تازہ ترینخبریںٹیکنالوجی

اعصابی تنائو معلوم کرنے والی ذہین گھڑی

لاس اینجلسٜ امریکی سائنس دانوں نے ایک ایسی ذہین گھڑی ایجاد کرلی ہے جو پسینے میں شامل کورٹیسول کی پیمائش کرتے ہوئے اعصابی تنائو معلوم کرتی ہے۔
یہ گھڑی خاص طور پر ایسے افراد کےلئے بنائی گئی جنہیں ڈپریشن ٟ اضمحلالٞ اور اینگږائٹی ٟ تشویشٞ جیسے نفسیاتی مسائل کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ کورٹیسول کہلانے والے ایک ہارمون کو انسانی جسم میں تنائو کا پیمانہ بھی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اعصابی تنا¶ بڑھنے کے ساتھ ساتھ خون اور پسینے میں اس ہارمون کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں، زیادہ اعصابی تنائو کا نتیجہ ڈپریشن، اینگږائٹی اور اسی نوعیت کے دوسرے نفسیاتی مسائل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر جسم میں کورٹیسول کی مقدار پر مسلسل نظر رکھی جائے تو اعصابی تنائو کے ساتھ ساتھ ڈپریشن اور اینگږائٹی کے خطرات سے بھی باخبر رہا جاسکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس یو سی ایل اےٞ کے ماہرین کی ٹیم نے پروفیسر اینی اینڈریوز اور ایسوسی ایٹ پروفیسر سیم امامی نږاد کی
قیادت میں یہ ذہین گھڑی سمارٹ واچٞ تیار کی ہے۔ اس گھڑی کا پچھلا حصہ بہت معمولی مقدار میں بھی پسینہ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پسینہ جذب ہوتے ہی ایک خردبینی نظام مائیکرو فلوئیڈک سٹرکچرٞ میں پہنچایا جاتا ہے جہاں ڈی این اے کے مخصوص ٹکڑوں کی مدد سے پسینے میں کورٹیسول کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔ اس ذہین گھڑی کو جیسے ہی جسم میں معمول سے زیادہ کورٹیسول کا پتہ چلتا ہے، یہ فوراً اپنے پہننے والے کو خبردار کر دیتی ہے تاکہ وہ اعصابی تنائو پر قابو پانے کےلئے ضروری اقدامات کر لے۔
چونکہ ہر انسان کیلئے نارمل کورٹیسول دوسروں سے مختلف ہوتا ہے لہذا پہلے اس گھڑی کی سیٹنگ اسے پہننے والے کے حساب سے کی جاتی ہے۔ فی الحال اس ذہین گھڑی کا پروٹوٹائپ تیار ہوچکا ہے جسے ابتدائی طور پر آزمایا بھی جا چکا ہے۔ البتہ اس کے تجارتی پیمانے تک پہنچنے اور فروخت کیلئے دستیاب ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
نوٹٜ اس ایجاد کی تفصیل آن لائن ریسرچ جرنل سائنس ایڈوانسز کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button