پاک افواج کی قربانیاں

پاک افواج کی قربانیاں
اور قومی سلامتی کا سفر
پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے، جہاں امن و استحکام ہمیشہ ایک مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی، انتہاپسندی اور غیر ریاستی عناصر نے نہ صرف ملک کے امن کو چیلنج کیا بلکہ معاشی، سماجی اور ادارہ جاتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایسے مشکل حالات میں پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے جس جرأت، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قومی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ گزشتہ روز جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں منعقد ہونے والی ایک پروقار تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہدا اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جس عزم کا اظہار کیا، وہ پاکستان کی مجموعی سیکیورٹی پالیسی اور قومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتا۔ اس تقریب میں افسران اور جوانوں کو ان کی غیر معمولی بہادری اور نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔ 50افسران کو ستارہ امتیاز ( ملٹری) اور 12کو تمغہ بسالت سے نوازنا نہ صرف انفرادی جرات کا اعتراف ہے بلکہ اس اجتماعی قربانی کی بھی علامت ہے جو پاکستان کی مسلح افواج نے اس جنگ میں دی ہے۔ شہدا کے اہلِ خانہ کی موجودگی نے اس موقع کو مزید جذباتی اور تاریخی بنادیا، جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانیوں کو ملک کے امن کے لیے ایک عظیم امانت قرار دیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ شہدا اور غازی قوم کا فخر ہیں۔ ان کی قربانیاں کسی ایک خاندان یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی اجتماعی میراث ہیں۔ یہ وہ سچائی ہے جسے پاکستان کے ہر شہری کو تسلیم کرنا چاہیے کہ آج جو امن اور استحکام موجود ہے، وہ انہی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں حالیہ دنوں کی کامیابیاں بھی اس عزم کی توثیق کرتی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں گزشتہ روز 23دہشت گردوں کا مارا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سیکیورٹی فورسز نہ صرف چوکس ہیں بلکہ کسی بھی خطرے کا فوری اور موثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ کارروائیاں اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہیں کہ ریاست پاکستان اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گرد سرگرمیوں سے پاک رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی یہ جدوجہد صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سرحدی نگرانی اور داخلی سیکیورٹی کی مضبوط حکمت عملی بھی شامل ہے۔ گزشتہ برسوں میں ’’ ردُالفساد‘‘ اور ’’ ضرب عضب‘‘ جیسے آپریشنز نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو بڑی حد تک کمزور کیا جب کہ اب بھی جاری کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ انسانی اور معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔ ہزاروں فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہ قربانیاں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسی داستان ہیں جو قوم کو متحد رہنے اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا سبق دیتی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سطح پر یکجہتی کو مزید مضبوط کیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔ جب تک سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی ایک ساتھ آگے نہیں بڑھتے، تب تک دیرپا امن کا خواب مکمل طور پر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ عزم کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، دراصل ریاست پاکستان کے اس مستقل موقف کی توسیع ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ یہ عزم صرف عسکری قوت پر انحصار نہیں بلکہ قومی ارادے، عوامی حمایت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا متقاضی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے مشکل ترین حالات میں جس پیشہ ورانہ مہارت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہے۔ شہداء کی قربانیاں، غازیوں کی بہادری اور سیکیورٹی فورسز کی مسلسل جدوجہد اس بات کی ضمانت ہیں کہ پاکستان ایک دن ضرور مکمل امن و استحکام کی منزل حاصل کرے گا۔ یہ سفر آسان نہیں، مگر قوم کا عزم، اداروں کی قربانی اور قیادت کا وژن اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے اندھیروں سے نکل کر امن و ترقی کے روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔
بچوں میں ٹی بی کا بڑھتا ہوا خطرہ
پاکستان میں تپ دق ( ٹی بی) ایک بار پھر ایک سنگین عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر سامنے آرہی ہے اور سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس کا شکار بڑی تعداد میں بچے ہورہے ہیں۔ حالیہ انکشاف کے مطابق ہر سال پاکستان میں 93ہزار سے زائد بچے ٹی بی کا شکار ہورہے ہیں، جو صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ٹی بی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد قریباً 6لاکھ 69ہزار ہے، جن میں 14فیصد بچے شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیماری اب صرف بڑوں تک محدود نہیں رہی بلکہ کم عمر اور کمزور طبقات کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان دنیا میں ٹی بی سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں اس کا 73فیصد بوجھ صرف پاکستان پر ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ٹی بی کو صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی ہنگامی مسئلہ سمجھا جائے۔ بچوں میں اس بیماری کی بڑھتی ہوئی شرح اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ ابتدائی تشخیص، حفاظتی اقدامات اور علاج کی سہولتوں میں واضح کمی موجود ہے۔ غربت، غذائی کمی، غیر معیاری رہائش اور صحت کی ناکافی سہولتیں اس بیماری کے پھیلا میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت، وزارت صحت اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر اس بیماری کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں، لیکن زمینی سطح پر ان اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں بروقت تشخیص اور مفت علاج کی سہولتوں کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ٹی بی ایک قابل علاج بیماری ہے، مگر بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ بچوں میں اس کا بڑھتا ہوا پھیلائو اس بات کی علامت ہے کہ ہمیں اپنے صحت کے نظام کو مزید مضبوط اور جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت، میڈیا اور معاشرے کو مل کر آگاہی پیدا کرنا ہوگی تاکہ لوگ بروقت علاج کرائیں اور بیماری کے پھیلائو کو روکا جا سکے۔ آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ پاکستان کے مستقبل یعنی بچوں کی صحت کا تحفظ قومی ترجیح ہونا چاہیے، کیونکہ صحت مند بچے ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہیں۔







