تازہ ترینخبریںپاکستان سے

سوشل میڈیا پر عزت اچھالنا جرم قرارٜ پارلیمنٹیرینز کو الیکشن مہم چلانے کی اجازت

 وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا پر کسی کی عزت کو اچھالنا قابل تعزیر جرم قرار دینے کیلئے قوانین کی منظوری دیدی جبکہ حکومت نے الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ میں بھی بڑی تبدیلی کر ڈالی ہے۔
تفصیل کے مطابق وفاقی کابینہ نے آرڈیننس کے ذریعے الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ قانون میں بڑی تبدیلی کردی جس کے تحت وزرا اور پارلیمنٹیرینز اب انتخابی مہم چلا سکیں گے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر تمام سیاسی جماعتوں کو تحفظات تھے تاہم وفاقی کابینہ نے آرڈیننس کی منظوری دے کر سیاستدانوں کو بڑا ریلیف دیا ہے۔
آرڈیننس کو قانون بنانے کے لئے سمری صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب حکومت نے سوشل میڈیا پر کسی کی عزت اچھالنے کو قابل تعزیر جرم قرار دینے کے لئے قانون منظوری کے لئے وفاقی کابینہ کے سپرد کیا جس کی منظوری دیدی گئی۔
حکومت نے جعلی خبروں اور نفرت انگیز مواد روکنے کے لئے پریونشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ ٟپیکا ٞ میں ترمیم کا فیصلہ کیا، آرڈیننس آئندہ ہفتے جاری کیا جائے گا،
جعلی خبر دینے پر قید کی سزا بڑھا کر5سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جعلی خبر دینے پر10لاکھ روپے تک جرمانہ بھی کیا جائے گا۔ فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کے خلاف جعلی خبریں دینے پر کارروائی ہوگی،
قومی شخصیات کیخلاف من گھڑت خبروں اور نفرت انگیز مواد پر کارروائی ہوگی، ناقابل ضمانت گرفتاری اور10لاکھ جرمانے کی سزا بھی ہو سکے گی۔ فیک نیوز آرڈیننس کا اطلاق سوشل میڈیا پر بھی لاگو ہوگا،
جعلی خبر کی شکایت کوئی شہری بھی کر سکے گا، الیکٹرانک کرائم کے مقدمے کی سماعت6ماہ میں مکمل ہوگی،6ماہ میں ٹرائل مکمل نہ ہونے پر ماتحت عدالت کا جج ہائیکورٹ کو جوابدہ ہوگا۔ دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی کابینہ نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ ٟ پیکاٞ 2016ئ میں صدارتی آرڈیننس کے تحت ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔
نجی ٹی وی کو فواد چودھری نے بتایا کہ قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے حاصل کرلی گئی ہے۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ ترامیم کے تحت سوشل میڈیا پر کسی کو بدنام کرنا قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے گا اور عدالتیں پیکا کے تحت درج مقدمات کے فیصلے6ماہ میں دیں گی۔ فواد چودھری نے اس سے قبل ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وفاقی کابینہ کو دو اہم قانون منظوری کے لئے بھیجے گئے ہیں،
پہلے قانون کے تحت پارلیمنٹیرینز کو انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے قانون کے تحت سوشل میڈیا پر لوگوں کی عزت اچھالنے کو قابل تعزیر جرم قرار دے دیا گیا ہے،
عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ فیصلہ 6ماہ میں کیا جائے۔ کابینہ کو جاری کئے گئے سرکولیشن میں کہا گیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25ون کے تحت تمام شہریوں کی برابری اور بنیادی حقوق کے طور پر قانون کے برابر تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔
سرکولیشن میں کہا گیا کہ ابھرتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے قانون ڈویږن نے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ 2016میں مخصوص ترامیم کا ڈرافٹ تیار کرلیا ہے اور اس کو آرڈیننس کے تحت جاری کیا جائے گا کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں ہو رہا ہے۔
بتایا گیا کہ وزیر اعظم نے سمری سرکولیشن کے ذریعے وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کی اجازت دی اور وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مذکورہ سمری وفاقی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button