دنیا، زہد، رزق اور مومن کی شان
دنیا، زہد، رزق اور مومن کی شان
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
انسان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان دنیا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہر دور میں ایک جیسی رہی ہے، مگر ہر انسان اسے نئے سرے سے جیتا ہے۔ کوئی اسے مقصد بنا لیتا ہے، کوئی اس سے بھاگ جاتا ہے، اور کوئی اسے سمجھ کر اس کے اندر رہتے ہوئے اس سے بلند ہو جاتا ہے۔ اصل فرق سمجھنے اور نہ سمجھنے کا ہے۔
دنیا بظاہر بہت حسین ہے، مگر اس کی حقیقت بڑی مختصر اور تلخ ہے۔ عربی زبان میں دنیا کا لفظ ’’ دنو‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ادنیٰ، قریب یا کمتر۔ گویا دنیا اپنے نام ہی سے یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ اعلیٰ نہیں بلکہ ادنیٰ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک اعلیٰ روح، جو اللہ کی طرف منسوب ہے، وہ کسی ادنیٰ چیز پر مر سکتی ہے؟
قرآن مجید نے دنیا کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ: دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔
یہ دنیا ایک سایہ ہے جو بدلتا رہتا ہے۔ ایک لمحہ خوشی ہے تو دوسرا لمحہ غم۔ ایک دن دولت ہے تو دوسرے دن محتاجی۔ ایک وقت طاقت ہے تو دوسرے وقت کمزوری۔ یہی اس کی فطرت ہے۔
اس حقیقت کو سب سے زیادہ جس شخصیت نے سمجھا اور سمجھایا وہ حضرت علیؓ ابن ابی طالب ہیں۔ انہوں نے دنیا کو صرف دیکھا نہیں بلکہ جیا بھی اور پہچانا بھی۔ ان کے نزدیک دنیا کی حیثیت ایک ٹوٹی ہوئی جوتی سے زیادہ نہ تھی اگر وہ اللہ کے بغیر ہو۔
ایک مشہور واقعہ ہے کہ حضرت علیؓ اپنا پرانا جوتا گانٹھ رہے تھے ۔ عبداللہ ابن عباسؓ نے جب دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ فرمایا اپنا جوتا سی رہا ہوں ۔ آپؓ نے ابن عباسؓ سے پوچھا کہ اس جوتے کی قیمت کیا ہو گی ؟۔ ابن عباسؓ نے عرض کیا کہ اس کوئی مفت میں بھی نہیں لے گا، تو حضرت علیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تمہاری اس دنیا اور اقتدار سے مجھے یہ جوتا زیادہ محبوب ہے، بشرط یہ کہ میں حق قائم کروں یا باطل مٹا دوں‘‘۔
یہ جملہ دراصل دنیا کے پورے فلسفے کو بدل دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، حق مقصد ہے۔ مال مقصد نہیں، بندگی مقصد ہے۔ دنیا نہیں، آخرت اصل ہے۔
جبھی تو آپؓ کو زاہدوں کا امام مانا گیا ہے اور زہد دنیا چھوڑنا نہیں، دنیا سے آزاد ہونا ہے۔ لوگ زہد کو غلط سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زہد کا مطلب فقر، فاقہ، جنگل اور دنیا سے فرار ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔زہد دنیا سے نکل جانا نہیں، بلکہ دنیا کا اپنے من سے نکالنے کا نام ہے ۔
گویا دنیا کے اندر رہ کر اس کے غلام نہ بننا ہے۔
زاہد وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہیں ، بلکہ وہ ہے جس کے پاس سب کچھ ہو مگر دل میں کچھ نہ ہو ، کم از کم دنیا نہیں ، دنیا اس کا مطلوب و مقصودِ نہیں ۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
اقبالؒ کا یہ شعر دراصل مولا علیؓ کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ کیوں کہ مولا علیؓ کا طرزِ زندگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ وہ خلیفہ تھے، حاکم تھے، مگر ان کے لباس میں پیوند لگے ہوتے تھے۔ ان کے پاس اختیار تھا مگر دل میں عاجزی تھی۔ ان کا قول ہے: ’’ دنیا سانپ کی مانند ہے، چھونے میں نرم مگر اندر سے زہر قاتل‘‘۔
یہی زہد کا اصل تصور ہے، دنیا ہاتھ میں ہو مگر دل میں نہ ہو۔ دنیا کی فطرت سایہ، دھوکہ اور حرکت۔ دنیا کو اگر سمجھنا ہو تو اسے سائے سے سمجھو۔ اگر تم اس کے پیچھے بھاگو گے تو وہ آگے بڑھ جائے گی، اور اگر تم رک جائو گے تو وہ تمہارے پیچھے آ جائے گی۔
یہی بات حکیم اسلام علیؓ مولا نے فرمائی کہ دنیا سایہ ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا پانی کی مانند ہے۔ اگر پانی کشتی کے نیچے ہو تو وہ اسے اٹھائے رکھتا ہے، لیکن اگر وہی پانی کشتی کے اندر آ جائے تو اسے ڈبو دیتا ہے۔ اسی طرح دنیا اگر دل کے نیچے رہے تو نعمت ہے، لیکن اگر دل میں اتر جائے تو بربادی ہے۔
رزق ، خوف نہیں، یقین کا نام ہے۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری رزق کا خوف ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے زیادہ محنت نہ کی، زیادہ چالاکی نہ دکھائی، یا زیادہ دوڑ دھوپ نہ کی تو وہ بھوکا رہ جائے گا۔
حالاں کہ قرآن واضح اعلان کرتا ہے:’’ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو ‘‘۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے انسان بھول جاتا ہے۔
رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا کرنے کا حق ہے تو تمہیں پرندوں کی طرح رزق دیا جائے گا، جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔
حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’ رزق دو طرح کا ہے: ایک جو تم تلاش کرتے ہو اور ایک جو تمہیں تلاش کرتا ہے‘‘۔ نیز فرمایا:’’ رزق تمہیں ایسے ڈھونڈتا ہے جیسے موت، سو خود کو رزق کے لیے مت گرائو‘‘۔
یہ نظریہ انسان کو اندر سے آزاد کر دیتا ہے۔ کیوں کہ رزق صرف دوڑنے سے نہیں ملتا، بلکہ مقدر سے ملتا ہے۔
مومن کی شخصیت چار بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے
1۔ قناعت
قناعت کا مطلب ہے اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا۔ یہ حرص کو ختم کرتا ہے اور دل کو سکون دیتا ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں: ’’ قناعت ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا‘‘۔
2۔ توکل
توکل کا مطلب اسباب چھوڑنا نہیں بلکہ اسباب کے ساتھ اللہ پر بھروسہ رکھنا ہے۔ مومن محنت کرتا ہے مگر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔
3۔ صبر
صبر صرف مصیبت برداشت کرنا نہیں بلکہ گناہ سے بچنے کی طاقت بھی ہے۔ یہ مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جو اسے ٹوٹنے نہیں دیتا۔
4۔ شکر
شکر نعمت کو پہچاننے اور اس کا حق ادا کرنے کا نام ہے۔ شکر دل کو حسد سے بچاتا ہے اور نعمت کو بڑھاتا ہے۔اگر پوری گفتگو کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ: دنیا ایک امتحان گاہ ہے، منزل نہیں۔ یہ فانی ہے، باقی نہیں۔ یہ سایہ ہے، حقیقت نہیں۔ یہ ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔ فرعون، قارون، شداد اور بے شمار طاقتور لوگ دنیا کے پیچھے بھاگے مگر مٹی ہو گئے۔ دنیا نے کسی کو نہیں چھوڑا۔
زہد کا مطلب نہ مال کا نہ ہونا ہے، نہ دنیا سے بھاگنا ہے، بلکہ: دنیا کا ہاتھ میں ہونا مگر دل سے نکل جانا ہے۔ یہی اصل آزادی ہے۔
رزق خوف سے نہیں ملتا، بلکہ یقین سے ملتا ہے۔ جو چیز تمہارے لیے لکھی جا چکی ہے وہ تم تک پہنچ کر رہے گی، چاہے تم بھاگو یا ٹھہر جائو۔
مومن کی پہچان یہ ہے:: وہ کم پر راضی ہوتا ہے ( قناعت) وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے ( توکل) وہ مشکل میں ٹوٹتا نہیں ( صبر) وہ نعمت میں غرور نہیں کرتا ( شکر) اگر پورے مضمون کا نچوڑ نکالا جائے تو وہ صرف چند سطروں میں سمٹ جاتا ہے: دنیا ادنیٰ ہے، اس پر مرنا عقل مندی نہیں۔
زہد دنیا چھوڑنا نہیں، دل کو آزاد کرنا ہے۔
رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے خوف کی کوئی جگہ نہیں۔
مومن کی شان چار چیزیں ہیں: قناعت، توکل، صبر اور شکر۔
اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ: اعلیٰ روحیں ادنیٰ چیزوں پر نہیں مرتیں۔
انسان کی اصل نسبت زمین سے نہیں، آسمان سے ہے۔
وہ چند روزہ دنیا کے لیے نہیں بلکہ ابدی آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔
اللہ ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے آزاد رہنے کی توفیق دے، رزق میں حلال کی برکت دے، دل میں قناعت، عمل میں صبر، زندگی میں توکل اور ہر حال میں شکر عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین۔







