مہنگائی کیسے کم ہو گی

مہنگائی کیسے کم ہو گی
شاہد ندیم احمد
عوام پہلے ہی بڑھتی مہنگائی سے پریشان حال تھے کہ حکومت نے ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر دوسری بار تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا، لیکن اس کے خلاف جب فوری عوامی رد عمل آیا تو قیمت میں 80روپے کم کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اگر 137روپے 23پیسے بڑھا کر 80روپے کم کر بھی دیا جائے تو عوام کی مشکلات میں کوئی خاص کمی نہیں آئے گی ، کیو نکہ ایک بار پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ساٹھ فی صد اضافے کے اعلان کی شکل میں سامنے آگیا ہے، ظاہر ہے کہ اس کے بعد اشیائے خور و نوش سمیت تمام ضروریات زندگی کی مہنگائی کا سیلاب یقینی ہے، جو کہ غریب اور متوسط طبقوں کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کو ناقابل تصور حد تک مشکل بنا دے گا۔
اس پر حکومت کا موقف ہے کہ ایران سے امریکہ و اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں ریکارڈ اضافوں کے بعد اس کے پاس پاکستان میں بھی قیمتیں اتنی حد تک بڑھانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا ، اگر چہ اس کے نتیجے میں عام آدمی کی مشکلات بہت بڑھ جائیں گی، لیکن اس کی حکومت کو کوئی خاص پروا ہے نہ ہی فیصلہ ساز کچھ سو چ رہے ہیں، عوام مخالف فیصلے ہی کیے جارہے ہیں اور ایک بار پھر عوام کے ساتھ اشرافیہ سے قربانی دینے کی باتیں کی جارہی ہیں، بچت مہم بھی چلائی جارہی ہے، لیکن یہ سب کچھ سیاسی اور اشتہاری مہم کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، اس ملک میں ہر حکو مت اب تک منصفانہ ٹیکس سسٹم رائج نہیں کر پائی ہے تو کیسے معاشی بد حالی کو معاشی استحکام میں بد لنے کی دعوے دار بن سکتی ہے اور کیسے در پیش بحرانوں پر قابو پا کر عوام کو ریلیف دے سکتی ہے، اس ملک میںبالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار کے ذریعے ہی قومی خزانہ عام آدمی پر بھاری بوجھ ڈال کر بھرا جاتا ہے، اس کا ہی نتیجہ ہے کہ خود حکومتی دستاویزات کے مطابق غربت کی شرح گزشتہ 11برسوں کی بلند ترین سطح یعنی 29فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ملک میں ایک طرف غربت بڑھتی جارہی ہے تو دوسری جانب حکومت کے عوام مخالف فیصلوں کے باعث مہنگائی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، حکو مت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے بلند ترین اضافے کے بعد کسی حد تک عوام کے لیے مختلف رعایتوں کا عندیہ دیا ہے ، لیکن اصولی طور پر عوام کو رعایت دینے کا بہترین طریقہ تھا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی مد میں اپنی آمدنی کو مزید بڑھانے سے اجتناب کرتی ، جیسا کہ دیگر ممالک میں کیا جارہا ہے، اس میں سپین کی حکومت کے احسن فیصلے کی مثال دی جا سکتی ہے کہ اُس نے ملک میں 21فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس نافذ کیا ہے، وہاں حکومت کے لیے جاری عالمی بحران کے پیش نظر تیل کی قیمت بڑھانا ناگزیر ہوئی تو اُس نے سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح 21فیصد سے کم کر کے 10فیصد کر دی، یعنی اپنی آمدن کم کر لی، لیکن اپنے شہریوں پر بوجھ نہیں ڈالاہے، جبکہ ہمارے ہاں برعکس ہو رہا ہے، یہاں عام آدمی پر بوجھ ڈالا جارہا ہے اور حکومتی شاہ خرچیاں جوں کی توں ہیں اور اشرافیہ کو نوازا جارہا ہے، مگر یاد رہے کہ آخری تنکا اونٹ کی کمر توڑتا ہے۔
اس وقت ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، اس کے بعد مہنگائی کے طوفان کا انتظار ہے، جو کہ پہاڑی علاقوں کے سیلاب کی طرح اوٹ میں چھپا ٹوٹ پڑنے کو ہے، عالمی ادارے خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافے سے خبردار کر چکے ہیں، مگر ملکی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بے بہا اضافے کے اثرات صرف خوراک کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے، اس کا حکمرانوں کو شاید اندازہ نہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کے اثرات تمام شعبہ ہائے زندگی پر کس قدر سنگین ہوں گے اور پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عام آدمی کے لیے زندگی کس قدر دشوار ہو جائے گی، اس بارے حکمران کوئی خاص فکر مند دکھائی نہیں دیتے ہیں ، حکمران سمجھتے ہیں کہ عوام پر جتنا مرضی بوجھ ڈال دیا جائے ، عوام نہ صرف بر داشت کر جائیں گے ، بلکہ صبر بھی کر جائیں گے اور کوئی احتجاج کوئی آواز نہیں اُٹھائیں گے۔
اس کا ثبوت اپوزیشن بھی دے رہی ہے کہ باہر نکلنے کے بجائے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی باتیں کر رہی ہے ، اس کمزور طرز عمل کے بعد عوام مایوس ہیں ، لیکن عوام کا صبر لبریز ہورہا ہے ، عوام کے اندر حکومت مخالف جذبہ بڑھ رہا ہے، اس کو محسوس کرتے ہوئے سبسڈی دینے کی باتیں کی جارہی ہیں، وفاقی وزرائے کرام نے بعض شعبوں اور طبقات کے لیے جس سبسڈی کا اعلانات کر رہے ہیں، اس کے طریق کار کے بارے میں خود حکومتی ذمہ دار اور پٹرول پمپ مالکان واضح نہیں ہیں، یہ طریقہ کار اس قدر گنجلک ہے کہ اس کے فائدہ کے بجائے الٹا نقصان ہی ہو گا، اس سے عوام کو کچھ خاص ریلیف ملے گا نہ ہی مہنگائی میں کوئی کمی آئے گی، اس کے ساتھ وزیر اعظم اشرافیہ سے ایک بار پھر قومی مفاد میں قربانی کی درخواست تو کر رہے ہیں، مگر اس مراعات یافتہ طبقہ کی مراعات میں کمی کا ٹھوس اور واضح اعلان نہیں کیا جارہا ہے، اس صورتحال میں مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام اور مراعات یافتہ طبقہ میں براہ راست تصادم اور معاشرتی فساد کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے، جو کہ ہر چوک چوراہے پر عنقریب نظر بھی آئے گا۔





