پاکستان کو تاریخ کے بدترین ’’ اسٹریٹجک دبائو ‘‘ کا سامنا

پاکستان کو تاریخ کے بدترین ’’ اسٹریٹجک دبائو ‘‘ کا سامنا
قادر خان یوسف زئی
مشرق وسطیٰ اس وقت ایک ایسی ہولناک آگ کی لپیٹ میں ہے جس کے شعلے جنوبی ایشیا کی سرحدوں کو جھلسا رہے ہیں۔ فروری 2026ء کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ ’’ آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے خطے کے جغرافیائی اور سیاسی توازن کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس ہولناک کارروائی کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور امریکی فوجی اڈوں پر جوابی میزائل حملوں نے ایک محدود تصادم کو وسیع علاقائی جنگ میں بدل دیا ہے۔ ایسے کٹھن اور اعصاب شکن ماحول میں، جب عالمی طاقتیں اپنے مہرے چل رہی ہیں، پاکستان ایک انتہائی پیچیدہ سفارتی اور سیکیورٹی دوراہے پر کھڑا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے جس ’’ فعال غیر جانبداری‘‘ اور سفارتی توازن کا مظاہرہ کیا، وہ دراصل اسلام آباد کی جغرافیائی مجبوریوں اور معاشی حقائق کا عکاس ہے۔ پاکستان نے ایک طرف ایران کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی، تو دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک پر ایرانی میزائل حملوں کو بھی قطعی ناقابل قبول قرار دیا۔ یہ دہری مذمت دراصل پاکستان کا وہ کڑا امتحان ہے جہاں وہ نہ تو اپنے پڑوسی ملک ایران کو تنہا کر سکتا ہے جس کے ساتھ اس کی سرحدیں اور سیکیورٹی معاملات جڑے ہیں، اور نہ ہی خلیجی ممالک کو ناراض کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے جو لاکھوں پاکستانی تارکین وطن کا مسکن اور ملکی معیشت کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ عالمی اور علاقائی بحران ایک ایسے وقت میں ابھرا ہے جب پاکستان کی عسکری قیادت کو تاریخ کے بدترین ’’ اسٹریٹجک دبائو‘‘ کا سامنا ہے۔ ایک طرف مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ مئی 2024کے ’’ آپریشن سیندور‘‘ کے بعد سے کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کسی بھی وقت نیا تصادم بھڑکنے کے سنگین خدشات موجود ہیں۔ دوسری جانب مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کو کابل کے خلاف کھلی جنگ ( اوپن وار) کا اعلان کرنا پڑا۔ ٹی ٹی پی کی مسلسل دہشت گردانہ کارروائیوں اور افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملوں کے جواب میں کابل، پکتیا اور قندھار پر پاکستانی فضائی حملے اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان بیک وقت دو محاذوں پر برسرِ پیکار ہے۔ اس ’’ دو طرفہ جنگی محاذ‘‘ کی گھٹن میں، ایران کا عدم استحکام پاکستان کے لیے ایک تیسرے اور انتہائی خطرناک محاذ کے کھلنے کی نوید ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کے اندرونی حالات تیزی سے ساختی تبدیلی اور ممکنہ ریجیم چینج کی طرف گامزن ہیں۔ برسوں سے معاشی پابندیوں، کرنسی کی بے تحاشا گراوٹ اور افراط زر کا شکار ایرانی عوام، جو دسمبر 2025 ء سے ملک کے 31صوبوں میں سراپا احتجاج تھے، اب ایک کٹر بغاوت کے موڈ میں آ سکتے ہیں اور معاشی بحران ایک سیاسی انقلاب کی شکل اختیار کرنے جارہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی کھلی حمایت اور نظام کی تبدیلی کے بیانات نے اس تحریک کو مزید تقویت دی ہے۔ معروضی تجزیہ کیا جائے تو ایران میں اس وقت اقتدار کی منتقلی یا تو پاسداران انقلاب (IRGC)کی براہ راست فوجی آمریت کی طرف جا سکتی ہے۔ بغاوت پیدا کرنے کی کوشش ، ایران کے لئے ایک سنگین چیلنج ہوگا اور بادی النظر امریکی اور اسرائیلی عزائم اس عزم اعادہ کر رہے ہیں کہ وہ ایران رجیم کئے بغیر اپنے اہداف کو مکمل کرنا چاہتے ہیں، اور وہ کسی بھی عالمی برادری یا فورم کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
