Abdul Hanan Raja.Column

مردہ یزید کا زندہ نظام عبد الحنان راجہ حسینیت ظلم و جبر، استحصال، آمرانہ طرز سیاست، ناانصافی اور اسلام کی پامال ہوتی اقدار کے خلاف اٹھنے کا شعور دیتی ہے اور یہ بھی سچ کہ امام حسین کی حکمرانی آج بھی دلوں پر قائم، نظریات و افکار حتی کہ روح پر اور در حسین پر سر تسلیم خم کر کے ہی دنیا کے ہر یزید کے سامنے سربلند ہوا جا سکتا ہے۔ علامہ صفدر کریمی کی یہ بات دل کو ایسی لگی کہ اس نے سوچوں کا رخ ہی تبدیل کر دیا۔ کہتے ہیں کہ کبھی سوچا کہ آج تک کسی نے حسین ہونے کا دعویٰ کیوں نہیں کیا !!!! یہی وجہ ہے کہ کربلا کے ریگزاروں سے شعور کا جو پودا پھوٹا وہ تا قیام قیامت انسانیت کو سلامتی، امن و آشتی اور انصاف کی چھائوں دیتا رہے گا، مگر میرا عنوان عمومی مجالس میں بیان کئے جانے والے کربلا کے عنوان سے مختلف، سوال یہ کہ جب اس پر اتفاق کہ یزید اپنے انجام بد کو پہنچ چکا۔ قدرت کی گرفت اس پر اس وقت پڑی جب وہ بیت اللہ شریف پر سنگ باری کرا رہا تھا، تو اب جبکہ وہ باقی نہیں تو پھر اس کا قائم کردہ نظام زندہ کیوں ۔۔؟ یزید کے بعد اس کا قائم کردہ نظام کیوں نہ دفن کیا جا سکا، کیا ہمارے انفرادی روئیے، معاشرتی رجحانات، سیاسی اقدامات اور طرز حکومت اسی نظام کی آبیاری تو نہیں کر رہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے دلوں پر تو نام حسین کنندہ مگر اعمال و افعال یزیدی طرز فکر کے عکاس۔ افراد سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور ہر فرد کی کچھ ذمہ داریاں کہ اقبال کی زباں میں ’’ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ ‘‘ کے مصداق چونکہ ہم پیدا ہی مسلمان گھرانے میں ہوئے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری اس کے بعد اپنے آپ کو اسلامی سانچے اور فکر حسینی میں ڈھالنے کی تھی۔ شعور کی آنکھ بیدار ہوتے ہی ہم قولی اور حبی طور پر تو حسینی ہو گئے جیسے مسلم گھرانے میں پیدا ہو کر مسلمان۔ مگر کیا فکری، نظریاتی، عملی اور افعالی طور پر بھی حسینی بنے۔ اس کا جواب امت کے ہر فرد اور بالخصوص ہر پاکستانی کو تلاش کرنا ہے۔ اپنے گرد کے لوگوں، رشتہ داروں، دوستوں اور معاشرے حتی کہ حکمرانوں کو ہدف تنقید بنانے سے پہلے ہمیں اپنے کردار کو حسینی خوشبو سے معطر کرنا ہو گا۔ خود کو بدلے بغیر معاشرے میں انقلاب کا خواب ہر دور میں چکنا چور ہوتا رہا۔ اگر یہ انقلاب ہم اپنی ذات اور پھر اپنے گھر میں لے آتے ہیں تو یقین جانیے یزید کے قائم کردہ نظام کو سمندر برد کرنے کی اس تحریک کا آغاز ہو جائے گا کہ جس کی بنیاد شہیدان کربلا نے رکھی اور اپنے مقدس خون سے جس کی آبیاری کی، یہ بات کبھی بھی قلب و ذہن کے نہاں خانے میں کیوں نہ آئی کہ ہم امام حسینؓ اور انکی آل و اصحاب کی شہادت کا بیان تو عقیدت و احترام سے کرتے ہیں اور یزید کے مظالم کا تذکرہ بھی۔ مگر ان وجوہات کا بیان کیوں نہیں کہ جس بنا پر یزید نواسہ رسول کے قتل ناحق پر آمادہ ہوا…؟ ہر ظلم، ہر جفا، یر ستم اور ہر الم برداشت کر لیا، مگر بیعت یزید نہ کی۔ بقول شاعر ’’ دنیا کا ہر یزید اسی غم میں مر گیا، کہ سر مل گیا حسین کا بیعت نہیں ملی ‘‘۔ ہر سال ماہ محرم میں محافل بھی ہوتی ہیں اور مجالس بھی، لنگر تقسیم ہوتے ہیں اور سبیلیں بھی لگتی ہیں حتی کہ ماتم بھی، مگر سوال وہی کہ ہم ان مقاصد سے چشم پوشی کیوں برت رہے ہیں جن کے لیے شہدائے کربلا نے عزیمت کی تاریخ رقم کی۔۔۔؟ کیا محض دکھ اور ماتم سے حسینی کہلوایا جانا زیبا ہے۔ بقول اقبالؒ ’’ کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو، کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی ‘‘۔ صرف ظالمانہ آمرانہ، استحصالی رویوں اور طرز حکومت کو یزیدی قرار دینا درست نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بددیانتی، ظلم کا ساتھ، دھوکہ، دینی اقدار کی پامالی، قطع تعلقی، ظلم پر خامشی، ذاتی مفادات، جھوٹ، فریب، اقربا پروری اور سب سے بڑھ کر شعائر اللہ اور شعائر رسول کی بے ادبی بھی اسی زمرہ میں آتی ہے۔ طالب اقبال محترم ندیم پراچہ نے صائب مگر کیا حقیقت بیان کی کہ حسینی نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا وجود ہے، کہ ہم اپنے اور اپنے گھر میں تو نافذ نہیں کر سکتے اور بات انقلاب کی اور یزیدی نظام کے خاتمہ کی کرتے ہیں۔ خواتین انہی محا کو خانوادہ رسول کی عفت مآب، عصمت و طہارت اور بندگی کی پیکر سیدہ کائنات اور زینب کے تذکروں سے تو سجاتی ہیں مگر کیا ہماری خواتین کا بود و باش، لباس اور طرز معاشرت ان کے اسوہ کے مطابق ہے، اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو بھئی یہی تو یزیدی نظام کا پرتو ہے۔ بے راہ روی کا زور اور معاشرہ بے حیائی کے چنگل میں کس حد تک پھنس چکا ہے، اس کا ادراک ہر ذی شعور کو مگر آنکھیں بند، الیکٹرانک و سوشل میڈیا بے حیائی کے فروغ میں پیش پیش ہمارے لباس اور فیشن اغیار کو بھی شرمندہ کرنے والے، تعلیمی ادارہ جات میں منشیات اور بے حیائی عام، یقین نہیں تو اپنی جامعات کے احوال دیکھ لیں، ابھی تو دو کے ہی کھلے ہیں کہ انگلیاں دانتوں میں دبنے لگیں۔ ڈراموں کا حیا سوز کلچر نئی نسل کو کس ڈگر پہ لے جا رہا ہے یہ تو کبھی سوچا ہی نہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ سادہ لوح مسلمان اور کچھ استثنا کے ساتھ سبھی طبقات نے اپنے رویوں اور اپنے معاملات سے مردہ یزید کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ معاشی یزیدیت آج بھی کرپشن، صاحبان اقتدار کی عیاشی، قومی و عوامی وسائل پر قبضہ، عوام کے استحصال، حکومتی اختیارات و سرکاری وسائل سے ذاتی کاروبار کو وسعت، مد مقابل اور حزب مخالف کے معاشی استحصال کی صورت میں قائم، جبکہ سیاسی و حکومتی یزیدیت نے کاروبار مملکت کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ نظام ریاست میں پوری طرح زندہ و توانا دکھائی دیتا ہے۔ ریاستی مشینری کے ساتھ ماڈل ٹائون میں قتل عام، 250سے زائد لوگوں کو زندہ جلایا جانا، شاہ رخ اور آئے روز اس جیسے ہزاروں قتل ناحق، قاتلوں کا دندناتے پھرنا، طاقتور کی ٹکر سے وردی میں کھڑے پولیس اہل کار کی موت، مذہب اور فرقہ کے نام پر دہشت گردی، غربت و افلاس کے ہاتھوں خودکشیاں، تعلیم یافتہ اور ذہین نوجوانوں کا تلاش روزگار میں مارے مارے پھرنا یزیدی نظام کے مظاہر ہی تو ہیں، اس نظام میں اسمبلیوں میں اصلاحات اور بل پاس ہوتے ہیں تو اشرافیہ کے مفادات اور عیاشیوں کے جبکہ عام آدمی دو وقت کی روٹی اور بجلی کے لیے دربدر جبکہ حکمرانوں کے کتے بھی ٹھنڈی گاڑیوں میں، اس نظام میں تبدیلی کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو بزور طاقت دبایا جاتا ہے۔ صاحبان اقتدار کے ہر ناجائز اور غیر قانونی اقدام کو سند قبولیت ملتی ہے اور سرکاری مشینری اور وسائل حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کی ہوس پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اقتدار پر چند خاندان قابض اور انتخابات محض ڈھونگ اور چہرے بدلنے کے لیے اور یہ سب کچھ حسینیت کی ضد، جس طرح دور یزید میں عدل ناپید تھا تو آج بھی اس کی حالت قابل رحم کہ فیصلہ جات جرم نہیں مجرم دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔ قتل، ڈکیتی، اربوں کی کرپشن و منی لانڈرنگ کے ملزمان اور طاقتور مجرموں کی بریت معمول، حتی کہ وہ برسر اقتدار اور کچھ منتظر، مگر عام شہری کی زندگی معمولی انصاف کے حصول میں گزر جاتی ہے۔ اسی نظام میں چند یوم پہلے آسمان نے وہ منظر بھی دیکھتا ہے کہ دارالخلافہ میں غریب ریڑھی بان کے خلاف سی ڈی اے کا قانون تجاوزات بھر پور قوت سے حرکت میں آتا ہے اور اسے پوری قوم اس مجبور کو پابند سلاسل اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے. اس قانون کو وزیر اعظم سے لیکر پٹواری تک کی قانون شکنی نظر نہیں آتی کہ طاقتور اور غریب کے لیے الگ الگ قوانین کے اطلاق کی بشارت آقائے دو جہاںؐ نے صدیوں پہلے دے دی تھی۔ پورے معاشرے پر ظلم کا راج مگر اس کے باوجود واعظوں اور ذاکروں کے کہے کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ زمین یزید لعین کے وجود سے پاک ہو چکی مگر جب اپنے احوال، معاشرے اور اپنی ذات پہ نظر پڑتی ہے تو یزید کے مرنے کا یقین نہیں آتا۔ اب یہ حسینی فکر رکھنے والوں کے چیلنج نہیں کہ یزید کو تو ہم نہ مار سکے کہ وہ ہماری دسترس اور دور میں نہ تھا مگر کیا ہم اس کے قائم کردہ نظام کو زمیں بوس نہیں کر سکتے اور اگر اس کی بھی جرات اور طاقت نہیں تو پھر ہمیں حسینی ہونے کے دعویٰ سے دستبردار ہو جانا چاہیے، کہ حسینیت تقریریں کرنے، مجلسیں پڑھنے، سبیلیں لگانے، لنگر تقسیم کرنے اور ماتم کرنے کا نام نہیں بلکہ جرات و استقامت سے آمرانہ، ظالمانہ اور استحصالی نظام کے خلاف ڈٹ جانے اور پامال ہوتی اسلامی اقدار کو بچانے کا نام ہے۔

مردہ یزید کا زندہ نظام

