مصنوعی ذہانت اور صحافت کا مستقبل

مصنوعی ذہانت اور صحافت کا مستقبل
عقیل انجم اعوان
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ٹیکنالوجی صرف سہولت نہیں رہی بلکہ فیصلہ سازی کا حصہ بن چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت جسے عام زبان میں اے آئی کہا جاتا ہے اب صرف سائنسی تجربہ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔ یہ ہمارے موبائل فون سے لے کر بینکنگ نظام تک ہر جگہ موجود ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ نئی طاقت صحافت جیسے حساس شعبے کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گی یا پھر یہ صرف ایک مددگار کے طور پر کام کرے گی؟۔ صحافت ہمیشہ سے ایک ذمہ دار پیشہ رہا ہے۔ اس کا تعلق صرف خبر دینے سے نہیں بلکہ سچ کو تلاش کرنے اور اسے عوام تک پہنچانے سے ہے۔ ایک صحافی نہ صرف معلومات اکٹھی کرتا ہے بلکہ ان کی جانچ پڑتال بھی کرتا ہے اور پھر ایک متوازن انداز میں پیش کرتا ہے یہی وہ پہلو ہے جو اس پیشے کو دیگر کاموں سے مختلف بناتا ہے۔ اب جب اے آئی میدان میں آئی ہے تو یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا یہ انسانی صحافی کا متبادل بن سکتی ہے یا نہیں؟، اگر ہم اے آئی کی صلاحیتوں کو دیکھیں تو یہ حیران کن ہیں یہ سیکنڈز میں ہزاروں صفحات پڑھ سکتی ہے، یہ ڈیٹا کو سمجھ کر اس میں سے اہم نکات نکال سکتی ہے، یہ رپورٹ لکھ سکتی ہی اور زبان کو بہتر بنا سکتی ہے اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بظاہر یہ ایک مکمل صحافی دکھائی دیتی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا معلومات جمع کرنا ہی صحافت ہے یا اس کے پیچھے کچھ اور بھی ہے؟۔ صحافت کا سب سے اہم پہلو تنقیدی سوچ ہے ایک صحافی خبر کو صرف قبول نہیں کرتا بلکہ اس پر سوال اٹھاتا ہے وہ یہ دیکھتا ہے کہ خبر کے پیچھے کیا محرکات ہیں وہ مختلف زاویوں سے معاملے کو پرکھتا ہے اے آئی کے پاس یہ صلاحیت محدود ہے، کیونکہ وہ جو کچھ سیکھتی ہے وہ پہلے سے موجود مواد سے سیکھتی ہے، وہ خود سے کوئی نیا زاویہ پیدا نہیں کرتی، بلکہ دی گئی معلومات کو ترتیب دیتی ہے۔ اسی طرح ایک وسیع مطالعہ رکھنے والا دانشور صرف معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرتا ہے اس کی سوچ میں گہرائی ہوتی ہے وہ تاریخ کو حال سے جوڑتا ہے اور مستقبل کے بارے میں اندازہ لگاتا ہے۔ اے آئی اس سطح کی فکری گہرائی تک ابھی نہیں پہنچ سکی وہ معلومات کو دہرا سکتی ہے مگر اس میں وہ بصیرت نہیں جو ایک انسان کے اندر ہوتی ہے۔ یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ اے آئی بے کار ہے حقیقت یہ ہے کہ اس نے صحافت کو آسان بنا دیا ہے اب رپورٹرز کے لیے تحقیق کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ڈیٹا اکٹھا کرنا اور اسے ترتیب دینا پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو گیا ہے، خبریں جلدی تیار ہو جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی صحافیوں کا کام ختم نہیں کر رہی بلکہ اس کے انداز کو بدل رہی ہے لیکن یہاں ایک خطرہ بھی موجود ہے۔ اگر میڈیا ادارے صرف رفتار کو ترجیح دیں اور معیار کو نظر انداز کریں تو وہ اے آئی پر زیادہ انحصار کرنے لگیں گے اس صورت میں صحافت کی روح متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ اے آئی جذبات کو نہیں سمجھتی اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ کسی خبر کے اثرات کیا ہوں گے وہ صرف ہدایات پر عمل کرتی ہے اگر اسے غلط معلومات دی جائیں تو وہ انہیں بھی درست انداز میں پیش کر دے گی یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اے آئی خود فیصلہ کر سکتی ہے، جواب ہے نہیں۔ یہ ہمیشہ انسان کی دی ہوئی ہدایات پر چلتی ہے اگر اسے کہا جائے کہ ایک خاص زاویے سے خبر لکھنی ہے تو وہ ویسا ہی کرے گی اس میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ کون سا زاویہ درست ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ اے آئی ایک آلہ ہے نہ کہ خود مختار صحافی۔ مستقبل میں صحافت کا منظر نامہ تبدیل ضرور ہوگا ایسے صحافی جو صرف بنیادی معلومات فراہم کرتے ہیں ان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں کیونکہ یہ کام اے آئی بہت آسانی سے کر سکتی ہے لیکن وہ صحافی جو تحقیق کرتے ہیں جو میدان میں جا کر حقائق اکٹھے کرتے ہیں جو طاقتور حلقوں سے سوال کرتے ہیں ان کی اہمیت برقرار رہے گی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ روزگار ختم ہو جائے گا ماضی میں جب کمپیوٹر آئے تو یہی کہا گیا تھا کہ دفاتر میں کام کرنے والوں کی ضرورت نہیں رہے گی لیکن ہوا یہ کہ نئے مواقع پیدا ہوئے اسی طرح اے آئی بھی نئے مواقع لے کر آئے گی۔ ایسے افراد کی مانگ بڑھے گی جو ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہیں اور اسے موثر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک اور پہلو اخلاقیات کا ہے، صحافت میں سچائی اور دیانت داری بنیادی اصول ہیں اگر اے آئی کا استعمال غلط مقاصد کے لیے کیا جائے تو یہ جھوٹی خبریں پھیلانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس کے استعمال کے لیے واضح اصول بنائے جائیں۔ میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔ یہ بھی غور طلب بات ہے کہ قاری کیا چاہتا ہے لوگ صرف خبر نہیں چاہتے بلکہ وہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس خبر کا مطلب کیا ہے وہ چاہتے ہیں کہ کوئی انہیں پیچیدہ معاملات آسان زبان میں سمجھائے یہ کام ابھی بھی انسان بہتر طریقے سے کر سکتا ہے کیونکہ وہ انسانی جذبات کو سمجھتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے صحافت کے طلبہ کو اب صرف رپورٹنگ نہیں سکھائی جا سکتی بلکہ انہیں ڈیجیٹل مہارتیں بھی سکھانا ہوں گی۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اے آئی کیسے کام کرتی ہے اور اسے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح وہ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال سکیں گے۔ اے آئی نہ تو مکمل طور پر خطرہ ہے اور نہ ہی مکمل حل۔ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے جس کا استعمال انسان کے ہاتھ میں ہے اگر اسے سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو یہ صحافت کو بہتر بنا سکتی ہے لیکن اگر اس پر اندھا اعتماد کیا جائے تو یہ مسائل بھی پیدا کر سکتی ہے۔ صحافت کا اصل جوہر انسان ہے۔ جب تک معاشرے میں سوال کرنے والے لوگ موجود ہیں تب تک صحافت زندہ رہے گی اے آئی ان کا ساتھ دے سکتی ہے مگر ان کی جگہ نہیں لے سکتی۔ مستقبل انہی کا ہوگا جو ٹیکنالوجی کو اپنائیں گے مگر اپنی فکری آزادی کو برقرار رکھیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو صحافت کو مضبوط بھی کرے گا اور اسے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بھی بنائے گا۔