ایران میں اقتدار کے اس ممکنہ خلا اور خامنہ ای کی موت نے پاکستان کے لیے اندرونی سلامتی کے انتہائی سنگین خطرات پیدا کر دئیے ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ ملک کے اندر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا متاثر ہونا ہی۔ امریکی اور اسرائیلی تنصیبات یا مفادات پر حملوں کے لیے ایران کے حمایت یافتہ ‘سلیپر سیلز’ کے متحرک ہونے کے خدشات نے سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ اگر یہ عناصر خدانخواستہ پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہیں، تو ملک جو پہلے ہی ماضی میں شیعہ سنی کشیدگی کا شکار رہا ہے، ایک بار پھر خوفناک فرقہ وارانہ کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، 900کلومیٹر طویل ایرانی سرحد کا کنٹرول کمزور پڑنے سے بلوچ علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد عناصر کو محفوظ پناہ گاہیں مل سکتی ہیں، جس سے بلوچستان کا امن براہ راست تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ تاہم ایران حالت جنگ میں ہے اور ان حالات میں گزشتہ اسرائیلی اور امریکہ کے مشترکہ حملوں میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے مہاجرین نے موساد اور سی آئی اے کے لئے مخبری کا جو جال بچھایا تھا ، ان کا دوبارہ فعال ہونا ایرانی حکومت کے لئے خود ایک چیلنج ہے کیونکہ ان مخبروں کی وجہ سے ایران پہلے ہی کافی ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکا ہے۔ اب جبکہ ایران کی عوام غم میں ہے اور اس سوگ کے ماحول میں اسرائیل و امریکہ کی دھمکیاں اور ایران کی جانب سے شدید ردعمل کے خدشات نے خطے کے امن کو خطرات میں دھکیل دیا ہے۔ عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کا ردعمل ایسے سفارتی تنہائی کا شکار کرتا چلا جائے گا اور اسرائیل اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہے کہ خلیج ممالک میں ہونے والے نقصانات سے عرب و ایران کو ہی نقصان پہنچے گا۔
ایک تزویراتی ( اسٹریٹجک) طالب علم کے نقطہ نظر سے سب سے ہولناک منظرنامہ وہ ہے جس میں امریکہ کی حمایت یافتہ بغاوت کامیاب ہو جائے اور تہران میں ایک مغرب نواز حکومت قائم ہو جائے۔ اگر ایران امریکی اتحادی بن جاتا ہے، تو پاکستان مکمل طور پر ’’ اسٹریٹجک محاصرے‘‘ کا شکار ہو جائے گا۔ ایک طرف مشرق میں امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر بھارت، دوسری طرف مغرب میں امریکی اثر و رسوخ والا ایران، اور شمال مغرب میں عدم استحکام کا شکار افغانستان۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے علاقائی سیاست میں گھٹن کا باعث بنے گی۔
مزید برآں، ایران میں کسی بھی قسم کی طویل خانہ جنگی یا بغاوت کے نتیجے میں لاکھوں افغان اور ایرانی مہاجرین کا ریلا بلوچستان کی سرحدوں کا رخ کرے گا۔ پاکستان کی کمزور معیشت جو پہلے ہی آئی ایم ایف کے قرضوں کے سہارے چل رہی ہے، اس قدر بڑے انسانی المیے اور مہاجرین کے بوجھ کو اٹھانے کی قطعی سکت نہیں رکھتی۔ ایک ایسے وقت میں جب ریاست کو اندرونی سیاسی، معاشی اور تزویراتی استحکام کی اشد ضرورت ہے، سفارتی توازن، بیرونی مہم جوئی سے گریز اور دفاعی حکمت عملی ہی وہ واحد راستہ ہیں جو پاکستان کو اس چہار سو لگی آگ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہ وقت محض جذباتی بیانات کا نہیں، بلکہ انتہائی ٹھوس، پیشہ ورانہ اور دور اندیشانہ پالیسی سازی کا ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب پڑوس میں آگ لگتی ہے تو کوئی بھی گھر اس کی تپش سے محفوظ نہیں رہتا۔