عبد الحنان راجہ
حسینیت ظلم و جبر، استحصال، آمرانہ طرز سیاست، ناانصافی اور اسلام کی پامال ہوتی اقدار کے خلاف اٹھنے کا شعور دیتی ہے اور یہ بھی سچ کہ امام حسین کی حکمرانی آج بھی دلوں پر قائم، نظریات و افکار حتی کہ روح پر اور در حسین پر سر تسلیم خم کر کے ہی دنیا کے ہر یزید کے سامنے سربلند ہوا جا سکتا ہے۔ علامہ صفدر کریمی کی یہ بات دل کو ایسی لگی کہ اس نے سوچوں کا رخ ہی تبدیل کر دیا۔ کہتے ہیں کہ کبھی سوچا کہ آج تک کسی نے حسین ہونے کا دعویٰ کیوں نہیں کیا !!!! یہی وجہ ہے کہ کربلا کے ریگزاروں سے شعور کا جو پودا پھوٹا وہ تا قیام قیامت انسانیت کو سلامتی، امن و آشتی اور انصاف کی چھائوں دیتا رہے گا، مگر میرا عنوان عمومی مجالس میں بیان کئے جانے والے کربلا کے عنوان سے مختلف، سوال یہ کہ جب اس پر اتفاق کہ یزید اپنے انجام بد کو پہنچ چکا۔ قدرت کی گرفت اس پر اس وقت پڑی جب وہ بیت اللہ شریف پر سنگ باری کرا رہا تھا، تو اب جبکہ وہ باقی نہیں تو پھر اس کا قائم کردہ نظام زندہ کیوں ۔۔؟ یزید کے بعد اس کا قائم کردہ نظام کیوں نہ دفن کیا جا سکا، کیا ہمارے انفرادی روئیے، معاشرتی رجحانات، سیاسی اقدامات اور طرز حکومت اسی نظام کی آبیاری تو نہیں کر رہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے دلوں پر تو نام حسین کنندہ مگر اعمال و افعال یزیدی طرز فکر کے عکاس۔ افراد سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور ہر فرد کی کچھ ذمہ داریاں کہ اقبال کی زباں میں ’’ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ ‘‘ کے مصداق چونکہ ہم پیدا ہی مسلمان گھرانے میں ہوئے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری اس کے بعد اپنے آپ کو اسلامی سانچے اور فکر حسینی میں ڈھالنے کی تھی۔ شعور کی آنکھ بیدار ہوتے ہی ہم قولی اور حبی طور پر تو حسینی ہو گئے جیسے مسلم گھرانے میں پیدا ہو کر مسلمان۔ مگر کیا فکری، نظریاتی، عملی اور افعالی طور پر بھی حسینی بنے۔ اس کا جواب امت کے ہر فرد اور بالخصوص ہر پاکستانی کو تلاش کرنا ہے۔ اپنے گرد کے لوگوں، رشتہ داروں، دوستوں اور معاشرے حتی کہ حکمرانوں کو ہدف تنقید بنانے سے پہلے ہمیں اپنے کردار کو حسینی خوشبو سے معطر کرنا ہو گا۔ خود کو بدلے بغیر معاشرے میں انقلاب کا خواب ہر دور میں چکنا چور ہوتا رہا۔ اگر یہ انقلاب ہم اپنی ذات اور پھر اپنے گھر میں لے آتے ہیں تو یقین جانیے یزید کے قائم کردہ نظام کو سمندر برد کرنے کی اس تحریک کا آغاز ہو جائے گا کہ جس کی بنیاد شہیدان کربلا نے رکھی اور اپنے مقدس خون سے جس کی آبیاری کی، یہ بات کبھی بھی قلب و ذہن کے نہاں خانے میں کیوں نہ آئی کہ ہم امام حسینؓ اور انکی آل و اصحاب کی شہادت کا بیان تو عقیدت و احترام سے کرتے ہیں اور یزید کے مظالم کا تذکرہ بھی۔ مگر ان وجوہات کا بیان کیوں نہیں کہ جس بنا پر یزید نواسہ رسول کے قتل ناحق پر آمادہ ہوا…؟ ہر ظلم، ہر جفا، یر ستم اور ہر الم برداشت کر لیا، مگر بیعت یزید نہ کی۔ بقول شاعر ’’ دنیا کا ہر یزید اسی غم میں مر گیا، کہ سر مل گیا حسین کا بیعت نہیں ملی ‘‘۔ ہر سال ماہ محرم میں محافل بھی ہوتی ہیں اور مجالس بھی، لنگر تقسیم ہوتے ہیں اور سبیلیں بھی لگتی ہیں حتی کہ ماتم بھی، مگر سوال وہی کہ ہم ان مقاصد سے چشم پوشی کیوں برت رہے ہیں جن کے لیے شہدائے کربلا نے عزیمت کی تاریخ رقم کی۔۔۔؟ کیا محض دکھ اور ماتم سے حسینی کہلوایا جانا زیبا ہے۔ بقول اقبالؒ ’’ کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو، کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی ‘‘۔ صرف ظالمانہ آمرانہ، استحصالی رویوں اور طرز حکومت کو یزیدی قرار دینا درست نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بددیانتی، ظلم کا ساتھ، دھوکہ، دینی اقدار کی پامالی، قطع تعلقی، ظلم پر خامشی، ذاتی مفادات، جھوٹ، فریب، اقربا پروری اور سب سے بڑھ کر شعائر اللہ اور شعائر رسول کی بے ادبی بھی اسی زمرہ میں آتی ہے۔ طالب اقبال محترم ندیم پراچہ نے صائب مگر کیا حقیقت بیان کی کہ حسینی نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا وجود ہے، کہ ہم اپنے اور اپنے گھر میں تو نافذ نہیں کر سکتے اور بات انقلاب کی اور یزیدی نظام کے خاتمہ کی کرتے ہیں۔ خواتین انہی محا کو خانوادہ رسول کی عفت مآب، عصمت و طہارت اور بندگی کی پیکر سیدہ کائنات اور زینب کے تذکروں سے تو سجاتی ہیں مگر کیا ہماری خواتین کا بود و باش، لباس اور طرز معاشرت ان کے اسوہ کے مطابق ہے، اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو بھئی یہی تو یزیدی نظام کا پرتو ہے۔ بے راہ روی کا زور اور معاشرہ بے حیائی کے چنگل میں کس حد تک پھنس چکا ہے، اس کا ادراک ہر ذی شعور کو مگر آنکھیں بند، الیکٹرانک و سوشل میڈیا بے حیائی کے فروغ میں پیش پیش ہمارے لباس اور فیشن اغیار کو بھی شرمندہ کرنے والے، تعلیمی ادارہ جات میں منشیات اور بے حیائی عام، یقین نہیں تو اپنی جامعات کے احوال دیکھ لیں، ابھی تو دو کے ہی کھلے ہیں کہ انگلیاں دانتوں میں دبنے لگیں۔ ڈراموں کا حیا سوز کلچر نئی نسل کو کس ڈگر پہ لے جا رہا ہے یہ تو کبھی سوچا ہی نہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ سادہ لوح مسلمان اور کچھ استثنا کے ساتھ سبھی طبقات نے اپنے رویوں اور اپنے معاملات سے مردہ یزید کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ معاشی یزیدیت آج بھی کرپشن، صاحبان اقتدار کی عیاشی، قومی و عوامی وسائل پر قبضہ، عوام کے استحصال، حکومتی اختیارات و سرکاری وسائل سے ذاتی کاروبار کو وسعت، مد مقابل اور حزب مخالف کے معاشی استحصال کی صورت میں قائم، جبکہ سیاسی و حکومتی یزیدیت نے کاروبار مملکت کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ نظام ریاست میں پوری طرح زندہ و توانا دکھائی دیتا ہے۔ ریاستی مشینری کے ساتھ ماڈل ٹائون میں قتل عام، 250سے زائد لوگوں کو زندہ جلایا جانا، شاہ رخ اور آئے روز اس جیسے ہزاروں قتل ناحق، قاتلوں کا دندناتے پھرنا، طاقتور کی ٹکر سے وردی میں کھڑے پولیس اہل کار کی موت، مذہب اور فرقہ کے نام پر دہشت گردی، غربت و افلاس کے ہاتھوں خودکشیاں، تعلیم یافتہ اور ذہین نوجوانوں کا تلاش روزگار میں مارے مارے پھرنا یزیدی نظام کے مظاہر ہی تو ہیں، اس نظام میں اسمبلیوں میں اصلاحات اور بل پاس ہوتے ہیں تو اشرافیہ کے مفادات اور عیاشیوں کے جبکہ عام آدمی دو وقت کی روٹی اور بجلی کے لیے دربدر جبکہ حکمرانوں کے کتے بھی ٹھنڈی گاڑیوں میں، اس نظام میں تبدیلی کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو بزور طاقت دبایا جاتا ہے۔ صاحبان اقتدار کے ہر ناجائز اور غیر قانونی اقدام کو سند قبولیت ملتی ہے اور سرکاری مشینری اور وسائل حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کی ہوس پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اقتدار پر چند خاندان قابض اور انتخابات محض ڈھونگ اور چہرے بدلنے کے لیے اور یہ سب کچھ حسینیت کی ضد، جس طرح دور یزید میں عدل ناپید تھا تو آج بھی اس کی حالت قابل رحم کہ فیصلہ جات جرم نہیں مجرم دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔ قتل، ڈکیتی، اربوں کی کرپشن و منی لانڈرنگ کے ملزمان اور طاقتور مجرموں کی بریت معمول، حتی کہ وہ برسر اقتدار اور کچھ منتظر، مگر عام شہری کی زندگی معمولی انصاف کے حصول میں گزر جاتی ہے۔ اسی نظام میں چند یوم پہلے آسمان نے وہ منظر بھی دیکھتا ہے کہ دارالخلافہ میں غریب ریڑھی بان کے خلاف سی ڈی اے کا قانون تجاوزات بھر پور قوت سے حرکت میں آتا ہے اور اسے پوری قوم اس مجبور کو پابند سلاسل اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے. اس قانون کو وزیر اعظم سے لیکر پٹواری تک کی قانون شکنی نظر نہیں آتی کہ طاقتور اور غریب کے لیے الگ الگ قوانین کے اطلاق کی بشارت آقائے دو جہاںؐ نے صدیوں پہلے دے دی تھی۔ پورے معاشرے پر ظلم کا راج مگر اس کے باوجود واعظوں اور ذاکروں کے کہے کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ زمین یزید لعین کے وجود سے پاک ہو چکی مگر جب اپنے احوال، معاشرے اور اپنی ذات پہ نظر پڑتی ہے تو یزید کے مرنے کا یقین نہیں آتا۔ اب یہ حسینی فکر رکھنے والوں کے چیلنج نہیں کہ یزید کو تو ہم نہ مار سکے کہ وہ ہماری دسترس اور دور میں نہ تھا مگر کیا ہم اس کے قائم کردہ نظام کو زمیں بوس نہیں کر سکتے اور اگر اس کی بھی جرات اور طاقت نہیں تو پھر ہمیں حسینی ہونے کے دعویٰ سے دستبردار ہو جانا چاہیے، کہ حسینیت تقریریں کرنے، مجلسیں پڑھنے، سبیلیں لگانے، لنگر تقسیم کرنے اور ماتم کرنے کا نام نہیں بلکہ جرات و استقامت سے آمرانہ، ظالمانہ اور استحصالی نظام کے خلاف ڈٹ جانے اور پامال ہوتی اسلامی اقدار کو بچانے کا نام ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button