Columnمحمد مبشر انوار

کامیابی اور تعاون

کامیابی اور تعاون
محمد مبشر انوار
گلگت بلتستان کے انتخابات ہو چکے، نتائج بھی سامنے آ گئے، ان نتائج کے حوالے سے سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا موقف عوام کے سامنے رکھ دیا اور حسب توقع تحریک انصاف کی جانب سے ان انتخابات پر شدید نکتہ چینی کی گئی، دھاندلی زدہ انتخابات قرار دئیے گئے، تحریک انصاف کو مساوی مواقع فراہم نہ کرنے کی شکایت کی گئی اور حیرت انگیز طور پر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے آٹھ نشستوں پر کامیابی کو تسلیم کیا گیا۔ بیرسٹر گوہر کے اس بیان پر جماعت کے اندر سے ہی ان پر شدید تنقید ہورہی ہے اور بغیر کسی مزاحمت کے صرف آٹھ نشستوں پر کامیابی کو تسلیم کرنے پر بیرسٹر گوہر کی کمزور شخصیت کو نشانہ بنایا جارہا ہی حالانکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ابھی تک 6نشستوں کے نتائج کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا، جو کسی حد تک درست بھی دکھائی دیتا ہے کہ اس وقت پورے ملک میں تحریک انصاف کی حمایت عروج پر ہے اور اس پس منظر میں گلگت بلتستان سے صرف آٹھ نشستوں پر کامیابی کو یوں تسلیم کر لینا، تحریک انصاف کو کسی بھی طرح مناسب دکھائی نہیں دیتا لہذا بیرسٹر گوہر کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ بیرسٹر گوہر کو چیئرمین بھی عمران خان نے خود نامزد کیا تھا اور تحریک انصاف اب چاہ کر بھی بیرسٹر گوہر کو نہ ہٹا سکتی ہے اور نہ ان کے خلاف جاسکتی ہے، لے دے کے ان کے فیصلوں یا موقف پر تنقید ہی باقی بچتی ہے، جو تحریک انصاف پورے زور و شور سے کرتی ہے، جس کا کوئی فائدہ نہ پارٹی کو ہے اور نہ ہی عمران خان کو، کہ اس تنقید سے عمران خان کی رہائی کے امکانات تو بہرحال دکھائی نہیں دیتے کہ رہائی تو بہت دور کی بات ہے، ان کی ملاقاتوں پر پابندی بھی ابھی تک برقرار ہے اور ان کو اپنی منشا کے مطابق علاج معالجے کی سہولت بھی میسر نہیں۔ حیرت تو یہ ہے کہ گلگت میں سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ بھی شکست سے دوچار ہوئی ہیں اور عوام نے دھاندلی کے ثبوت بھی چیئرمین کو فراہم کئے مگر چیئرمین صم بکم کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں اور جو نتائج الیکشن کمیشن نے جاری کئے ہیں، ان کو تسلیم کر لیا ہی البتہ اتنا ضرور ہو گا کہ امیدوار خود ان نتائج کے خلاف الیکشن کمیشن میں جائیں، جہاں سے انصاف ملنے کی امید کتنی ہو سکتی ہے، سب جانتے ہیں کہ اگر انصاف ہی کرنا ہوتا تو انتخابات ہی منصفانہ کروا دئیے جاتے۔ بدقسمتی سے پاکستان ہو یا پاکستان کے زیر انتظام علاقے، انتخابات پر اب کسی کو کوئی اعتبار نہیں رہا کہ یہاں جمہوریت کے نام پر جو کھلواڑ کیا جاتا ہے، ساری دنیا کو علم ہے اور جو غیر سیاسی قوتیں، سیاسی کھیل کھیلتی ہیں، ان کے نزدیک جمہوریت کی کوئی اہمیت و حیثیت نہیں، انہیں صرف وہ چہرے چاہئیں جو ان کے مفادات و مقاصد کے لئے بغیر چوں و چرا کئے بروئے کار آئیں، البتہ انہیں اقتدار میں لانے کے لئے، انتخابات کا کھیل ضرور کھیلاجاتا ہے لیکن نتائج انتخابی عمل سے بھی پہلے تیار ہوتے ہیں۔ انتخابات میں عوامی خواہشات یا عوامی نمائندہ کون ہے، عوام نے کس کو ووٹ دیا ہے، یا کون حقیقتا عوامی نمائندگی کا حق رکھتا ہے حلقہ کے عوام کس کو حلقے کے لئے بہتر تصور کرتے ہیں، کس کا نظریہ عوامی امنگوں کے زیادہ قریب ہے، کون عوام کے دلوں میں بستا ہے، اس سے کھیل، کھیلنے والوں کو کوئی دلچسپی اور غرض نہیں، بس انتخابی عمل کا دکھاوا ہے اور نتائج فارم 45پر نہیں بلکہ فارم 47کے ذریعہ ان امیدواروں کو ملتے ہیں، جن کو پہلے ہی منتخب کر لیا گیا ہوتا ہے۔
ایسا ہی مظاہرہ اس مرتبہ بھی گلگت بلتستان میں سامنے آیا ہے کہ ایک طرف تحریک انصاف کے کسی رہنما کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے لئے این او سی نہیں دیا گیا جبکہ ان کے حریف امیدواروں کے لئے دوسری سیاسی جماعتوں کے نہ صرف قائدین بلکہ دیگر رہنمائوں کو بھی گلگت میں انتخابی مہم چلانے کی بھرپور اجازت تھی۔ دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین کے لئے گلگت میں بھرپور پرٹوکول اور وہ تمام سہولتیں میسر تھی کہ جو انتخابی مہم کے دوران کسی سیاسی رہنما کو میسر ہونی چاہئے جبکہ دوسری طرف، تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ ہوں، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ہوں، موجودہ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی ہوں یا دیگر قائدین ان کے لئے گلگت ’’ نو گو ایریا‘‘ بنا دیا گیا جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کو جانے کی اجازت ملی بھی تو یا انہوں نے خود اس سے فائدہ نہیں اٹھایا یا انہیں اجازت ہی محدود دی گئی۔ بہرحال جو بھی تھا، گلگت کا میدان پاکستان پیپلز پارٹی نے مار لیا اور یوں پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر حکومت کے بعد، گلگت میں بھی حکومت بنانے کا موقع فراہم کر دیا گیا مگر سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ’’ فری لنچ‘‘ ہو گی یا اس کے بدلے پیپلز پارٹی کو بھی جواب میں کچھ دینا ہو گا؟ اس سوال کا جواب انتہائی واضح ہے کہ موجودہ دنیا میں کہیں بھی ’’ فری لنچ‘‘ کا تصور نہیں پایا جاتا اور اس کے جواب میں پیپلز پارٹی کو کیا کچھ دینا ہوگا، اس پر بعد میں بات کرتے ہیں کہ اس سے پہلے کی صورتحال پر بات کر لی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ گلگت میں کل چوبیس نشستیں ہیں اور وکی پیڈیا کے مطابق ان میں سے پیپلز پارٹی 11، مسلم لیگ ن 6،تحریک انصاف 2، ایم ڈبلیو ایم 1، اور چار آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں، لہذا میدان پیپلز پارٹی کے نام رہا ہے لیکن اس کے باوجود کہ پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے، اسے حکومت بنانے کے لئے حلیفوں کی ضرورت ہو گی جبکہ الیکشن کمیشن نے تاحال 6نشستوں کے نتائج کا اعلان بوجوہ نہیں کیا۔
