Column

تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے

تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے

تحریر: رفیع صحرائی

تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں بلکہ کردار سازی، شعور، برداشت، خدمت اور عملی زندگی میں بہتری پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بزرگ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود زندگی کے کئی میدانوں میں آج کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سے زیادہ سمجھدار، صابر اور ذمہ دار دکھائی دیتے تھے۔ جدید تعلیم نے انسان کو معلومات کے سمندر تک رسائی تو دے دی ہے مگر افسوس کہ عمل، اخلاق اور خاندانی تربیت کا پہلو بتدریج کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

ماضی میں پرائمری پاس شخص کو پڑھے لکھے فرد کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اُس دور کا نصاب زندگی سے جڑا ہوا تھا۔ حساب کتاب، لین دین، ناپ تول اور روزمرہ معاملات کی تربیت تعلیم کا حصہ تھے۔ اسی لیے بزرگوں کی گفتگو اور تجربات میں عملی دانش نمایاں ہوتی تھی۔ آج کا نصاب اگرچہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے مگر اس میں عملی زندگی، اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داریوں کی تربیت کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے نوجوان ڈگریاں تو لے رہے ہیں مگر زندگی گزارنے کے بنیادی سلیقے، برداشت، بزرگوں کا احترام اور رشتوں کی نزاکتیں سمجھنے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی طرح ماضی میں لڑکیوں کی تعلیم محدود ضرور تھی مگر اس تعلیم میں تربیت کا عنصر غالب تھا۔ ’’ کچی روٹی‘‘، ’’ پکی روٹی‘‘ اور ’’ احوال الآخرت‘‘ جیسی کتابیں صرف مذہبی معلومات نہیں دیتی تھیں بلکہ بیٹیوں کو صبر، خدمت، عاجزی، گھرداری اور حسنِ اخلاق بھی سکھاتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اُس دور کی خواتین اپنے کردار، بردباری اور خاندانی نظام کو سنبھالنے کی صلاحیت کی وجہ سے معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ انہوں نے کم وسائل میں بھی گھروں کو محبت، سکون اور احترام کا گہوارہ بنائے رکھا۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ عورتوں کی جدید تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیم نے خواتین کو شعور دیا، خود اعتمادی دی، ان کے حقوق سے آگاہ کیا اور انہیں معاشرے میں باوقار مقام عطا کیا۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ اسلام بھی عورت کی تعلیم کا مخالف نہیں بلکہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیتا ہے۔ مسئلہ تعلیم کا نہیں بلکہ تعلیم کے مزاج کا ہے۔ جب تعلیم صرف ڈگری، نوکری اور معلومات تک محدود ہو جائے اور کردار سازی سے خالی ہو جائے تو معاشرہ توازن کھو دیتا ہے۔ آج ہمارے ہاں ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم حقوق تو یاد رکھتے ہیں مگر فرائض بھول جاتے ہیں۔ بیٹیوں کو یہ تو معلوم ہے کہ ساس سسر کی خدمت ان پر شرعاً واجب نہیں مگر یہ شعور کم ہوتا جا رہا ہے کہ خدمت، احترام اور ایثار رشتوں کو مضبوط بنانے والے اعلیٰ اخلاق ہیں۔ یہی معاملہ مردوں کے ساتھ بھی ہے۔ بیٹے والدین کے حقوق بھولتے جا رہے ہیں، شوہر بیوی کے جذبات نظر انداز کرتے ہیں اور والدین اولاد کی تربیت کے بجائے صرف ڈگریوں کے حصول کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ حالانکہ مضبوط خاندان صرف قانون اور حقوق سے نہیں بلکہ محبت، قربانی اور برداشت سے قائم رہتے ہیں۔

ہندوستانی ڈراموں، سوشل میڈیا اور مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید نے بھی ہماری نئی نسل کو شدید متاثر کیا ہے۔ گھروں میں صبر، سادگی اور خاندانی اقدار کی جگہ نمود و نمائش، ضد، خود غرضی اور غیر حقیقی توقعات نے لے لی ہے۔ نوجوان نسل رشتوں کو نبھانے کے بجائے انہیں’’ استعمال‘‘ کرنے کی ذہنیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ شادی کو عبادت ذمہ داری کے بجائے محض تفریح یا وقتی سہولت سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاندانی جھگڑے، طلاقیں، والدین کی بے قدری اور ذہنی دبا بڑھتے جا رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدید تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھی لازمی بنائیں۔ سکولوں اور یونیورسٹیوں میں اخلاقیات، برداشت، خاندانی نظام، دینی شعور اور عملی زندگی کی تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ والدین اپنی اولاد کو صرف ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بنانے کے بجائے اچھا انسان بنانے کی فکر کریں۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ خدمت کمزوری نہیں بلکہ عظمت ہے اور رشتے صرف حقوق مانگنے سے نہیں بلکہ فرائض ادا کرنے سے خوبصورت بنتے ہیں۔ بیٹی کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اس پر ساس اور سُسر کی خدمت شرعاً فرض نہ ہونے کے باوجود محبت اور انسانیت کی بنیاد پر ان کی خدمت کر کے گھر کو محبت کا گہوارہ بنانے کی کوشش کرے کہ کل کو اسے بھی زندگی کھ اس مقام پر کھڑا ہونا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو گھروں کو جنت بناتا ہے۔ اگر ہر فرد صرف ’’ میرا حق‘‘ کے بجائے’’ میرا فرض‘‘ سوچنا شروع کر دے تو معاشرے کے آدھے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں۔

آج ہمیں’’ کچی روٹی‘‘ ا ور’’ پکی روٹی‘‘ کی کتابوں کی طرف واپس جانے کی ضرورت نہیں مگر اُن کتابوں میں موجود تربیت، اخلاق، عاجزی اور خاندانی محبت کی روح کو ضرور واپس لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا کافی نہیں، اصل کامیابی اچھا انسان بننے میں ہے۔

جواب دیں

Back to top button