Column

آذربائیجان میں ورلڈ اربن فورم اور بدلتے پنجاب کے مستقبل کی نئی سمت

آذربائیجان میں ورلڈ اربن فورم اور بدلتے پنجاب کے مستقبل کی نئی سمت
تحریر : طلحہ محمود ملک
دنیا تیزی سے شہری آبادی، ماحولیاتی تبدیلی، رہائشی بحران اور جدید انفراسٹرکچر جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہونے والا ورلڈ اربن فورم عالمی سطح پر شہری ترقی، پائیدار منصوبہ بندی اور عوامی فلاحی پالیسیوں کے تبادلہ خیال کا سب سے بڑا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہونیوالے اس فورم میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کی، جہاں انہوں نے پنجاب حکومت کے شہری ترقیاتی وعن کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہونے والا 13واں ورلڈ اربن فورم صرف ایک بین الاقوامی کانفرنس نہیں، بلکہ دنیا کے شہروں کے مستقبل پر غور کرنے کا ایک بڑا عالمی پلیٹ فارم ہے۔ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام یہ فورم 2001ء سے منعقد ہو رہا ہے اور اس کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، ہاسنگ، پائیدار ترقی، موسمیاتی دبا اور شہری منصوبہ بندی جیسے بڑے مسائل پر مشترکہ حل تلاش کرنا ہے۔
اسی عالمی پس منظر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی باکو میں موجودگی سیاسی اور انتظامی دونوں حوالوں سے اہمیت رکھتی ہے۔ وہ جب تین روزہ دورے پر باکو پہنچیں، انہیں میزبان ملک کے نائب وزیرِ دفاعی صنعت نے خوش آمدید کہا اور بعد ازاں ان کی صدر الہام علیوف سے ملاقات ہوئی۔ ان کی سیاسی بصیرت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی اجاگر ہوا کہ انہوں نے حیدر علیوف کے مزار پر حاضری دی اور پھول چڑھائے، جس سے دونوں ممالک کے باہمی روابط اور روایات کی تجدید کی۔ مریم نواز شریف کی اس شرکت کو صرف ایک سفارتی دورہ قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ پنجاب کی شہری پالیسیوں، کم لاگت ہائوسنگ منصوبوں اور جدید طرز حکمرانی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ایک اہم کوشش تھی۔ فورم میں انہوں نے واضح کیا کہ شہری ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد عوام کی زندگی کو بہتر، محفوظ اور باوقار بنانا ہے۔ انہوں نے پنجاب کے شہری ترقیاتی ماڈل، خصوصاً اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ اس دورے میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے ہمراہ وزیر ہاسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ بلال یاسین، سنیئر وزیر مریم اورنگزیب، وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری، وزیر توانائی فیصل ایوب کھوکھر اور وزیر زراعت عاشق کرمانی تھے۔
ورلڈ اربن فورم میں پنجاب حکومت کے’’ اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ منصوبے کو خصوصی توجہ حاصل ہوئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ’’ پنجاب پویلین‘‘ کا افتتاح کیا جہاں صوبے کے مختلف ترقیاتی منصوبے، ڈیجیٹل گورننس، ماحول دوست اقدامات اور کم آمدنی والے طبقات کیلئے ہاسنگ پروگرام پیش کیے گئے۔ وزیر ہائوسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ بلال یاسین اور انکی ٹیم کی محنت اور ناممکن کو ممکن بنانے کے اس سفر میں لگن کی داد دینا ہوگی۔ عوام سے پیسے بٹورنے اور سیاسی سفارشی کلچر کی نذر ہونیوالے متعدد منصوبوں کے برعکس، حقیقت پسند، شفاف اور میرٹ کی منہ بولتا مثال منصوبہ عالمی افق پر کامیابیوں کے جھنڈے گھاڑ رہا ہے۔
’’ اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ منصوبہ پنجاب کے فلیگ شپ ہائوسنگ پروگراموں میں سے ہے اور ہزاروں مستحق خاندانوں کو شفاف طریقے سے گھر کی طرف بڑھنے کا موقع دے رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی مندوبین اور میڈیا سے گفتگو میں اس پروگرام کو پنجاب کی سماجی ترجیحات کا عکاس قرار دیا، جبکہ پویلین میں دکھائی گئی ڈاکیومنٹری اور ڈیجیٹل نمائش نے بھی خاص توجہ حاصل کی۔ بلاشبہ بنا کسی ابتدائی فیس یا دفاتر کے چکر کاٹے، گھر بیٹھے آن لائن پورٹل پر درخواست جمع کروائیں اور نمائندہ خود آپ کی دہلیز پر ہوگا۔ شہری علاقے میں ایک سے پانچ مرلہ جبکہ دیہی علاقے میں ایک سے دس مرلہ تک کی زمین پر گھر بنانے کیلئے 15لاکھ روپے بلاسود قرض فراہم کیا جارہا ہے۔ جس سے مستفید افراد کی تعداد ایک لاکھ 50ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، اب تک تعمیر شدہ گھر ایک لاکھ سے زائد ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں گھروں کی تعمیر پاکستان جیسے ملک میں سیاسی نعرے کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہی ہے مگر پہلی بار حقیقت میں نہ صرف یہ گھر بن چکے ہیں بلکہ تمام اضلاع میں سیاسی و جنسی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوامی خدمت کی ایک نئی مثال قائم ہو چکی ہے۔ عالمی مندوبین نے پنجاب کے کم لاگت رہائشی منصوبے کو ایک مثر ماڈل قرار دیا جبکہ فورم میں اسے دنیا کے نمایاں ہاسنگ منصوبوں میں شامل کیا گیا۔
مریم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومتوں کی کامیابی کا معیار صرف اعلانات نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیاں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ شہری ترقی کو ماحول دوست، عوامی ضروریات سے ہم آہنگ اور جدید ڈیٹا پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے بہتر اور پائیدار شہر تعمیر کیے جا سکیں۔ فورم میں وزیراعلیٰ پنجاب نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے آذربائیجان کی شہری ترقی، جدید انفراسٹرکچر اور عالمی رابطہ کاری کو قابل تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھی جدید شہری سہولیات، سمارٹ گورننس اور ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں عالمی معیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پنجاب کے شہری ترقیاتی وژن کو اس پیمانے پر عالمی پلیٹ فارم پر پیش کیا گیا۔ فورم میں مختلف ممالک کے نمائندوں، ماہرینِ شہریات، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں نے پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی، جس سے مستقبل میں بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔
مریم نواز شریف نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ترقی کا اصل مقصد عام آدمی کو سہولت دینا ہے۔ انہوں نے ہائوسنگ، صاف ماحول، محفوظ ٹرانسپورٹ، جدید انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سروسز کو شہری ترقی کا بنیادی جزو قرار دیا۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت ایسے شہروں کی تعمیر چاہتی ہے جہاں ترقی کے ثمرات ہر طبقے تک پہنچ سکیں اور کوئی شہری خود کو محروم محسوس نہ کرے۔ جس کی پنجاب میں عملی تصویر پنجاب ڈویلپمنٹ پلان کی صورت میں جلد واضح ہوگی۔ ورلڈ اربن فورم میں پنجاب کی شرکت نے یہ واضح کیا کہ صوبہ عالمی رجحانات کے مطابق جدید شہری ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اگر ان منصوبوں پر موثر انداز میں عملدرآمد جاری رہا تو پنجاب نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں بھی شہری ترقی کا ایک اہم ماڈل بن سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button