تازہ ترینخبریںسپورٹس

پی سی بی کا جیمز فالکنر کو آئندہ پی ایس ایل میں شامل نہ کرنے کا اعلان

پی سی بی  نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑی جیمز فالکنر کے سوشل میڈیا پر بیان کو مسترد کرتے ہوئے انہیں آئندہ پی ایس ایل کے کسی بھی سیزن میں حصہ نہ بنانے کا اعلان کر دیا اور کہا ہے کہ غیرملکی کھلاڑیوں کو 70فیصد رقم ادا کی جاچکی ہے جبکہ بقیہ 30فیصد ایونٹ کے بعد دی جائے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا موقف ہے کہ جیمز فالکنر کے ساتھ کوئی غلط بیانی نہیں کی گئی۔ فالکنر کے ساتھ معاہدے کی مکمل  پاسداری کی ہے۔ پی سی بی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے فالکنر کے بیان کو غلط اور افسوس ناک قرار دیتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں واضح کیا گیا ہے کہ فالکنر آئندہ کسی بھی پی ایس ایل کا حصہ نہیں بنیں گے۔
جیمز فالکنر کی جانب سے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2022ئ کے دوران عدم ادائیگی سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جیمز فالکنر کا رویہ قابلِ مذمت اور مایوس کن ہے،
فالکنر ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2021ئ کے ابوظہبی مرحلے کا بھی حصہ تھے، جہاں شریک دیگر تمام ارکان کے ہمراہ ان کے ساتھ بھی احترام کا رویہ اختیار کیا گیا۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کی سات سالہ تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی نے کبھی بھی عدم ادائیگی کی شکایت نہیں کی، اس کے برعکس تمام کھلاڑیوں نے ہمیشہ پی سی بی کی کوششوں کو سراہا،
ان میں سے زیادہ تر کھلاڑی 2016ئ سے ایچ بی ایل پی ایس ایل کا حصہ ہیں۔ پی سی بی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے م¶قف اپنایا کہ دسمبر 2021میں جیمز فالکنر کے ایجنٹ نے ادائیگی کے لیے اپنے یوکے کے بینک اکا¶نٹ کی تصدیق کی، جسے نوٹ کرلیا گیا تھا، جنوری 2022ئ میں جیمز فالکنر کے ایجنٹ نے آسٹریلیا میں موجود ایک آف شور اکائونٹ کی تفصیلات شیئر کیں، تاہم جیمز فالکنر کی 70فیصد ادائیگی یو کے میں ان کے آف شور اکائونٹ میں منتقل کردی گئی تھی، جس کی جیمز فالکنر نے خود بھی تصدیق کی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا کہ معاہدے کے مطابق جیمز فالکنر کو تمام ادائیگیاں کی جاچکی ہیں، بقیہ 30فیصد ادائیگی ایچ بی ایل پی ایس ایل 2022کے اختتام کے 40روز کے اندر کی جانی تھی،
تاہم اس پر اب نظر ثانی کی جائے گی، یوکے کے اکائونٹ میں رقم منتقل ہونے کے باوجود جیمز فالکنر کا اصرار تھا کہ انہیں دوبارہ آسٹریلیا کے آف شور اکائونٹ میں تمام رقم بھیجی جائے، جس کا مطلب تھا کہ انہیں دو مرتبہ ادائیگی کی جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فالکنر نے پہلے سے ادا کی گئی رقم منتقل نہ کرنے پر جمعہ کے روز ملتان سلطانز کے میچ میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی، جس کے بعد پی سی بی نے ذمہ دارانہ ادارے کی حیثیت سے جمعہ کی دوپہر کو جیمز فالکنر سے رابطہ کیا۔
پی سی بی کے مطابق اس دوران توہین آمیز رویے کے باوجود جیمز فالکنر کو یقین دلایا گیا کہ ان کی تمام شکایات کا ازالہ کیا جائے گا تاہم  انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے ایک اہم میچ کھیلنے کے لیے میدان میں اترنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی  سے انکار کر دیا اور فوری طور پر اپنے سفری انتظامات ترتیب دینے کی ہدایت کی، اس دوران پی سی بی نے ان کے ایجنٹ سے مسلسل رابطے میں رہا، جو پشیمان اور معذرت خواہ تھے۔
پی سی بی کے مطابق جیمز فالکنر نے اپنی روانگی سے قبل ہفتے کو جان بوجھ کر ہوٹل کی پراپرٹی کو نقصان پہنچایا اور اس کے نتیجے میں انہیں ہوٹل کا نقصان پورا کرنا پڑا، اس کے بعد پی سی بی کو امیگریشن حکام سے بھی جیمز فالکنر کے رویے کی شکایات موصول ہوئیں جو وہاں گالم گلوچ کررہے تھے۔
اس تمام تر صورت حال کے بعد پی سی بی نے  جیمز فالکنر کی سنگین بدتمیزی کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے فرنچائزز کے ساتھ مل کر متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ جیمز فالکنر کو مستقبل میں ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے کسی ایونٹ میں ڈرافٹ کے لیے شامل نہیں کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button