ColumnQadir Khan

پاکستان کا عالمی امن کے لئے بے مثال ’’ سوورین انجینئر‘‘ کردار

پاکستان کا عالمی امن کے لئے بے مثال ’’ سوورین انجینئر‘‘ کردار
تحریر : قادر خان یوسف زئی
تاریخ کے اوراق جب بھی مشرقِ وسطیٰ کے اس ہولناک باب کو رقم کریں گے، تو اس کی سیاہی میں خون، بارود اور عالمی معیشت کے ڈوبنے کی بو ضرور شامل ہوگی۔ سات اپریل 2026ء کی وہ اعصاب شکن رات، جب گھڑیاں رات آٹھ بجے کی طرف سرک رہی تھیں، تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے انسانی تہذیب ایک بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے اور واشنگٹن سے ایک چنگاری اس پورے خطے کو بھسم کرنے کے لیے اڑان بھر چکی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ الٹی میٹم کہ ’’ آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی‘‘، محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا، بلکہ اس تباہی کا پیش خیمہ تھا جو گزشتہ چالیس روز سے جاری آگ اور خون کی ہولی کا نقطہ عروج بننے جا رہا تھا۔ یہ وقت کی ستم ظریفی ہے کہ جب بڑی طاقتوں کا غرور اور علاقائی چودھراہٹ کا خمار سر چڑھ کر بولتا ہے، تو امن کی فاختہ کسی کونے میں دبک کر موت کا انتظار کرتی ہے۔ لیکن عین اس لمحے جب عالمی سفارت کاری مفلوج ہو چکی تھی اور دنیا ایک تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، اسلام آباد نے ایک ایسی خاموش لیکن فیصلہ کن بساط بچھائی جس نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔
اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والا امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ ’’ آپریشن ایپک فیوری‘‘ کوئی روایتی عسکری مہم نہیں تھی۔ یہ ایک خودمختار ریاست کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکنے کی سوچی سمجھی تزویراتی چال تھی۔ ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت اور تعلیمی و سویلین انفراسٹرکچر کی تباہی نے خطے میں وہ زخم لگائے ہیں جن کے رسنے کی آوازیں دہائیوں تک سنی جائیں گی۔ لیکن دوسری جانب، تہران نے بھی مزاحمت کی وہ تاریخ رقم کی جس نے پینٹاگون کے عسکری منصوبہ سازوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں پر برستا قہر اور سب سے بڑھ کر آبنائے ہرمز کی بندش، وہ ماسٹر سٹروک تھا جس نے عالمی دارالحکومتوں کی نیندیں اڑا دیں۔ جب دنیا کا بیس فیصد تیل اور گیس رک جائے، تو جنگ صرف خلیج کے پانیوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے شعلے لندن، ٹوکیو اور سڈنی کی منڈیوں تک جا پہنچتے ہیں۔ عالمی معیشت کی شہ رگ پر پڑنے والے اس دبائو نے کثیرالقطبی دنیا کو یہ باور کرایا کہ طاقت کا توازن اب صرف ہوائی جہازوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ جغرافیائی راستوں پر کنٹرول سے طے ہوتا ہے۔
اس قیامت خیز منظر نامے میں، جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مفلوج اور عالمی ضمیر خاموش تھا، پاکستان کا کردار ایک مسیحا کے طور پر ابھرا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا، بلکہ ریاستی اداروں کی اس ہم آہنگی کا نتیجہ تھا جو طویل عرصے بعد دیکھنے کو ملی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جس طرح سعودی عرب، ترکی اور چین کو ایک سفارتی لڑی میں پرویا، وہ بذات خود ایک ماسٹر کلاس ہے۔ سعودی عرب کے شہر جبیل پر حملے کے بعد ریاض کو جوابی کارروائی سے روکنا اور دفاعی معاہدوں کی پاسداری کا یقین دلانا، وہ باریک کٹی ہوئی سفارتی چال تھی جس نے اس جنگ کو پورے عالم اسلام کی جنگ بننے سے روکا۔
