ColumnKashif Bashir Khan

لمحہ لمحہ بیت رہاہے ۔۔ کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

پاکستان کے عوام آج چاک و جگر دریدہ ہیں۔ 75 سال کے سفر کا ملال عوام پر ہر قسم کا قہر ڈھا چکااور ظلمت شب کے صحرا کی مسافتیں عوام کو شکستہ پا کر کے ملال سفر میں مبتلا کر چکیں۔چارہ سازوں کا ماضی کوئی اچھا نہیں اور ماضی میں عوام کو رعایا بنا کر ظلم و ستم کا جو بازار ہر دور میں برپا کیا گیا اس نے عوام کے گریبان چاک کر کے انہیں الم رسیدہ بنا ڈالا ہے اور عوام آج ہر قسم کی بدحالی کا شکار ہیں۔کبھی سیاست،کبھی پاکستان،کبھی مذہب،کبھی جمہوریت، کبھی ریاست اور کبھی آمریت کے نام پر پاکستان کے عوام کے حقوق غضب کر کے انہیں محکوم بنا کر ان پر طاقتوروں نے حکمرانی کے تیز نشتر چلائے۔ماضی پر نظر دوڑائیں تو ہر تاریک دور میں سچ بولنے والے موجود رہے لیکن پاکستان سے بہت بڑا ظلم پچھلے چالیس سال میں یہ ہوا کہ اس ملک کے اصل دانشور طبقے کو نام نہاد دانشور(حکومتی زر خرید)سے دانستہ تبدیل کیا گیا اور عوام کو ان کی حقیقی آزادی اور محکومیت سے نجات حاصل کرنےکا پیغام جو ہر ملک کے دانشور طبقے کا خاصہ ہوتا ہے اس کا راستہ زر سے روک دیا گیا۔ستم ظریفی ہوئی کہ عوام کوزبان بریدہ بنا دیا گیا۔شاید ماضی میں بھی عوام زبان بریدہ ہی ہوتے تھے لیکن فیض احمد فیض احمد فراز،حبیب جالب اور منیر جیسے انقلابی اپنے کلام کے ذریعے عوام کو قوت گویائی بخش کر ان کی خاموشی کو جھنجھوڑا کرتے تھے۔80 کی دہائی پاکستان کے موجودہ المناک اور خوفناک صورتحال کی ابتدا تھی کہ ایک جانب بازی گر اور ستمگر پاکستان کے عوام کے سنگھاسن کی جانب بڑھ رہے تھے اور دوسری جانب فیض احمد فیض جیسے انقلابی ملک چھوڑ کر فلسطین جا چکے تھے جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کے خاتمے کے ساتھ عوام سے حقوق دینے کے وعدے بھی قبر میں دفن ہو چکے تھے۔
بھٹو تو 1979میں اپنی پھانسی کے ساتھ ہی اپنا نظریہ اور سیاست اپنی قبر میں لے گیا تھا جبکہ آج 43 سال بعد بھی بھٹو کی باقیات اس کا نام بیچ کر پاکستان کو دکھوں کی سولی پر لٹکائے پھر رہے ہیں۔80 کی دہائی میں ایسا طبقہ بازار سیاست میں لایا جا رہا تھا جس کا مقصد حیات صرف اور صرف دولت اکٹھی کرنا تھا۔دولت اکٹھی کرنا اور سیاست کرنا دو بالکل متضاد کام ہیں،لیکن جب دولت کے پجاریوں کو طاقت اور وہ بھی حکمرانی کی طاقت مل جائے تو پھر پاکستان کے خزانے اور عوام کا وہ ہی حال ہوتا ہے جو آج ہو چکا۔یعنی عوام چاک جگر اور الم رسیدہ اور خزانہ خالی۔80 کی دہائی میں وہ طبقہ موجود تھا کہ جس نے بھٹو کی عوامی تحریک جسے ہم عوام کے حقوق کی تحریک بھی کہہ سکتے ہیں، کو دیکھا تھا اور اکثریت دبے دبے لفظوں میں ہی سہی لیکن جابر حکمران کے سامنے لب کشائی ضرور کرتی تھی لیکن پھرنئے لوگ مسند پر بٹھا دیئے گئے، جن کا اولین ٹاسک ذرائع ابلاغ پر حکومتی مشینری اور فنڈز کے ذریعے قابو پا کر حقیقی شعراء اور دانشور طبقے کو جبر اورظلم کے ذریعے پیچھے دھکیل کر اپنے زرخرید صحافی شعراء اور نام نہاد دانشوروں کو سامنے لا کر عوام کی فکری سوچ کو متاثر کر کے انہیںزبان بریدہ کرنا تھا۔دولت کی چمک اور عہدوں کی طاقت نے اصل انقلابی سوچ کے حامل دانشور طبقے کو عوام سے دور کر دیا اور نئے آنے والے صحافی اور شعراء کی اکثریت کا بھی مطمع نظر ان حکمرانوں کی قربت اور ان کی شان میں قصیدے لکھنااور پڑھنا ٹھہرااور یہ سلسلہ اب بھی جاری و ساری ہے۔
دانشورانہ بددیانتی اپنے عروج کو پہنچی۔ دانشوروں سے قلم فروشوں کو تبدیل کرنے کے اس غلیظ اور مکروہ عمل کی لاہور کےکاروباری بابو نے سرکاری خزانے سے ابتدا کی تھی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کے عوام کی زبانیں بریدہ کر کے انہیںخواب غفلت کی لمبی نیند سلا دیا گیا اور پھر جو اس ملک کے ساتھ ہوا وہ دنیا نے تو دیکھا ہی لیکن اس نے پاکستان کے عوام کیلئے ظلم و ستم،محرومیوں اور بے بسیوں پر مشتمل ظلمت شب کی مسافتوں کے صحراؤں کو طویل تر کر دیا۔
پاکستان کو آزادی حاصل کئے 75 سال بیت چکے اورچار ادوار جن کی مدت 32 سال بنتی ہے پاکستان آمروں کے زیر حکمرانی رہا۔یعنی ایوب خان، جرنل یحییٰ خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف۔ باقی ماندہ 43 سالوں میں سے 5 سال ذوالفقار علی بھٹو کے نکال کر 38 سال بچتے ہیں جس میں پاکستان کے عوام کو زبان بریدہ بنا کر انہیں ہر طرح کے استحصال کا نشانہ بنایا گیا اور اس میں بنیادی کردار ان زرخرید نام نہاد دانشورطبقے نے سرانجام دیا جو فیض احمد فیض، حبیب جالب، منیر نیازی،احمد فراز،استاد دامن اور بہت سے دوسرے انقلابی سوچ کے حامل شعرا و لکھنے والوں کی جگہ بزور طاقت اور پیسہ لائے گئےاوریہ سلسلہ جاری ہے،لیکن 1979 سے آج 2022 تک ہوا کیا؟آج جب حقیقی آزادی کے تحریک بیدار ہو چکی اور زبان بریدہ عوام کو عمران خان کی شکل میں ایک شخص پکار پکار کر کہ رہا کہ’’بول کے لب آزاد ہیں تیرے‘‘تو ایسا لگتا کہ سالہاسال سے خواب غفلت میں سوئی ہوئی عوام جاگ رہی ہے۔آج پاکستان میں استعماری قوتوں اور سامراج کے ساتھ ساتھ ان کے مقامی آلہ کاروں کے خلاف شدید عوامی نفرت نظر آرہی ہے اور ایسی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے جس میں عوامی حقوق کو غضب کر کے پاکستان کی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کے ساتھ عوام کے وسائل کی وحشیانہ لوٹ مار کرنے والےمراعات یافتہ طاقتور ترین گروہ، ایک شخص جس کا نام عمران خان ہے، کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں۔آج پاکستان کے عوام جو کچھ عرصہ قبل امور مملکت سے بے دخل تھے اور سوچتے تھے کہ’’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘‘پھر سے امید سحر کی آس میں خوب غفلت سے جاگ چکے اور انہیں قوت گویائی مل چکی بلکہ ان کے در پر عمران خان کی شکل میں ایک شخص بار بار دستک دے کر انہیں احساس دلا رہا کہ فیض احمد فیض کا کہا’’بول کہ سچ زندہ ہے۔بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘‘کو حقیقت کا رنگ دے ڈالو۔
موجودہ اتحادی حکمران اکٹھے ہو کر بھی ایسے شخص(عمران خان) کا سیاسی اور انتخابی میدان میں مقابلہ کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے جو آج عوام پاکستان کو امید سحر کی نوید دے رہاہے ۔کئی منزلوں کے تھکے اور ہارے ہوئے عوام، آج عمران خان کے پیچھے نئی سحر تلاش کرتے نظر آ رہے ہیں اور دکھائی یہی دے رہا ہے کہ چالیس سالوں سے پاکستان کے عوام پر مسلط بازی گروں کو اب چھپنے اور بھاگنے میں ہی عافیت ملے گی۔عوام اس دور میں بجلی کے مہنگے ترین بلوں،مہنگے ترین پٹرول،سبزیوں اور بدترین ٹیکسوں کے مارے ہوئے ہیں اور ان کی آنکھوں میں خون اترا ہوا صاف دکھائی دے رہا ہے کہ جب اپنے بچے بھوک، پیاس اور بنیادی سہولتیں کی عدم دستابی سے مریں تو پھر یہ قدرتی امر ہے کہ حکمرانوں کے محل بھی محفوظ نہیں رہا کرتے۔مہنگائی عوام کی برداشت سے باہر ہو چکی اور مہنگائی کا غصہ کسی بھی وقت عوام کے غیض و غضب کی صورت میں ایک خوفناک آتش فشاں کی مانند حکمرانوں کو خس و خاک کی طرح بہا کر لے جا سکتا ہے۔موجودہ بدترین ملکی حالات غماز ہیں کہ اگر اس ملک پر مسلط حکمران ٹولے نے دن بدن تیزی سے تباہ حال معیشت کے زیر اثر بگڑتی ہوئی صورتحال کا فوری ادراک نہ کرتے ہوئےملک کی جان نہ چھوڑی تو پھر بقول فیض’’تخت اچھالے جائیں گے‘‘۔عوام کو بھی اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے اپنی زبانوں پر پڑی زنجیروں کو توڑ کر اپنے لب آزاد کر کے سچ بولنا ہو گا کہ نازک ترین حالات کا لمحہ لمحہ بیت رہا ہے اور کہیں بقول منیر نیازی وہ پھر نہ سوچتے رہ جائیں کہ’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button