ColumnRoshan Lal

آزاد جموں، کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کا فنڈا؟

آزاد جموں، کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کا فنڈا؟

روشن لعل

کوئی پیچیدہ بات سمجھ نہ آنے پر کئی لوگ ، لمبی تمہید باندھنے کی بجائے صرف ، ’’ یہ کیا فنڈا ہے‘‘ کہنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔ آزاد کشمیر میں گزشتہ دنوں جو پیچیدہ واقعات رونما ہوئے ،انہیں دیکھ کر ان کی محرک اور اچانک ابھرنے والی، ’’ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی ‘‘ کے لیے بھی کئی لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر اس کا کیا ’’ فنڈا‘‘ ہے۔ یہ سوال کرنے والے اکثر لوگ زیادہ غور و فکر کرنے کی بجائے ، کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق ، مختلف قسم کے زیر گردش خیالات کو مد نظر رکھ کر کسی جواب تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی ، کے متعلق ، مختلف قسم کے زیر گردش خیالات میں سے ایک تو یہ ہے کہ ، اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور اس کے لیڈر بھارتی ایجنٹ ہیں۔ اس سوچ کے برعکس ، دوسرا خیال یہ ہے کہ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے جو کچھ کیا جارہا ہے وہ مکمل طور پر جائز ہے اور جو لوگ اس پلیٹ فارم پر متحرک ہیں وہ ہی کشمیریوں کے اصل نمائندے ہیں۔

جو لوگ، کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارتی منصوبہ قرار دے رہے ہیں ان کی اکثریت کا تعلق اس گروہ سے ہے جس سے وابستہ لوگ پاکستان میں کشمیر سے متعلق یوم یکجہتی ، یوم شہدا اور یوم سیاہ جیسے ایام انتہائی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ کشمیر سے وابستہ دن مناتے ہوئے وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کے ساتھ بھارتی اداروں کے روا رکھے جانے والے سلوک کو تو بلا جھجھک ظلم قرار دیتی ہیں لیکن آج کل کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگوں کے ساتھ یہاں کیے جانے والا تقریباً اسی قسم کا برتائو انہیں جائز لگتا ہے۔ ان کے برعکس کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں کو سراہنے والے وہ لوگ ہیں جنہیں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی نسبت بھارت کا موقف ہمیشہ درست محسوس ہوتا ہے۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر اکثر کشمیر کے حوالے سے پاکستان میں منائے جانے والے دنوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ پلوامہ اور پہلگام میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر ظاہر کیے گئے اپنی موقف کا دفاع کرتے ہوئے بھارتی حکام چاہے میڈیا پرسنز کے سوالوں کا جواب دینے میں جس قدر بھی پس و پیش کا مظاہرہ کریں مگر کشمیر ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں کو جائز سمجھنے والے کئی پاکستانی دیدہ دلیری سے بھارتی موقف درست قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ لوگوں کی سرگرمیوں کو یکسر جائز یا ناجائز سمجھنے والے لوگوں کے ماضی اور حال کے رویوں میں اس قدر تضاد ہے کہ ان کی رائے کو آنکھیں بند کر کے معتبر تصور نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے متعلق کوئی صائب رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ذریعے پیش کی گئے مطالبات اور اس کے احتجاجی انداز کو الگ الگ رکھ کر دیکھا جائے ۔

