Editorial

ماورائے آئین اقدامات سے گریز کیا جائے

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اتوار کے روز پیدا ہونے والی صورت حال سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور سیاسی و آئینی امور پر نظر رکھنے والے اِس کو ابھی سے آئینی بحران قرار دے رہے ہیں۔ حزب اختلاف کو توقع تھی کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ماضی کا حصہ بن جائے گی اِس لیے محتاط حکمت عملی کے تحت سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی حزب اختلاف نے عدم اعتماد کی درخواست دائر کردی، پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز تھیں، حزب اختلاف تو اپنے حمایتی اراکین کو لیکر ایوان میں موجود ہی تھے لیکن دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سمیت پارٹی کے کئی سنیئر رہنما ایوان میں موجود نہ تھے۔ ضابطے کے مطابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے اجلاس کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ بیرونی قوتوں کی جانب سے ملک میں رجیم بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد رولز کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔اس کے فوری بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساری قوم کو مبارک دینا چاہتا ہوں سپیکر قومی اسمبلی نے رجیم تبدیل کرنے کی تحریک مسترد کردی ہے، غدار بیٹھے ہوئے تھے، ملک کیساتھ غداری ہو رہی تھی، صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تجویز بھیج دی ہے اور کسی بیرونی قوت نے ہمارے ملک کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنا۔وزیراعظم کے خطاب کے کچھ دیر بعد ہی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی سفارش پر قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، اسی دوران پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اسمبلی کا بلایاگیا اجلاس بھی ایوان میں ہنگامے کی بنیاد پر چھ اپریل تک ملتوی کردیاگیا یوں نہ صرف مرکز بلکہ پنجاب میں بھی کوئی تبدیلی رونما نہ ہوسکی۔ ڈپٹی سپیکر کی کارروائی کے خلاف قومی اسمبلی کے ایوان میں حزب اختلاف کے اراکین رات گئے تک موجود رہے لیکن اسی دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے صورتحال پر نوٹس لیتے ہوئے اپنی سربراہی میں پہلے اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بنچ اور پھر پانچ رکنی لارجر بنچ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، نیا تشکیل کردہ لارجر بنچ آج دن ایک بجے سے سماعت کرے گا جبکہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے ریفرنس پر آج ہونے والی سماعت موخر کردی گئی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کسی بھی ماورائے آئین اقدام سے روکتے ہوئے اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں،سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو بھی آج طلب کیاگیا ہے جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رمضان ہے، سب نے روزہ رکھا ہے، تمام ادارے آئینی حدود کے مطابق کردار ادا کریں، تمام سیاسی قوتیں اور ریاستی حکام صورتحال کا فائدہ نہ اٹھائیں، معاملہ پر دائر
درخواستوں کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے، امن و امان کی صورتحال خراب نہیں ہونی چاہیے، تمام سیاسی جماعتیں امن و امان یقینی بنائیں۔ متذکرہ حالات و واقعات کا خلاصہ یہ ہے کہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف متحدہ حزب اختلاف کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو غیر ملکی سازش سے منسلک کرتے ہوئے قرارداد کو مسترد کردیا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کردی ہے لیکن سپریم کورٹ نے اِس سارے معاملے کا ازخود نوٹس لیکر آج تک سماعت ملتوی کردی ہے، دوسری طرف پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے ایوان کا اجلاس حکومت اور اپوزیشن اراکین کے مابین ہنگامہ آرائی کو بنیاد بناکر 6اپریل تک موخر کردیا گیا ہے لیکن اِسی دوران اتوار کی صبح حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو اُن کے عہدے سے ہٹاکر عمر سرفراز چیمہ کو گورنر پنجاب مقرر کردیاگیا۔ وفاقی وزیراطلاعات و قانون فواد چودھری کا کہنا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ کے معاملے پر چودھری سرور کو کچھ تحفظات تھے ،اِس لیے سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے انہیں گورنر کے منصب سے ہٹایاگیااور قریباً ایسا ہی موقف چودھری محمد سرور نے گورنر ہائوس سے بوقت رخصتی پریس کانفرنس کے دوران اپنایا۔ فواد چودھری کا کہنا ہے کہ پارلیمان ایک علیحدہ ادارہ ہے اور عدلیہ کا الگ کردار ہے، سپیکر کی رولنگ کو اب کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ سابق اپوزیشن لیڈر کو خط لکھ رہے ہیں کہ نگران سیٹ اپ کے لیے اپنے نام دیں، آئین کے مطابق ہر چیز ہو رہی ہے تومارشل لا کا کیوں خطرہ ہوگا؟ وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے پر کہاہے کہ ابھی تک اپوزیشن کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ہوا کیا ہے۔ بیرون ملک سے حکومت تبدیلی کی سازش کی گئی، نیشنل سکیورٹی کونسل کو بیرونی سازش سے تفصیل سے آگاہ کیا اور نیشنل سکیورٹی کونسل نے واضح کہہ دیا تھا کہ عدم اعتماد میں بیرونی مداخلت ہے۔جب قومی سلامتی کمیٹی نے کنفرم کر دیا تو عدم اعتماد غیر متعلقہ تھی، بیرونی طاقتیں کسی آزاد ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔ اگرچہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس چھ اپریل کو دوبارہ ہوگا جس میں نئے وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے رائے شماری کرانے کا پروگرام ہے لیکن جیسا کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کی تجویز پر قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا حکم دیا ہے اسی طرح صوبائی اسمبلیاں بھی تحلیل کی جاسکتی ہیں لیکن یہ تبھی ممکن ہے اگر سپریم کورٹ آف پاکستان سے اِس سارے عمل کو درست قرار دیا جاتا ہے جو حزب ِ اقتدارکی جانب سے عمل میں لایاگیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جلد ازجلد ملک سے سیاسی بحران کا خاتمہ ہونا چاہیے، سیاسی قیادت متفق ہو تو مزید کشیدگی کی طرف بڑھنے کی بجائے انتخابات کی جانب جایا جائے اور ووٹرز پر ایک بار پھر فیصلہ چھوڑ دیا جائے کہ وہ کس کو مینڈیٹ دیتے ہیں، پوری قوم سیاسی محاذ آرائی کا خاتمہ چاہتی ہے کیوں کہ عوام کے مسائل سیاست دانوں کے مسائل سے قدرے مختلف اور فوری حل طلب ہیں۔ سیاسی قیادت جتنا جلد عوام سے رجوع کرلے گی، ہمارے جمہوری نظام، ریاست اور عوام کے لیے اتنا ہی مفید ہوگا وگرنہ بے مقصد کشیدگی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کے نتائج سبھی کے لیے ناقابل قبول ہوسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button