ان حلیفوں میں ایک طریقہ تو یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو ساتھ ملایا جائے اور حکومت بنا لی جائے، جیسے وفاق اور پنجاب میں بنائی گئی ہے یا دوسری صورت یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر حکومت بنائی جائے، پیپلز پارٹی کی حکمت عملی تو یہی ہو گی کہ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر ہی حکومت بنائی جائے تا کہ کسی دوسرے حلیف کو حصہ بقدر جثہ نہ دیا جائے لیکن کیا آزاد امیدوار پیپلز پارٹی کے ساتھ ملیں گے؟ گو کہ اعلان شدہ نتائج کے مطابق بھی پیپلز پارٹی نو نشستوں پر کامیاب ہو چکی ہے اور اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ابھی بھی نہیں اور آزاد امیدواروں کا ساتھ ملنا گو کہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوگی لیکن سوال یہی ہے کہ کیا آزاد امیدوار پیپلز پارٹی کے ساتھ ملیں گے اور اگر ملیں گے تو اپنی منشا و مرضی کے ساتھ ملیں گے یا انہیں پیپلز پارٹی کے ساتھ بٹھایا جائے گا؟ میری ذاتی رائے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومت بنوائی جائیگی تا کہ دونوں سیاسی جماعتوں کو نہ صرف گلگت میں حصہ دیا جا سکے بلکہ وفاق میں ان کی اتحادی حکومت کو بھی چلایا جائے اور وفاقی حکومت سے مزید ایسی قانون سازی کروائی جائے، جس کے متعلق مسلسل افواہیں زیر گردش ہیں کہ وہ سقم جو سابقہ آئینی ترامیم میں رہ گئے ہیں، ان کو کور کیا جائے بلکہ مزید قانون سازی بھی کروائی جائے۔
یہاں معاملات بظاہر پھنسے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ چھ نشستوں کے نتائج کا اعلان تاحال نہ کیا جانا اس امر کا غماز ہے کہ پس پردہ بہرحال مذاکرات جاری ہیں اور اسی وجہ سے ابھی تک قومی بجٹ بھی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جا سکا کہ جب تک اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لے لیا جاتا، مزید پیش رفت نہیں ہو سکتی۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے گئے تھے اور پیپلز پارٹی کے کئی ایک رہنما، عوام کو ریلیف دینے کی باتیں کر رہے تھے، گلگت میں حکومت سازی کے بعد یہ تمام باتیں بھلا دی جائیں گی اور قوی امید ہے کہ ایک مرتبہ پھر انتہائی سخت بجٹ پیش ہو کر منظور ہو گا، جس میں عوام کا خون مزید نچوڑا جائے گا جبکہ پیپلز پارٹی کے عوامی ریلیف کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں ،گلگت بلتستان کی حکومت سازی کی نذر ہو جائیں گے۔ اس کے بعد دوسرا اہم معاملہ شروع ہو گا کہ وہ خامیاں یا وہ اختیارات جو سابقہ آئینی ترامیم میں رہ گئے ہیں، ان کو دور کرنے اور مزید اختیارات حاصل کرنے کے لئے 28ویں آئینی ترمیم کا ڈول ڈالا جائے گا اور صوبوں کی اختیارات، جو زیادہ تر مالی معاملات کے حوالے سے ہیں، واپس وفاق کو دئیے جائیں گے کہ وفاق کا ذریعہ آمدن بحال ہو سکے اور وفاق صرف قرض حاصل کرنے کی مشین نہ بنی رہے۔ علاوہ ازیں!! کسی ایک فرد واحد کی خوشی کے لئے بھی آئین میں ترمیم کا قوی امکان ہے کہ اس موجود ہائبرڈ نظام کے اندر رہتے ہوئے، ’’ فرد واحد‘‘ کا کلی اختیار دکھائی نہیں دیتا کہ بہرحال دکھاوے ہی کی سہی جمہوریت تو ہے اور اسی دکھاوے کی جمہوریت میں ہی پیپلز پارٹی، مول تول کر رہی ہے، بہرحال اگر پیپلز پارٹی نے ’’ کامیابی حاصل‘‘ کی ہے تو اس کے بدلے میں ’’ تعاون‘‘ بھی لازمی ہے، دیکھتے ہیں کہ یہ تعاون کس حد تک ہوتا ہے؟

جواب دیں

Back to top button