Column

کیا ہماری معلومات محفوظ ہیں؟

کیا ہماری معلومات محفوظ ہیں؟

میری بات

روہیل اکبر

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں ایک طرف جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سسٹمز اور آن لائن سہولیات کے خواب دکھائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف عام شہری کے دل میں خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ بڑھتا جا رہا ہے۔ آج 22 مئی 2026ء کو بجلی کے بلوں پر موجود QR Codesکا معاملہ پورے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام سوال اٹھا رہی ہے کہ کیا یہ واقعی سہولت ہے یا ایک ایسا دروازہ جو شہریوں کی ذاتی معلومات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے؟ پاکستان کے لاکھوں شہری پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اب ایک نیا خوف اُن کے ذہنوں میں داخل ہو چکا ہے، لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اگر ایک عام شہری صرف اپنا بجلی کا بل دیکھنے یا سبسڈی کی تصدیق کے لیے QR Code Scanکرے اور اُس کی معلومات کسی فراڈیے کے ہاتھ لگ جائیں تو اُس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ یہی سوال آج چائے کے ہوٹلوں سے لے کر دفاتر، بازاروں، گھروں اور سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم تک گونج رہا ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی آن لائن فراڈ، جعلی لنکس، بینک اکانٹس کی ہیکنگ اور سوشل میڈیا scamsعام ہو چکے ہیں۔ ایسے میں بجلی جیسے حساس نظام میں QR Codes متعارف کرانا بغیر مکمل آگاہی کے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔Facebookپر ہزاروں صارفین یہ لکھ رہے ہیں کہ غریب آدمی کو پہلے بجلی کے بل نے پریشان کیا اب QR Codeنے خوفزدہ کر دیا ہے، حکومت کو جدید نظام لانے سے پہلے عوام کو مکمل تربیت دینی چاہیے تھی تاکہ لوگ اصلی اور جعلی QR Codeمیں فرق سمجھ سکیں، اگر بزرگ شہری، کم پڑھے لکھے مزدور یا دیہاتی شخص غلط QR Code scanکر بیٹھے تو اُس کا نقصان کون پورا کرے گا؟ اگر جدید تقاضوں کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو QR Codeبذاتِ خود خطرناک نہیں ہے مگر مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب فراڈیے جعلی QR Codesبنا کر لوگوں کو trapکرتے ہیں۔ یہی خدشہ آج پورے پاکستان میں بے چینی پیدا کر رہا ہے، کیونکہ پاکستان میں سائبر سیکیورٹی ابھی اتنی مضبوط نہیں کہ ہر شہری محفوظ رہ سکے۔ اس لیے فوری طور پر ایسا نظام بنایا جائے جس میں ہر صارف کو واضح ہدایات دی جائیں، اصل اور جعلی QR Codeکی پہچان سکھائی جائے اور عوام کو تحفظ کی ضمانت دی جائے سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ اس معاملے پر شدید بحث کر رہا ہے کچھ لوگ اسے جدید پاکستان کی علامت قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے غریب عوام کے لیے ایک نئی مشکل کہہ رہے ہیں۔ TikTokپر وائرل ویڈیوز میں شہری کہہ رہے ہیں کہ’’ پہلے بل نے جینا مشکل کیا اب QR Codeنے ڈر پیدا کر دیا‘‘ ۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’ پاکستان میں ہر نئی چیز پہلے عوام پر آزمائی جاتی ہے تحفظ بعد میں دیا جاتا ہے‘‘۔ صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی ڈیجیٹل پاکستان چاہتی ہے تو سب سے پہلے سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانا ہوگا ورنہ ہر نیا سسٹم عوام میں خوف پیدا کرے گا عوام یہ بھی پوچھ رہی ہے کہ کیا حکومت کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ کروڑوں شہریوں کا ڈیٹا مکمل محفوظ رکھا جا سکے؟۔ اگر کل کسی شہری کا بینک اکائونٹ hackہو جائے اُس کی شناختی معلومات لیک ہو جائیں یا اُس کے موبائل کا ڈیٹا چرا لیا جائے تو کیا اُسے انصاف مل سکے گا؟ یہ معاملہ صرف ایک QR Codeکا نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کا مسئلہ بن چکا ہے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کمزور ہوگا تو ہر نیا نظام خوف پیدا کرے گا۔ پاکستان کی عوام پہلے ہی مہنگائی، بجلی کی لوڈشیڈنگ، بے روزگاری اور معاشی دبائو سے تھکی ہوئی ہے، ایسے میں اگر ٹیکنالوجی بھی خوف کی علامت بن جائے تو یہ لمحہ فکریہ ہے اس لیے حکومت فوری آگاہی مہم شروع کرے، میڈیا پر واضح پیغامات نشر کیے جائیں، بجلی کے بلوں پر مکمل حفاظتی ہدایات لکھی جائیں اور عوام کو بتایا جائے کہ کون سا QR Codeاصلی ہے اور کون سا جعلی اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں آن لائن فراڈ کے کیس بڑھ سکتے ہیں، جبکہ کچھ حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مخالف عناصر عوام میں خوف پھیلا کر جدید نظام کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ اُن کا موقف ہے کہ QR Codes دنیا بھر میں استعمال ہوتے ہیں اور پاکستان کو بھی جدید ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔ مگر اس کے ساتھ مضبوط حفاظتی اقدامات ضروری ہیں، سوشل میڈیا پر آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان واقعی محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے یا عوام ایک ایسے نظام میں داخل ہو رہی ہے۔ جہاں سہولت اور خطرہ ساتھ ساتھ چلیں گے ؟۔ آج QR Codeصرف ایک چھوٹا سا مربع نشان نہیں بلکہ پورے ملک میں بحث، خوف، غصے اور سوالات کی علامت بن چکا ہے۔ عوام اب صرف بجلی کے بل نہیں دیکھ رہی بلکہ اپنے مستقبل، اپنی پرائیویسی اور اپنی حفاظت کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ پاکستان کی گلیوں، بازاروں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور عوامی حلقوں میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ کیا ہماری معلومات واقعی محفوظ ہیں؟۔

جواب دیں

Back to top button