تاہم، سفارت کاری کی اصل کامیابی بند کمروں اور ہاٹ لائنز پر طے پاتی ہے۔ اس نازک موڑ پر عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ملٹری انٹیلی جنس کی گہرائیوں اور پیچیدگیوں کو سمجھنے والے عسکری دماغ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان عدم اعتماد کی اس خلیج کو پاٹا جو بظاہر ناممکن نظر آ رہی تھی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان رات گئے ہونے والے پیغامات کا تبادلہ اور الٹی میٹم کی ڈیڈ لائن سے چند لمحے قبل جنگ بندی کا اعلان، اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے عالمی امن کے لیے ایک ایسے ’’ سوورین انجینئر‘‘ (Sovereign Engineer)کا کردار ادا کیا ہے، جس کی نظیر حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔
’’ معاہدہ اسلام آباد‘‘ کا یہ چودہ روزہ عارضی مرحلہ، جو بظاہر ایک سفارتی فتح ہے، اپنے اندر بے شمار پیچیدگیاں اور کانٹے سموئے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز کا کھلنا کوئی پرانی معمول کی کارروائی نہیں ہے۔ تجارتی جہازوں پر بیس لاکھ ڈالر کی ٹرانزٹ فیس اور ایرانی مسلح افواج کی ریگولیٹری نگرانی دراصل ایران کی وہ تزویراتی فتح ہے جس نے سمندری قوانین کی نئی تشریح کر دی ہے۔ یہ فیس محض ایک محصول نہیں، بلکہ مغربی پابندیوں کے منہ پر وہ طمانچہ ہے جو تہران کو معاشی تنہائی سے نکالنے کا راستہ فراہم کر رہا ہے۔ اب جب کہ جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کی میز سجنے والی ہے، تو یہ سوال اہم ہے کہ کیا ایران اپنے 10نکاتی ایجنڈے اور جوہری افزودگی کے حق سے دستبردار ہوگا؟ ترجموں کا وہ کھیل، جہاں تہران اپنے عوام کو فارسی میں افزودگی کی نوید سنا رہا ہے اور انگریزی مسودے میں ابہام چھوڑ رہا ہے، اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ ایرانی قیادت کس قدر کٹھن داخلی دبا کا شکار ہے۔
لیکن تصویر کا سب سے تاریک اور خطرناک پہلو لبنان ہے۔ یہ کیسی جنگ بندی ہے جو سرحد کے ایک پار تو خاموشی لاتی ہے لیکن دوسری طرف موت کا رقص جاری رکھتی ہے؟ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا یہ ہٹ دھرمی پر مبنی موقف کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رہے گی، دراصل اس معاہدے کے بطن میں رکھا گیا وہ ٹائم بم ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اسرائیل کے اندرونی سیاسی بحران اور اپوزیشن کے دبائو نے نیتن یاہو کو ایک اندھی گلی میں دھکیل دیا ہے، جہاں وہ اپنی بقا کے لیے بیروت کو کھنڈر بنانا ناگزیر سمجھتے ہیں۔ اگر حزب اللہ کو دیوار سے لگایا گیا، تو یہ ناممکن ہے کہ ایران کی ’’ ایکسس آف ریزسٹنس‘‘ ( محور مزاحمت) خاموش تماشائی بنی رہے۔
اسلام آباد آج عالمی سفارت کاری کا عالمی مرکز بن چکا ہے۔ سلامتی کونسل کی رکنیت اور شنگھائی تعاون تنظیم کی میزبانی نے پاکستان کے سفارتی قد میں جو اضافہ کیا ہے، وہ ہماری برسوں کی معاشی اور سیاسی تنہائی کے بعد ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مشرقِ وسطیٰ کی ریت پر لکھے گئے معاہدے اکثر خون سے مٹائے جاتے ہیں۔ اگر واشنگٹن اپنی ہٹ دھرمی، تہران اپنی ضد اور تل ابیب اپنی خونی مہم جوئی سے پیچھے نہ ہٹا، تو یہ چودہ دن کا امن محض طوفان سے پہلے کی خاموشی ثابت ہوگا۔ پاکستان نے دنیا کو تباہی سے تو بچا لیا ہے، لیکن اب عالمی طاقتوں کا امتحان ہے کہ وہ اس مہلت کو مستقل امن میں بدلتی ہیں یا پھر سے اس تہذیب کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کا سامان کرتی ہیں۔ وقت کی سوئی ٹک ٹک کر رہی ہے، اور تاریخ کی عدالت اسلام آباد کے بند کمروں پر نظریں جمائے بیٹھی ہے۔

جواب دیں

Back to top button