آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت
مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورت حال نے ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن کر خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجارہی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں ایک تاریخی اور نازک حالات پیدا کردئیے ہیں۔ ایرانی میڈیا کی تصدیق کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای دفتر میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہوئے۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا، بہو اور نواسی بھی شہید ہوگئے جب کہ اسرائیلی میڈیا نے ایران کے 40سے زائد حکام کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران نے بدلے کی کارروائی کے طور پر 27امریکی اور اسرائیلی اہداف پر میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 1989ء سے ایران کی قیادت کرنے والے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ایران نے ان کی شہادت کے بعد سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا، جو نہ صرف ایران کے عوام کی عاطفی کیفیت بلکہ ملک میں سیاسی اور مذہبی قیادت کے استحکام کو ظاہر کرتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی زندگی میں ہمیشہ سادگی اختیار کی اور اپنی قیادت کے دوران مذہبی اور سیاسی اصولوں پر قائم رہے۔ ان کا آخری خطاب اور دعا، جس میں انہوں نے شہادت کی آرزو ظاہر کی تھی، آج ان کی وفات کے ساتھ ایک تاریخی حقیقت میں بدل گئی ہے۔ اس واقعے نے عالمی سیاست میں نئی کشیدگی پیدا کی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی دعوے کے مطابق مشترکہ حملے کے دوران ایران پر 1200سے زائد بم گرائے گئے اور اہم فوجی اور سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت مکمل طور پر تباہ کی گئی اور سپریم لیڈر کی شہادت عالمی سیاست میں امریکی و اسرائیلی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تاہم، ایران نے فوری اور شدید جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ایران کی عارضی قیادت کونسل میں آیت اللہ علی رضا اعرافی کو قیادت کونسل کے فقیہ کے طور پر مقرر کیا گیا ہے جب کہ ایرانی صدر اور عدلیہ کے سربراہ بھی اس تین رکنی کونسل کا حصہ ہیں۔ یہ اقدام ایران میں قیادت کے خلا کو فوری پُر کرنے کے لیے اٹھایا گیا، تاکہ ملک میں سیاسی استحکام برقرار رہے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلنے سے روکا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات مسلسل آ رہی ہیں۔ ایرانی حملوں کے نتیجے میں دبئی میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ تل ابیب میں 40عمارتیں تباہ ہوئیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب کے 200سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ، آرمی چیف عبدالرحیم موسوی، سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور بھی شہید ہوئے۔ خطے میں اس کشیدگی کے نتیجے میں عالمی سطح پر ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے واضح کیا کہ امریکا اور اسرائیل کا مقصد ایران کو لوٹنا اور منتشر کرنا ہے جبکہ ایرانی عوام اور مسلح افواج کو متحد رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی اڈوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور پاسداران انقلاب نے 27امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس واقعے نے دنیا بھر میں مظاہروں اور احتجاجات کو بھی جنم دیا ہے۔ امریکہ کے 70شہروں سمیت مختلف ممالک میں ایرانی عوام اور جنگ مخالف گروپ سڑکوں پر نکل آئے، احتجاج کرتے ہوئے فلسطین اور خطے کے امن کے لیے نعرے لگائے گئے۔ اس کے ساتھ، قطر، بحرین اور امارات میں دھماکوں کی اطلاعات نے مشرق وسطیٰ میں موجود شہریوں کے لیے خطرات بڑھا دئیے ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے نہ صرف فوجی اور سیاسی توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ اقتصادی اور سماجی اثرات بھی واضح ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے اہم شہروں میں شہری نقل و حرکت محدود ہوگئی ہے، فضائی حدود بند کردی گئی ہیں اور اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کے شہریوں کو زیر زمین بنکرز میں رہنے کی ہدایت دی گئی، جس سے شہری زندگی متاثر ہوئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی کارروائی اور ایران کے جوابی حملے خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ اس صورت حال میں علاقائی ممالک، خاص طور پر خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک، نے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی اور اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا اعلان کیا۔ ایران کے حملے خلیج ریاستوں کے لیے واضح خطرہ ہیں، جس سے عالمی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے اور سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد جاری سخت اقدامات، اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔ سپریم لیڈر کی شہادت ایران اور اسلامی دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، جس کے اثرات خطے میں طویل مدت تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہ بھی واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس وقت کشیدگی کا حل صرف فوجی کارروائی سے ممکن نہیں۔ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور خطے کے ممالک کو فوری مذاکرات، سفارتی کوششیں اور سیاسی اقدامات کے ذریعے صورت حال کو قابو میں لانا ہوگا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، اقتصادی استحکام اور سیاسی توازن برقرار رکھنا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے مشرق وسطیٰ کو نازک دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایران کے لیے بلکہ خطے اور عالمی سیاست کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ اب وقت ہے کہ تمام فریق انسانی جانوں، بین الاقوامی قوانین اور عالمی امن کے تحفظ کے لیے ذمے دارانہ کردار ادا کریں، تاکہ ایک بڑے عالمی بحران سے بچا جا سکے۔
آپریشن غضب للحق کامیابی سے جاری
پاکستان کی سرحدی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے جاری آپریشن غضب للحق نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ملک دہشت گردی اور بلااشتعال جارحیت کے خلاف موثر اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس آپریشن کے دوران پاک فوج نے افغان طالبان رجیم کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 435دہشت گرد ہلاک اور 630سے زائد زخمی کیے ہیں۔ یہ کارروائی نہ صرف پاکستانی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بلکہ افغانستان سے دہشت گرد حملوں کے سدِباب کے لیے بھی ناگزیر تھی۔ وزیر اطلاعات کے مطابق آپریشن کے دوران 188پوسٹیں مکمل طور پر تباہ ہوئیں اور 31پر قبضہ حاصل کر لیا گیا۔ مزید برآں، 188ٹینک، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز بھی غیر فعال کردی گئی ہیں، جس سے دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت اور حملہ آور صلاحیت میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ پاک فضائیہ نے بھی آپریشن میں بھرپور کردار ادا کیا، افغان طالبان کے51ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر دہشت گرد نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ کارروائی یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف زمینی بلکہ فضائی محاذ پر بھی دشمن کے لیے کسی رعایت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج اپنے عوام اور سرحدی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے۔ آپریشن غضب للحق دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی پالیسی کا عملی مظاہرہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف دہشت گردوں کو روکا جانا بلکہ اس بات کی بھی یقین دہانی کرانا ہے کہ سرحدی علاقوں میں امن قائم رہے۔ یہ کارروائی افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے جواب میں کی گئی اور اس کے نتائج نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنے ملک اور عوام کے دفاع میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آپریشن غضب للحق نہ صرف دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی عزم کی علامت ہے بلکہ یہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔ پاکستانی عوام کو امید ہے کہ اس کارروائی کے ذریعے سرحدی علاقوں میں قیام امن ممکن ہوگا اور دہشت گرد گروہوں کی منصوبہ بندی ہمیشہ کے لیے ناکام بنائی جائے گی۔





