خطے اور پوری دنیا میں تسلیم کیا جارہا ہے ، عرب و عجم سمیت عالمی طاقتوں کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔ پاکستان کے سول اور عسکری قیادت پر مشتمل ہائبرڈ ماڈل نے دو تین سال میں بے پناہ کامیابیاں سمیٹیں، ثابت ہوتا ہے طاقت کے مراکز مل کر کام کریں تو پاکستان عالمی سطح پر کتنی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ بھارت سے جنگ میں کامیابی اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے دلیرانہ نعرے پاکستان ہمیشہ زندہ باد نا صرف ملک میں ایک نئی روح پھونکی بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کو طاقتور ریاست کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا ہے۔
پاکستان کی پے درپے کامیابیوں سے تو جیسے بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ بھارتی عوام اور تجزیہ کاروں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شہرت کا ڈنکا بجتا دیکھا تو وزیراعظم نریندر مودی کیلئے ارض حیات تنگ کردی ہے ۔ بھارتی تجزیہ کار نے کہا 10سال پہلے اُڑی واقعے پر نریندر مودی نے کہا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کر دیں گے۔ آج سفارتکاری کے میدان میں پاکستان کا نام ہے اور بھارت اور مودی کا نام و نشان تک نہیں۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی نریندر مودی کو نہیں بخشا اور دعویٰ کیا کہ امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار نے ان کی انتہائی شخصی سفارتکاری کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور خود ساختہ وشوو گرو مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکرٹری اطلاعات جیرام رمیش نے کہا جنگ بندی میں پاکستان کی شمولیت بھارت کی اس دیرینہ پالیسی کو کمزور کرتی ہے، جسکے تحت اسلام آباد کو دہشتگردی کے معاملے پر عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کا کردار مودی کی سفارتکاری کے اسلوب اور مواد دونوں پر سوالیہ نشان ہے۔

محمد ناصر شریف

جواب دیں

Back to top button