ColumnQadir Khan

مشرق وسطیٰ کا نیا اسٹریجک ابہام

مشرق وسطیٰ کا نیا اسٹریجک ابہام
تحریر : قادر خان یوسف زئی
عالمی سیاست کی بساط پر جب بھی طاقت کا کھیل کھیلا جاتا ہے، تو اس کے حقیقی نتائج جنگ کے فوراً بعد نہیں بلکہ اس گرد کے بیٹھنے کے بعد واضح ہوتے ہیں جو بارود اور بیانات سے اڑتی ہے۔ فروری 2026ء میں امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والا عسکری تصادم بظاہر اپریل کی ایک عارضی جنگ بندی کے بعد تھم چکا ہے، لیکن سفارتی اور تزویراتی محاذوں پر ایک نئی اور خاموش جنگ جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکم مئی کو کانگریس کو بھیجا گیا خط، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 7 اپریل کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی فائرنگ نہیں ہوئی اور ’’ دشمنی ختم ہو چکی ہے‘‘، دراصل زمینی حقائق سے زیادہ 1973ء کے وار پاورز ریزولوشن کی ساٹھ روزہ آئینی پابندی سے بچنے کی ایک سیاسی و قانونی تدبیر ہے۔ خطے میں موجود امریکی افواج اور سمندری محاصرے اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ کشمکش ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس نے اپنی شکل تبدیل کر لی ہے اور اب یہ براہِ راست تصادم کے بجائے ایک ’’ غیر علانیہ مفاہمت‘‘ اور ’’ معاشی گھیرائو‘‘ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
اس نئی طرز کی محاذ آرائی کا سب سے نمایاں اور خطرناک مرکز مشرق وسطیٰ کا سمندری علاقہ، بالخصوص آبنائے ہرمز ہے۔ امریکہ نے 13اپریل کو ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی شروع کی، جس کا مقصد ایران کو اس کی تیل کی آمدنی سے محروم کرنا تھا، اور ابتدائی ہفتوں میں ایران کو اس کی مد میں تقریباً 4.8بلین ڈالر کا نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ تاہم، اس کے جواب میں تہران نے روایتی فوجی تصادم کے بجائے ایک غیر متناسب حکمت عملی اپنائی اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا۔ ایران نے ایک متوازی ٹرانزٹ نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت تجارتی جہازوں کو محفوظ گزرگاہ کے لیے مبینہ طور پر 2ملین ڈالر تک کا ٹول ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ امریکی محکمہ خزانہ نے ایسی ادائیگیوں پر ثانوی پابندیوں کا سخت انتباہ جاری کیا ہے، لیکن اس ’’ دوہری ناکہ بندی‘‘ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بے پناہ بحری طاقت کے حامل ممالک کو بھی اہم جغرافیائی راہداریوں پر قابض قوتیں چیلنج کر سکتی ہیں۔
اس سمندری تعطل نے خطے کی لاجسٹکس اور تجارتی حرکیات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ جب ہرمز کی بندش کے باعث انشورنس پریمیم میں ہوشربا اضافہ ہوا، امریکی صدر خود بھی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کئے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے نظر آئے۔ کبھی یورپ و عرب ممالک کو مخاطب کرتے کہ وہ اپنے مفادات کا خود تحفظ کریں، تو کبھی بحری جہازوں کو روکے جانے پر اسے بحری قزاقی جیسے عمل سے تعبیر کیا۔ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ ایران کی جانب سے حالیہ 14نکاتی امن تجویز اسلام آباد ہی کے توسط سے واشنگٹن کو بھیجی گئی ہے، جس میں ہرمز کو کھولنے اور امریکی محاصرے کے خاتمے کو باہم جوڑا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز پر عوامی سطح پر عدم اطمینان کے اظہار کے باوجود دونوں فریق کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں ۔
اس تنازعہ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ اس نے عالمی معیشت کو ایک شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار پر مبنی تجزیوں کے مطابق، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کے تعطل کے نتیجے میں عالمی معیشت پر تقریباً 600ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ترقی پذیر ممالک کے لیے ادائیگوں کے توازن ( بیلنس آف پیمنٹ) کے سنگین مسائل پیدا کر دئیے ہیں۔ اس معاشی اور سیکیورٹی دبائو کے سائے میں، اگرچہ خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں اور پروازیں بحال ہو گئی ہیں، لیکن انہوں نے اپنے دفاعی خدشات کے پیش نظر امریکہ سے 8.6بلین ڈالر کے جدید دفاعی نظام ( جن میں پیٹریاٹ میزائل اور دیگر ٹیکنالوجی شامل ہے) خریدنے کے معاہدے بھی کیے ہیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں عدم تحفظ کا احساس کس قدر گہرا ہو چکا ہے۔
اسی دوران، غزہ کا دیرینہ مسئلہ ایک نئی، مبہم اور تلخ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے 20نکاتی منصوبے کے تحت، غزہ کا انتظام ایک15رکنی غیر سیاسی اور ٹیکنوکریٹک باڈی ’’ نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘‘ کے حوالے کر دیا گیا، جو ایک بین الاقوامی ایگزیکٹو بورڈ کی نگرانی میں کام کر رہی ہے۔ بظاہر اس منصوبے کا مقصد غزہ کی تعمیر نو اور اسے ایک معاشی پراجیکٹ میں تبدیل کرنا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انسانی حقوق کے مبصرین اسے ’’ صرف نام کی جنگ بندی‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس معاہدے کے بعد بھی مسلسل جانی نقصان کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ یہ منصوبہ سیاسی اور ریاستی حل کو نظر انداز کر کے اسے محض ایک انتظامی اور کارپوریٹ طرز کے بندوبست میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔مشرق وسطیٰ کی اس صورتحال کا ایک اور نمایاں اثر یوکرین اور روس کی جنگ پر پڑا ہے۔ غزہ اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں مغرب کے مبینہ دوہرے معیار سے بدظن ہو کر، بیشتر عرب دنیا نے روس کے خلاف پابندیوں کا حصہ بننے سے گریز کیا اور ماسکو کے ساتھ اپنے تجارتی و سفارتی روابط کو مزید مستحکم کیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، ایک جانب یوکرین کو سفارتی سطح پر عرب ممالک کی سرد مہری کا سامنا ہے، تو دوسری جانب وہ خلیجی ممالک کو ایرانی ساختہ ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے تکنیکی معاونت اور مشیر بھی فراہم کر رہا ہے۔ یوکرین کی تعمیر نو کا تخمینہ اب 588بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، لیکن عالمی توجہ مشرق وسطیٰ کی جانب مبذول ہونے کی وجہ سے کیف کے لیے یہ راستہ طویل ہوتا جا رہا ہے۔
اس محاذ آرائی نے عالمی طاقت کے توازن کو نئے سوالات سے دوچار کیا ہے۔ سینٹر فار امریکن پروگریس اور دیگر تجزیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے اپنی بے پناہ فوجی طاقت کا مظاہرہ ضرور کیا، لیکن اس عمل میں ٹوماہاک اور پیٹریاٹ میزائلوں کے قیمتی ذخائر میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوئی جسے پورا کرنے میں برسوں لگیں گے۔ اس کے برعکس، ایران نے شدید فوجی دبائو کے باوجود آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول قائم رکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اسٹریٹجک دبائو برداشت کرنے اور جوابی معاشی وار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تمام زمینی حقائق اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ خطے کا مستقبل فی الحال کسی حتمی امن معاہدے کے بجائے ایک طویل، محتاط اور پیچیدہ اسٹریٹجک تعطل کی جانب گامزن ہے۔

جواب دیں

Back to top button