کشمیر ایکشن کمیٹی کی طرف سے جو مطالبات پیش کیے گئے، ان کے جائز یا ناجائز ہونے پر بات کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ جن مطالبات کی کی منظوری پر اب زور دیا جارہا ہے، انہیں ماضی میں سامنے لانے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی۔ واضح رہے کہ مسئلہ کشمیر ، اقوام متحدہ کے سپر د ہونے کے فوراً بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ بہت جلد کشمیریوں کو حق خود ارادیت استعمال کرتے ہوئے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کا آزادانہ موقع فراہم کیا جائے گا۔ بعد ازاں، یہ ہوا کہ کشمیر کا جتنا بھی حصہ پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام آیا تھا وہاں ان ملکوں کی حکومتوں نے فوری طور پر ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جس سے کشمیریوں کی دلجوئی ہو سکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب یہ نظر آنے لگا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے جوں کا توں رہے گا تو کشمیریوں کی بجائے ان کی سرزمین پاکستان اور بھارت کے لیے زیادہ اہم ہو گئی۔ اس کے بعد بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر کو دیا گیا ا لگ آئین، الگ جھنڈا، الگ قومی ترانہ ، الگ صدر، الگ وزیراعظم اور مزید بہت کچھ واپس لے کر اس کی صوبائی حیثیت ختم کرتے ہوئے، اسے خود مختار اکائی کی بجائے وفاق کے ماتحت علاقہ بنا دیا ۔ پاکستان کے بالادست حلقوں نے آزاد کشمیر کے الگ جھنڈے، قومی ترانے اور وزیراعظم و صدر کے الگ عہدوں کو تو برقرار رکھا لیکن کشمیریوں کی تسلیم شدہ الگ بین الاقوامی شناخت کو بری طرح نظر انداز کر کے ان کے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا سلوک کیا جو سلوک پاکستان کے عام شہریوں اور پسے ہوئے طبقات کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

آزاد کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کی آئینی اکایوں اور ان کے شہریوں سے زیادہ ناروا سلوک کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ وفاق، پاکستان کے جس بھی صوبے کے معدنی، آبی و توانائی وغیرہ کے وسائل استعمال کرتا ہے اس صوبے کو ان وسائل کی رائیلٹی کے نام پر طے شدہ رقم ادا کی جاتی ہے مگر آزاد کشمیر کے وسائل استعمال کرنے پر اسے رائیلٹی کا حقدار نہیں سمجھا جاتا ۔ پاکستان کے دو بڑے ڈیموں میں سے تربیلا کے پی کے اور منگلا آزاد کشمیر میں ہے۔ جس طرح کے پی کے کو تربیلا ڈیم کی رائیلٹی ملتی ہے اس طرح آزاد کشمیر کو منگلا ڈیم کی رائلٹی نہیں دی جاتی۔ آزاد کشمیر کو اس کے وسائل پر رائلٹی دینے کی بجائے گرانٹ دی جاتی ہے۔ پاکستان کی آئینی اکائیوں اور آزاد کشمیر کے درمیان تفریق کی اس طرح کی کچھ دیگر مثالیں بھی ہیں جن کی وجہ سے خاص طور پر وہاں کی مڈل کلاس احساس کمتری کا شکار ہوئی۔ یہی احساس کمتری کشمیر ایکشن کمیٹی کے قیام اور اس کے مطالبات کی وجہ بنا ۔ کشمیر ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن جو مطالبات جائز ہیں وہ بھی بوجوہ کلی طور پر قابل قبول نہیں ہیں۔ اگر کسی کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ کوئی مطالبہ جائز ہونے کے باوجود کیسے قابل قبول نہیں ہو سکتا تو وہ اس بات پر غور کر لے کہ مزدور کی کم از کم تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کرنے کا مطالبہ ہر طرح سے جائز ہے لیکن ملک کی کمزور معاشی حالت کی وجہ سے کسی بھی حکومت کے لیے یہ مطالبہ ماننا ممکن نہیں ہے۔

کشمیر ایکشن کمیٹی کے لیڈروں نے پاکستان کے معاشی مسائل کو بری طرح نظر انداز کر اپنے مطالبات منظور کرانے کے لیے جو راستہ اختیار کیا ، یہ وہی راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے گزشتہ چند برسوں کے دوران مصر سمیت مختلف عرب ممالک، سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش کے نوجوان اور مڈل کلاس نے ناامیدی اور اپنے حوصلے پست کرنے کے علاوہ اور کچھ اور حاصل نہیں کیا۔ کشمیر ایکشن کمیٹی کے لیڈروں نے جہاں تحمل اور بردباری کی بجائے ، جلد بازی کا مظاہرہ کر کے اپنی تنظیم اور عمل کو متنازعہ بنا یا وہاں حکومت نے بھی انہیں دبانے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کر کے اپنے ناعاقبت اندیش ہونے کا ثبوت دیا۔ حکومت کو آئندہ اس طرح ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے آزاد کشمیر کے باسیوں کے مسائل کے مستقل اور تسلی بخش حل کے لیی اقدامات کرنے چاہئیں۔

جواب دیں

Back to top button