
افغانستان کے صوبہ غور کے دارالحکومت چغچران میں غربت، بے روزگاری اور بھوک نے انسانی زندگی کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے، جہاں روزگار کی تلاش میں ہر صبح سینکڑوں مزدور ایک گرد آلود چوک میں جمع ہو جاتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی آ کر انہیں مزدوری دے جائے۔
تھکے ہوئے چہروں اور مایوس آنکھوں کے ساتھ سڑک کنارے کھڑے یہ افراد اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کسی ایک دن کی مزدوری سے اپنے اہل خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر سکیں، تاہم بیشتر افراد کو کام نہیں مل پاتا۔
45 سالہ جمعہ خان بھی انہی مزدوروں میں شامل ہیں، جنہیں گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران صرف تین دن کام ملا۔ انہیں روزانہ 150 سے 200 افغانی معاوضہ ملا، جو بمشکل گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی تھا۔
جمعہ خان نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کے بچے مسلسل تین راتیں بھوکے سوئے۔ ان کے مطابق، *”میری بیوی رو رہی تھی، بچے بھوک سے بلک رہے تھے، آخرکار مجھے پڑوسی سے آٹے کے لیے قرض لینا پڑا۔ مجھے ہر وقت یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں میرے بچے بھوک سے مر نہ جائیں۔”*
یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ چغچران اور اس کے گرد و نواح میں بسنے والے متعدد خاندان اسی اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔
ایک اور مزدور ربانی نے بتایا کہ انہیں فون پر اطلاع ملی کہ ان کے بچوں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔ جذباتی انداز میں انہوں نے کہا، *”ایک لمحے کے لیے خیال آیا کہ خودکشی کر لوں، لیکن پھر سوچا کہ اس سے میرے خاندان کا کیا بنے گا، اسی لیے میں کام کی تلاش میں یہاں آ گیا۔”*
اسی چوک میں موجود بزرگ مزدور خواجہ احمد بھی اپنی بے بسی بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا، *”ہم بھوک سے مر رہے ہیں۔ میں بوڑھا ہوں، میرے بڑے بچے نہیں رہے، اب خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے خود مزدوری کرنا پڑتی ہے، مگر عمر کی وجہ سے کوئی کام نہیں دیتا۔”*
صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ جب چوک کے قریب واقع بیکری کھلتی ہے تو مالک ہجوم میں باسی روٹیاں تقسیم کرتا ہے، جنہیں لینے کے لیے درجنوں افراد ٹوٹ پڑتے ہیں۔ چند لمحوں میں وہ روٹیاں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں اور لوگ انہیں قیمتی خزانے کی طرح سنبھال کر رکھتے ہیں۔
اسی دوران اگر کوئی مزدور لینے آتا ہے تو درجنوں افراد اس کی جانب لپک پڑتے ہیں، مگر گھنٹوں انتظار کے باوجود چند افراد کو ہی کام نصیب ہوتا ہے۔
بے روزگاری کے تباہ کن اثرات قریبی آبادیوں میں بھی نمایاں ہیں۔ عبدالرشید عظیمی، جو شدید قرض اور غربت کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، نے اپنی سات سالہ جڑواں بیٹیوں رقیہ اور روحیلہ کو سینے سے لگاتے ہوئے ایک انتہائی دردناک حقیقت بیان کی۔
انہوں نے روتے ہوئے کہا، *”میں اپنی بیٹیوں کو بیچنے کے لیے تیار ہوں۔ میں غریب، قرض میں ڈوبا ہوا اور بے بس ہوں۔ اگر ایک بیٹی کو شادی یا گھریلو کام کے لیے دے دوں تو کم از کم باقی بچوں کو چند سال تک کھانا کھلا سکوں گا۔”*
عبدالرشید نے مزید کہا کہ جب وہ خالی ہاتھ گھر واپس آتے ہیں تو ان کے بچے صرف ایک سوال کرتے ہیں: *”بابا، ہمیں روٹی دو۔”* لیکن ان کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔
افغانستان کے صوبہ غور میں غربت، بھوک اور بے روزگاری کا یہ بحران اب انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں والدین اپنے بچوں کی بقا کے لیے ناقابلِ تصور فیصلے کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔







