Column

پیش کردہ بجٹ : معیشت، مہنگائی اور عوام

پیش کردہ بجٹ : معیشت، مہنگائی اور عوام

غلام مصطفیٰ جمالی

پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026۔27ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب ملکی معیشت کئی طرح کے دبائو کا شکار ہے۔ ایک طرف مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا رہی ہے تو دوسری طرف حکومت کو مالی خسارے، قرضوں کی ادائیگی، آئی ایم ایف کی شرائط اور ترقیاتی منصوبوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرنا پڑ رہی ہے۔ بجٹ محض آمدن و اخراجات کا حساب نہیں ہوتا بلکہ یہ ریاست کی معاشی سمت کا تعین بھی کرتا ہے اور آنے والے سال میں عوام کی زندگی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس بجٹ میں حکومت نے مجموعی طور پر مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اخراجات کو محدود رکھنے اور آمدنی بڑھانے کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت جس ساختی بحران سے گزر رہی ہی اس میں صرف بجٹ کے اعداد و شمار سے بہتری لانا آسان نہیں۔ معاشی ترقی کے لیے صرف شرح نمو کے اہداف کافی نہیں ہوتے بلکہ صنعتی پیداوار، زرعی ترقی، برآمدات اور سرمایہ کاری جیسے بنیادی شعبوں میں بہتری ناگزیر ہوتی ہے۔

پاکستان میں عام آدمی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں آٹا، چینی، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جس نے متوسط اور غریب طبقے کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بجٹ میں اگرچہ حکومت نے کچھ ریلیف دینے کی کوشش کی ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کی رفتار اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ معمولی اضافہ بھی عوامی مشکلات کا مکمل ازالہ نہیں کر سکتا۔ تنخواہ دار طبقہ خاص طور پر شدید دبا میں ہے کیونکہ اس کی آمدنی محدود ہے جبکہ اخراجات ہر ماہ بڑھتے جا رہے ہیں۔

بجٹ میں سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ اب قرضوں کے سود اور اصل رقم کی واپسی میں خرچ ہو جاتا ہے۔ جب آمدنی کا بڑا حصہ اسی مد میں چلا جائے تو ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کم رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال ترقیاتی بجٹ محدود نظر آتا ہے اور بڑے منصوبے اکثر تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال معاشی خود انحصاری کی طرف سفر کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔

دفاعی اخراجات میں اضافہ بھی اس بجٹ کا ایک اہم پہلو ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ خطے میں موجود سکیورٹی چیلنجز اور جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر دفاعی ضروریات کو پورا کرنا ناگزیر ہے۔ تاہم ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب معاشی صورتحال پہلے ہی دبائو کا شکار ہو تو دفاعی اخراجات میں اضافہ دیگر شعبوں خصوصاً تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے لیے وسائل کو مزید محدود کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا توازن ہے جسے ہر حکومت کو انتہائی احتیاط سے برقرار رکھنا پڑتا ہے۔

تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگرچہ بجٹ میں ان شعبوں کے لیے کچھ فنڈز مختص کیے گئے ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں ان شعبوں کو جس سطح کی توجہ درکار ہے وہ ابھی تک پوری نہیں ہو سکی۔ دیہی علاقوں میں اسکولوں کی حالت، اساتذہ کی کمی، ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان اور علاج معالجے کی مہنگائی عام شہری کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب تک ان شعبوں میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، معاشی ترقی کا فائدہ عام آدمی تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکتا۔

زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن یہ شعبہ بھی کئی مسائل کا شکار ہے۔ پانی کی کمی، جدید ٹیکنالوجی کا فقدان، بیج اور کھاد کی مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے کسان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ بجٹ میں زرعی شعبے کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں لیکن کسان طبقے کی توقعات اس سے کہیں زیادہ تھیں۔ جب تک زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوتا اور کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا اس وقت تک دیہی معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کی معاشی ترقی کا انحصار برآمدات میں اضافے پر بھی ہے۔ اگر برآمدات نہیں بڑھتیں تو زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم نہیں ہو سکتے۔ اس وقت ملک کا درآمدی بل برآمدات کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جس سے تجارتی خسارہ پیدا ہوتا ہے۔ بجٹ میں برآمدی شعبے کو سہولیات دینے کی بات کی گئی ہے لیکن اصل مسئلہ توانائی کی مہنگی قیمتیں، صنعتی لاگت اور عالمی منڈیوں میں مسابقت ہے۔ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ مشکل ہے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی لاکھوں افراد ایس ایم ایز سے وابستہ ہیں لیکن ان کے لیے قرضوں تک رسائی، ٹیکس نظام کی پیچیدگیاں اور حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل بڑے مسائل ہیں۔ اگر حکومت واقعی روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتی ہے تو اسے چھوٹے کاروباروں کو آسان قرضے، ٹیکس میں سہولت اور کاروباری ماحول میں آسانی فراہم کرنا ہوگی۔

ٹیکس نظام پاکستان میں ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے۔ ایک طرف حکومت ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ مسئلہ صرف ٹیکس کی شرح نہیں بلکہ اس کا غیر منصفانہ نظام بھی ہے۔ جب چند شعبے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں اور بڑے طبقے ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے ہیں تو معاشی عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ بجٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ٹیکس نظام کو منصفانہ بنایا جائے لیکن اس کے عملی نفاذ میں ہمیشہ مشکلات سامنے آتی ہیں۔

عوامی سطح پر بجٹ کے حوالے سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک مشکل حالات میں بنایا گیا متوازن بجٹ ہے جبکہ عام شہری اسے اپنی زندگی میں کسی بڑی تبدیلی کا ذریعہ نہیں سمجھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک عام آدمی کو بجٹ کے ثمرات براہ راست محسوس نہیں ہوتے تب تک وہ اسے صرف ایک سرکاری دستاویز ہی تصور کرتا ہے۔

پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل نہیں ہوتا۔ ہر حکومت اپنے انداز سے پالیسیاں بناتی ہے جس سے طویل المدتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل ہو اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی معیشت کے لیے ایک مستقل لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بجٹ 2026۔27ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستان کو سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ محدود وسائل، بڑھتے ہوئے اخراجات اور عوامی توقعات کے درمیان توازن قائم کرنا کسی بھی حکومت کے لیے آسان نہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بجٹ صرف اعداد و شمار تک محدود رہے گا یا واقعی عام آدمی کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی لائے گا۔

معیشت کی بہتری صرف بجٹ سے نہیں بلکہ اس کے موثر نفاذ سے ممکن ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں، کرپشن میں کمی آئے، وسائل کا درست استعمال ہو اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے تو پاکستان بھی معاشی استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ورنہ ہر سال بجٹ پیش ہوتا رہے گا اور عوامی مشکلات جوں کی توں برقرار رہیں گی۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بجٹ امید اور حقیقت کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ امید اس بات کی کہ شاید کچھ بہتری آئے اور حقیقت یہ ہے کہ چیلنجز ابھی بھی بہت زیادہ ہیں۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ بجٹ پاکستان کی معیشت کو کس سمت لے جاتا ہے اور عوام کو اس کے حقیقی ثمرات کب تک ملتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button