Editorial

فضائی آلودگی : پیشگی اقدامات کی ضرورت

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آیا ہے۔ آج ہم اس موسمیاتی ناانصافی کا شکار ہوئے۔ خدا نہ کرے کل کوئی اور اس سانحے کا نشانہ بنے۔ وزیراعظم نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ آیئے موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے دیوار بن جائیں۔ وزیراعظم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی قیمت پاکستان نے سیلاب سے تباہ کاریوں کی صورت میں ادا کی ہے۔ کیا یہ آفت اور تباہی پاکستان کیلئے آخری ہوگی یا دیگر ممالک کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہزاروں افراد زخمی و متعدد لاپتا ہیں۔ مویشی، فصلیں، گھر، بستیاں اور شہر متاثر ہوئے۔ سیلاب متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دنیا کو ہماری مدد کے لیے آگے آنا ہوگا۔ ہمارے درمیان موجود کچھ ممالک نے سیلاب متاثرین کی بہت مدد کی۔ ان کا مشکور ہوں۔ترقی یافتہ ممالک نے ماحولیات کو آلودہ کردیا ہے، گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے سیلاب آ رہے ہیں، اسی صورتحال کا سامنا پاکستان کو بھی ہے، لیکن پاکستان اس ماحولیاتی آلودگی کا ذمہ دار نہیںبلکہ دوسرے ممالک کی پیدا کردہ آلودگی کا شکار ہے اس لیے پاکستان کی موجودہ صورتحال بڑے پیمانے پر مدد کی ضرورت ہے، تاہم اکیلا پاکستان اتنے وسائل نہیں رکھتا کہ وہ اس کا ازالہ کر سکے ، جن ممالک نے یہ حالات پیدا کئے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال سے نکلنے میں پاکستان کی مدد کریں۔ بلاشبہ انسانوں نے ترقی کے نام پر ماحولیاتی توازن بگاڑ کر کرہ ارض کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اپنی سلامتی بھی خطرے میں ڈال دی ہے اسی لیے کرۂ ارض اس وقت مختلف قسم کے ماحولیاتی مسائل میں گھری ہوئی ہے اور اب دنیا بھر میں موسمی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ آلودگی کے نتیجے میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے، گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، معمول سے کہیں زیادہ بارشیں ہورہی ہیںجو سیلاب اور تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔ پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک میں اگرچہ درختوں کو بے دردی سے کاٹا جارہا ہے اور مختلف ذرائع سے آلودگی پیدا کی جارہی ہے اور اِن کے برعکس ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام بھی افسوس ناک حد تک نہ ہونے کے برابر ہیں مگر وہ ترقی یافتہ ممالک جو صدیوں سے ماحول کو آلودہ کررہے ہیں انہوں نے کسی حد تک اپنے ہاں تو ٓآلودگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں مگر ان کی پیدا کردہ آلودگی کی مقدار دوسرے ممالک کو تباہی سے دوچار کررہی ہے اور وہ ممالک جہاں دو وقت کی روٹی بھی سوہان روح بن چکی ہے، وہاں ترقی یافتہ ممالک کی صدیوں سے مسلسل پیدا کردہ فضائی آلودگی تباہی مچارہی ہے۔ موسم گرما میں گرمی کی غیر معمولی لہر ناقابل برداشت ہوتی ہے، سردی میں سموگ کی شکل میں عذاب نازل ہوتا ہے جبکہ مسلسل بارشوں اور ان کے نتیجے

میں سیلاب سے اجناس تباہ ہورہی ہیں اور بلاشبہ ان سب کا مجموعہ قحط اور معاشی بحران کی صورت میں نظر آتا ہے۔ پاکستان اوردیگر ترقی پذیر ممالک میں فضائی ٓآلودگی جو تباہی مچارہی ہے اس کا قریباً ایک فیصد بھی متاثرہ ممالک ذمہ دار نہیں ہیں لیکن پھر بھی فضائی آلودگی کا شکار ہوکر مسائل کی دلدل میں دھنس رہے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کے نتیجے میں اجناس شدید متاثر ہورہی ہیں اور پھر درآمدات کے ذریعے ضروریات پوری کرنا پڑتی ہیں۔ یہ تو کرونا وباسا گماں ہوتا ہے کہ جب ویکسین تیارکرنے والے ممالک نے مہنگے داموں ویکسین بیچی اور ریاستوں نے اپنے لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے مجبوراً خریدیں۔ اب بھی قریباً ویسی ہی صورت حال ہے پاکستان اور دوسرے ممالک جو فضائی آلودگی کاشکار ہورہے ہیں ان کے لیے بظاہر آلودگی پیدا کرنے والے بڑے ممالک کے پاس کچھ بھی نہیں حالانکہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے واضح طورپر کہا ہے کہ جو ممالک فضائی آلودگی پیدا کررہے ہیں انہیں آگے بڑھ کر پاکستان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ موجودہ قیامت سی صورت حال سے باہر نکلا جاسکے۔ فضائی آلودگی ایسا مسئلہ نہیں جو چند سالوں میں سامنے آیا بلکہ قریباً ڈیڑھ صدی قبل سے مسلسل مشاہدہ کیا جارہا تھا کہ فضا میں کاربن کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کو کم کرنے کے لیے کاربن پیدا کرنے والے ممالک کی طرف سے یا تو اقدامات نہیں کیے جارہے یا پھر کیے بھی جارہے ہیں تو وہ انتہائی ناکافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرہ ارض کے بعد حصوں میںہیٹ ویوزیعنی گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور مختلف ممالک میں قحط سالی معمول کی بات بنتی جارہی ہے جبکہ کئی ممالک میں سمندری طوفانوں کا آنا معمول بنتا جارہا ہے۔ یہی نہیں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے لوگوں میں مہلک وبائی امراض پیدا ہورہے ہیں اور لوگ ان کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جارہے ہیں جب یہ صورت حال انسانوں کے لیے جان لیوا ہے تو نرم جان چرند و پرند اور حشرات الارض کی کتنی اقسام ختم یا معدوم ہوچکی ہوں گی ۔ گلوبل وارمنگ اب عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے لیکن ذمہ دار ممالک کو جس ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض اداکرنے چاہئیں وہ نہیں کررہے یہی وجہ ہے کہ ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے اِس لیے جہاں ہم فضائی آلودگی کے ذمہ دار ممالک کو موجودہ حالات میں اُن کے فرائض یاد دلاتے ہیں وہیں اپنے ارباب اختیار سے بھی التماس کرتے ہیں کہ ہمیں فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی ہر صورت حال سے نمٹنے کے لیے اب یعنی قبل ازوقت تمام تر تیاریاں کرنا ہوں گی کیونکہ کوئی ضامن نہیں کہ ایسی بارشیں آئندہ نہیں ہوں گی یا خدانخواستہ سیلاب ایسی تباہ کاریاں نہیں مچائے گا۔ ہیٹ ویوز کا تو ہم پہلے ہی شکار ہوچکے ہیں پس اپنے بقا کی خاطراپنے دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمیں شجرکاری میں تیزی سے اضافہ کرنا چاہیے، درختوں کی کٹائی کو روکنا چاہیے ، لوگوں کو دریائوں کے بیڈ سے دور بسایا جائے اور آلودگی پیدا کرنے والے تمام ذرائع بند کیے جائیں تاکہ ہم ہر ممکن حد تک اِس تباہی سے محفوظ رہ سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button