پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں، 80دہشتگرد ہلاک

پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں، 80دہشتگرد ہلاک
پاکستان پہلے بھی دہشت گردی کا خاتمہ کرچکا اور اس بار بھی اس کے قلع قمع کے لیے مصروف عمل ہے۔ داخلی و خارجی عناصر کی ملی بھگت سے کی جانے والی دہشت گرد کارروائیوں نے نہ صرف ملک کی سیکیورٹی کو متاثر کیا بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالا۔ اسلام آباد، باجوڑ، بنوں اور دیگر علاقوں میں ہونے والے خودکُش دھماکوں نے ہمیں بار بار یاد دلایا کہ پاکستان کی سرزمین پر امن قائم رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی افواج اور سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائیاں نہ صرف داخلی سلامتی کے لیے ضروری ہیں بلکہ اس خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ پاکستان کی جانب سے گزشتہ روز انٹیلی جنس بیسڈ فضائی حملوں میں افغانستان کے تین صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے سات مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان مراکز میں موجود 80سے زائد شدت پسند مارے گئے، جن میں بیشتر پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ یہ کارروائی واضح طور پر بتاتی ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتا ہے بلکہ اس نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے کا حتمی عزم کرلیا ہے۔ پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ، طلال چودھری نے بھی اس کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی زمین اور عوام کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج اور ان کے خارجی ہینڈلرز کی ایما پر کی جارہی ہیں۔ وزارت اطلاعات کے بیان کے مطابق، دہشت گرد گروہ، جن کا تعلق فتنہ الخوارج اور دولت اسلامیہ صوبہ خراسان سے ہے، نے ان کارروائیوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔ یہ واضح ہے کہ پاکستان کی زمینی اور فضائی کارروائیاں محض انتقامی اقدامات نہیں بلکہ ملکی سلامتی اور عوام کی حفاظت کے لیے ضروری تدابیر ہیں۔ پاکستان بار بار افغان طالبان حکومت پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے، لیکن افغان طالبان حکومت کی غیر فعال رویے کی وجہ سے یہ دہشت گرد گروہ پاکستانی شہریوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کی حالیہ کارروائی ایک پیغام بھی ہے کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نشانہ بناءے گئے مراکز میں نیا مرکز نمبر ایک ننگرہار، نیا مرکز نمبردو ننگرہار، خارجی مولوی عباس مرکز خوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار، خارجی ابراہیم مرکز ننگرہار، خارجی ملارہبر مرکز پکتیکا اور خارجی مخلص یار مرکز پکتیکا شامل ہیں۔ ان مراکز کی تباہی نے دہشت گرد گروہوں کی کمر توڑ دی ہے اور مستقبل میں ممکنہ دہشت گرد کارروائیوں کے خدشات کو کم کردیا ہے۔ یہ کارروائی ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی صرف داخلی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ علاقائی تعاون اور موثر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے بھی جیتی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی افواج اور سیکیورٹی ادارے نہ صرف دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنارہے ہیں بلکہ عوام کو بھی بروقت اطلاعات فراہم کرکے، امن و امان کے قیام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام نے ہمیشہ اپنے دفاعی اداروں کے اقدامات کو سراہا ہے۔ ہر دہشت گرد حملے کے بعد، عوامی ردعمل اور تعاون نے یہ واضح کیا کہ پاکستانی عوام اپنے وطن اور اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دہشت گردوں کی کوششیں کہ وہ خوف و دہشت کے ذریعے معاشرتی اور اقتصادی نقصان پیدا کریں، پاکستان کی افواج کی مہارت، عزم اور قومی اتحاد کے سامنے ناکام ہوگئی ہیں۔ یہ کارروائیاں یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز میں انتہائی درستی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائیاں یقینی بناتی ہیں کہ معصوم شہری اور سیکیورٹی اہلکار محفوظ رہیں جب کہ دہشت گردوں کو موثر نقصان پہنچے۔ یہ اقدامات نہ صرف داخلی سلامتی کے لیے اہم ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف سنجیدگی اور پختہ عزم کی بھی دلیل ہیں۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان نے ہمیشہ تعاون کی کوششیں کی ہیں، لیکن یہ حقیقت بھی سامنے ہے کہ افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال اب بھی جاری ہے اور افغان طالبان حکومت اس کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان کی حالیہ کارروائی یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ اپنے شہریوں کی حفاظت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے، چاہے وہ کتنی بھی پیچیدہ یا خطرناک کیوں نہ ہوں۔ پاکستان کی اس کارروائی سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی صرف عسکری اقدام سے نہیں جیتی جاسکتی، بلکہ علاقائی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی مذمت بھی لازمی ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے عوام کی حفاظت کے لیے تیار ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ کارروائیاں نہ صرف دہشت گردوں کی منصوبہ بندی کو ناکام بناتی بلکہ عوام کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی ہیں کہ پاکستانی افواج ہر وقت ان کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔ دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے، پاکستان نے اپنی زمینی اور فضائی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دشمن کے مراکز کو تباہ کیا۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں صبر، استقامت اور قومی اتحاد کی کامیاب مثال ہیں۔ یہ نہ صرف داخلی سلامتی کے لیے ضروری ہیں بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان نے واضح کردیا کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گا، چاہے یہ دشمن کہیں بھی چھپا ہوا ہو۔ پاکستان کی یہ کارروائی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ہر شہری کا کردار بھی اہم ہے۔ آگاہی، تعاون اور افواج کے ساتھ مکمل اعتماد ہی وہ وسائل ہیں جو دہشت گردی کو شکست دے سکتے ہیں۔ پاکستان کی افواج اور سیکیورٹی ادارے اس جنگ میں ہر لمحہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں پیش پیش ہیں، تاکہ عوام بلاخوف اور امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔
بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا
بھارت میں ماہِ رمضان کے دوران مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے تشدد اور ہراسانی کے واقعات ایک تشویش ناک رجحان کی نشان دہی کرتے ہیں، جو نہ صرف مذہبی آزادی بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ حیدرآباد دکن میں تراویح کے وقت جامعہ مسجد کے باہر نعرے بازی اور تیز آواز میں موسیقی چلانے کا واقعہ ہو، اترپردیش کے ضلع بدایوں میں مبینہ مذہبی بنیادوں پر تشدد کا معاملہ ہو یا گجرات میں ٹرین کے اندر ایک معمر مسلمان مسافر پر حملہ، یہ سب واقعات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مذہبی رواداری کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے عبادت، صبر اور باہمی احترام کا مہینہ ہے۔ ایسے میں عبادت گاہوں کے باہر اشتعال انگیزی یا مذہبی شعار کی ادائیگی پر تشدد نہ صرف انفرادی آزادی پر حملہ ہے بلکہ یہ آئینی اقدار کے بھی منافی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ اس حق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔یہ حقیقت ہے کہ بھارت ایک کثیرالمذاہب اور کثیرالثقافتی ملک ہے، جہاں صدیوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والی ساتھ رہتے آئے ہیں۔ تاہم جب سے مودی برسراقتدار آئے ہیں، اُس کے بعد کے برسوں میں مذہبی بنیادوں پر تنائو کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث بنتا جارہا ہے۔ اگر عبادت کے مواقع پر خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو جائے تو یہ سماجی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ مذہبی مقامات کے تقدس اور مسافروں کی جان و مال کی حفاظت ریاستی اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات کا آغاز ایک مثبت قدم ضرور ہے، لیکن محض تحقیقات کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شفاف اور فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قانون کی بالادستی پر عوام کا اعتماد بحال رہے۔ مزید برآں، بھارتی حکومت کو اقلیتی برادریوں کے تحفظ کے لیے واضح اور موثر پالیسی اقدامات کرنے ہوں گے۔ بھارت پچھلے عرصے کے دوران اقلیتوں کے لیے جہنم بنتا چلا جارہا ہے، جہاں اُن کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں۔ انتہاپسند ہندو اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں۔ وہ بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اُنہیں بدترین تعصب کا سامنا ہے۔ مسلمان خاص نشانے پر رہتے ہیں۔ یہ امر بھارت کے لیے کسی طور مناسب نہیں۔ انتہاپسند ہندوئوں کے پُرتشدد واقعات اور ظلم و ستم کے باعث بھارت میں علیحدگی کی ڈھیروں تحاریک چل رہی ہیں۔ بھارت کی حکومت اگر اب بھی باز نہ آئی اور اُس نے انتہاپسند ہندوئوں کی سرپرستی ترک نہ کی تو یہ اوامر بھارت کے لیے ازحد نقصان کا باعث ثابت ہوں گے۔





