Column

برف زاروں کا شیر …. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی
لیڈر وہ ہوتا ہے جو ہم وطنوں کو دشمن کی طاقت سے ڈراتا نہ رہے بلکہ دشمن کویہ باور کرا دے کہ اس کے وطن پر غلط نگاہ ڈالی گئی تو ملک کے بسنے والے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور دشمن کی آنکھیں ہی نہیں نکالیں گے بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کر دیں گے۔ روسی صدرپوتن نے یہ کر دکھایا ہے۔ وہ چاہتے تو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرکے روسیوں سے کہتے کہ امریکہ بہت طاقتور اور طاقتور یورپی ملک اس کے ساتھ کھڑے ہیں لہٰذا پے درپے بیانات جاری کرتے رہتے کہ ہم امن کے داعی ہیں، جنگ شروع کر کے ہم عالمی امن کو خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ اس قسم کی خرافات میںپڑنے اور اپنی قوم کو دھوکہ دینے کی بجائے انہوں نے وہ راستہ اختیار کیا، وہ طرز عمل اپنایا جو بلند کردار محب وطن لیڈروں کا ہوتا ہے۔ انہوں نے روز اول ہی سے امریکہ، برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک پر واضح کر دیا کہ روس یوکرین معاملے میں امریکہ بدنیت ہے۔ وہ یوکرین کو نیٹو ممبر بنا کر پھر ایک بہانا تراشے گا اور یوکرین میں فوج اتار کر روس کے سرہانے بیٹھ کر اس کے لیے مستقل خطرہ بن جائے گا۔ پوتن نے امریکہ اور اس کے حواریوں کو اس اقدام سے باز رہنے کی تاکید کی اور مزید واضح کیا کہ روس یہ سب کچھ برداشت نہیں کرے گا۔ ایسے کسی بھی ایڈونچرکا وہ موثر جواب دے گا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ امریکہ اور اس کے حواری سمجھے تھے کہ تنہا روس شاید یوکرین پر حملے کی جرا ¿ت نہ کرے لیکن روس نے زبانی جمع خرچ کی بجائے جنگی بنیادوں پر جنگ کی تیاری شروع کر دی اور بغیر وقت ضائع کئے اپنی قریباً دو لاکھ فوج سرحدوںپر پہنچا کر آخری الٹی میٹم دیا کہ اب بھی وقت ہے امریکہ خود اوراپنے حلیفوں کو ایک نئی بے کار جنگ میں جھونکنے سے گریز کرے۔
امریکہ کاخیال تھاکہ روس پر پابندیوں کے اعلان کے ساتھ ہی اس کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی اور وہ پسپا ہو جائے گا، کاش امریکی یہاں بھی غلطی کی بجائے عقل سے کام لیتے اور روس کو برانگیخت کرنے سے اجتناب کرتے۔ امریکیوں کے طرز عمل سے ایک اور بات کی تصدیق ہو گئی کہ عقل صرف بادام کھانے سے نہیں آتی بلکہ زندگی کے تجربات اور ان کے نتائج سے عقل و سبق حاصل کئے جاتے ہیں جو انہوں نے ویت نام سے لے کر افغانستان تک حاصل نہیں کئے۔ روس کی طرف سے یوکرین پر حملہ ”محتاط حملہ“ کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے صرف ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنا کر یوکرینی فوج کی کمر توڑنے پر توجہ مرکوز کی ہے، شہری آبادی و دیگر سول انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا۔ اس کی واحد اور اہم وجہ یہی ہے کہ روس یوکرین کو اپنا حصہ سمجھتا ہے ، وہ اسے اس طرح تباہ و برباد نہیں کرنا چاہتا جس طرح امریکہ و اتحادیوںنے مصر، شام، لیبیا، عراق اور افغانستان کو تباہ کیا۔
روس کا پہلا حملہ بھرپور منصوبہ بندی کا مظہر تھا جس میں میزائل اور راکٹوں کے ساتھ ہزاروں افراد پر مشتمل چھاتہ بردار فوج یوکرین کے اہم شہروں کی اہم تنصیبات پر اتاری گئی جس نے نہایت سرعت سے کم ترین جانی نقصان کے بعد ان پر قبضہ کر لیا۔ ان میں ہوائی اڈے و بحری راستے شامل ہیں۔ پہلے حملے کے مثبت نتائج دیکھ کر روسی صدر نے یوکرینی فوج کو ہتھیار ڈالنے کا کہا اور عندیہ دیاکہ اس کے بعد مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ دنیا بھر نے ایک مرتبہ پھر دیکھا کہ امریکہ کس قدر بدعہد ہے، وہ یوکرین کو جنگ کی بھٹی میں جھونک کربھی مدد کو نہ آیا۔ یوکرینی صدر کی تقریر ایک بے بس شخص کی تقریر تھی جو دنیا کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مکروہ چہرہ دکھانے کے ساتھ ساتھ بتا رہا تھا کہ یوکرین آج تنہا کھڑا ہے، کوئی اس کی مددکے لیے قدم نہیں بڑھا رہا۔ روسی حملے سے قبل یوکرینی صدر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ روس کی طرف سے حملے کا اس درجے کا خطرہ محسوس نہیں کر رہے تھے جس قدر امریکہ و اتحادی اسے ڈرا رہے تھے۔ اس بیان سے تصدیق ہو جاتی ہے کہ یوکرین کو امریکہ نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے قربانی کا بکرا بنایا۔ اس جنگ میں ہونے والے نقصانات کے ذمہ دار یوکرینی صدر و حکومت ہے جنہوں نے وہی غلطی کی جو پاکستانی حکمرانوں نے آزادی حاصل کرنے کے بعد کی تھی، یعنی اس ہمسائے سے تعلقات بڑھانے کی بجائے ہزاروں میل دور بیٹھے امریکہ کو اپنی مشکلات کا نجات دہندہ سمجھ لیا گیا۔ روس کے حصے بخرے ہونے کے بعد چند ریاستیں تو امریکہ کے جال میں پھنس کر نیٹو کی ممبر بن گئیں لیکن نصف سے زائد نے اس کے برعکس فیصلہ کیا جو درست تھا۔
1970ءکے بعد تین فوجیں ایسی ہیں جنہوں نے اپنی جنگ نہیں لڑی بلکہ وہ اپنے مقابل کے ساتھ جا ملیں۔ ان میں پہلا واقعہ مشرقی پاکستان میں پیش آیا جہاں بنگالی دستوں نے دشمن ملک بھارت کی فوج سے ہاتھ ملا لیا۔ دوسرا واقعہ کئی دہائیوں بعد افغانستان میں پیش آیا جہاں امریکہ اور نیٹو فورسز نے کئی ہزار ارب ڈالر سے افغان فوج بنائی، اس کی تربیت کی لیکن جب فیصلہ کن جنگ کا مرحلہ آیا تو افغان فوج نے لڑنے سے انکار کردیا اور مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ تیسرا واقعہ روس یوکرین میں نظر آ رہا ہے۔ امریکہ و اتحادیوں نے اڑھائی ارب ڈالر کے خرچ سے یوکرینی فوج کی تربیت کی، مسلسل جدید ترین اسلحہ کی سپلائی جاری رکھی لیکن یوکرینی فوج روسی فوج کے سامنے مزاحمت کرتی نظر نہیں آتی۔ ابتدا میں خیال تھا کہ روسی فوج شاید دس پندرہ دن میں یوکرین کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گی لیکن یوکرینی فوجی دستوں کی پرفارمنس دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ روسی فوج اپنے ا ہداف اس سے نصف وقت میں حاصل کر لے گی۔ ایٹم بم کے علاوہ کوئی ان کا راستہ نہیں روک سکتا، کسی میں اتنی ہمت کہاں۔ افغانستان میں مجاہدین نے ثابت کر دیا کہ غاصب ٹولے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے ملک سے باہرنکالا نہیں جا سکتا بلکہ اس کے لیے میدان جنگ میں جان و مال کی قربانی دے کر ہی آزادی کی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ عین ممکن ہے جنگ افغانستان سے روسی قیادت نے بھی یہی سبق سیکھا ہو ، انہوں نے بھی مذاکرات در مذاکرات اور یو این او جیسے بے جان و بے دست و پا ادارے کی منت سماجت کرنے کی بجائے وہی راستہ اختیار کرنا بہتر سمجھا جو باوقار اور جری قوموں کا شیوہ ہوتا ہے۔ پوتن نے یوکرین پر کمیٹی بنائی نہ کسی کو چیئرمین بنایا۔ وہ چاہتے تو کئی برس تک ہاتھوں کی زنجیر بنا کر، نت نئے نغمے سنا کر، یکجہتی کے دن بنا اپنی قوم کو دھوکے میں رکھ کر مزید کئی برس تک اقتدار کے مزے لوٹ سکتے تھے لیکن شاید نہیں یقیناً ان کا خمیر بہترین مٹی سے اٹھا تھا، انہوں نے اپنے قومی مفادات پر کسی سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ ہم نے یا ہماری درجنوں نسلوں نے شیر میسور ٹیپو سلطان کو نہیں دیکھا، ان کے کارنامے کتابوں اور نصابوں میں ضرور پڑھے ہیں، ان کے اقوال ہمارا سرمایہ ہیں۔ ہم نے امریکہ و یورپ کے کئی سیاستدانوں و سربراہوں کا چال چلن اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس چشم دید تجربہ کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ کئی مکار و عیار حکمرانوں کی طویل سیاسی زندگی سے پوتن کی مختصر زندگی بہت بہتر ہے، وہ برف زاروں کا شیر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button