ColumnImtiaz Aasi

مسلم امہ کا زوال اور اسلام دشمن قوتوں کا غلبہ

مسلم امہ کا زوال اور اسلام دشمن قوتوں کا غلبہ

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

جب تک مسلمان حق تعالیٰ اور اس کے رسول ٔ کے احکامات پر عمل کرتے رہے دنیا پر حکمرانی کی۔ چنانچہ جیسے ہی مسلم امہ نے اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ٔ کے احکامات سے پہلو تہی کی اغیار کے غلام بن گئے۔ اسپین پر مسلمانوں نے کئی سو برس تک حکمرانی کی، کیسے کیسے سپہ سالار ہو گزرے۔ سیدنا خالد بن ولیدؓ، محمد بن قاسم ، اور خلفاء راشدین نے کیسی کیسی فتوحات کیں، جو رہتی دنیا تک مسلمان سپہ سالاروں کی یاد دلاتی رہیں گی۔ سوال ہے دنیا میں تعداد میں سب سے زیادہ اور ستاون ملکوں کے حکمران اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف یکجا ہو جائیں تو کیا مسلمانوں کو شکست دی جا سکتی ہے؟ درحقیقت مسلمان حکمرانوں کو عیش و عشرت کی زندگی سے فراغت نہیں وہ پر تعیش زندگی سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ ستاون ملکوں میں ایران تن تنہا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہے۔ مسلمان ملکوں نے امریکہ کو اڈے فراہم کر رکھے ہیں جن کا مقصد کہیں ان کی حکمرانی کو ٹھیس نہ پہنچنے پائے۔ یہ بات باعث شرم ہے مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں سے میزائل ایران پر داغے جا رہے ہیں ایران جوابی کارروائی کرے تو چیخ و پکار کی جاتی ہے۔ سوال ہے چالیس روزہ امریکہ ایران جنگ کے دوران کتنے مسلمان ملکوں نے اپنے ایرانی بھائیوں کی مدد کی۔ کئی ہزار ایرانی بے گھر ہوچکے ہیں چالیس سال سے زیادہ امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے باوجود امریکہ اسرائیل اسے شکست نہیں دے سکا جو ایرانی عوام کے جذبہ ایمانی کا بین ثبوت ہے۔ امریکہ اسرائیل کا خیال تھا ایران چند روز میں ہتھیار ڈال دے گا اور ایران میں رجیم چینج ہو جائے گا۔ گو پاکستان کی حکومت دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے لئے تاریخی کردار ادا کر رہی ہے تاہم اس کے باوجود امریکی صدر نے مذاکرات کرانے والوں پر شکوک و شبہات ظاہر کئے ہیں۔ امریکہ سے کوئی مسلمان حکمران یہ کہنے کی جرات نہیں کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان میں واقع ہے اور دونوں ملکوں کی ملکیت ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا۔ بھلا سوچنے کی بات ہے اسرائیل اور بھارت جوہری ہتھیار بنا سکتے ہیں تو ایران کیوں نہیں بنا سکتا؟ دراصل اسرائیل خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کا خواہاں ہے ایران کو یہ بات کیسے قبول ہو سکتی ہے۔ جنگ بندی مستقل طور پر ابھی ہوئی نہیں کہ اسرائیل کے ایماء پر ابراہم اکارڈ کا شوشہ چھوڑا گیا۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے سب سے پہلے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا بیان آیا وہ کسی صورت ابراہم معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ کاش کوئی مسلم حکمران امریکی صدر سے کہے اسرائیل اور بھارت جوہری ہتھیار بنا سکتے ہیں تو ایران کیوں نہیں بنا سکتا۔ ایرانی عوام نے پاسداران انقلاب سے اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر جنگ میں جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا عالمی دنیا کے ملکوں کے لئے نئی مثال قائم کر دی۔ امریکہ کو امید تھی ایران کے رہبر اعلیٰ کی شہادت سے ایرانی قیادت اور عوام کی کمر ٹوٹ جائے گی مگر وہ پہلے سے زیادہ طاقتور بن گئے۔ یہ بات امریکہ جو دنیا کی سپر پاور ہونے کا دعویٰ دار تھا ایران کے ہاتھوں شکست سے عالمی دنیا کی نظروں میں گر چکا ہے۔ امریکی صدر کی نیت ٹھیک ہوتی دونوں ملکوں کے درمیان مستقل جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا ہوتا لیکن ایران کو یہ بات کسی صورت قبول نہیں وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ امریکہ ایران جنگ کے بعد اب مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں پر منحصر ہے وہ امریکی اڈوں پر قائم رکھتے ہیں یا امریکہ سے معذرت کرتے ہیں۔ عجیب تماشہ دیکھا امریکی اڈوں کے اخراجات وہی ملک برداشت کر رہے ہیں جن ملکوں میں قائم کئے گئے ہیں۔ مسلمانوں یہ وقت ہے تمہارا یہود و ہنود کے سامنے کھڑے ہونے کا نہ کہ ان کے سامنے جھکنے کا، ورنہ روز قیامت آقائے دو جہاں کو کیا منہ دکھائو گئے؟ اسرائیلی بربریت دیکھیں غزہ کے مسلمانوں پر کیا کیا ستم نہیں ڈھائے مگر مسلمان حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے۔ امت مسلمہ کی سب سے بڑی ناکامی کی یہی وجہ ہے وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے فرمودات کو بھلا چکے ہیں اور دنیا کی عیاشیوں میں مگن ہیں۔ ہم قرآن پاک اور نماز پڑھتے ہیں لیکن قرآن احکامات پر عمل سے راہ فرار اختیار کئے ہوئے ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے یہود وہنود کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ اس کے باوجود ہم انہی کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا دین امن کا داعی ہے، ایک موقع پر رسالت مآبؐ نے فرمایا تھا حرا سے اکیلی خاتون مکہ مکرمہ کے لئے سفر کرے گی راستے میں اسے کوئی خوف نہیں ہوگا، لہذا ہمارا دین امن کا درس دیتا ہے نہ کہ قتل و غارت کی تعلیمات دیتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں اگر مسلمان حکمران امریکہ کی گود میں بیٹھنے سے انکار کر دیں تو ایران کی مثال سب کے سامنے ہے، جس نے امریکہ اسرائیل کے سامنے جھکنے سے انکار کرکے دنیا پر مثال قائم کر دی۔ ایران جو کبھی اخلاقی برائیوں کو گہوارہ تھا، حضرت آیت اللہ خمینی کے انقلاب کے بعد ایرانی معاشرے میں پائی جانے والی بے راہ روی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو چکا ہے۔ آج ایرانی جو دنیا کی سپر پاور کے سامنے سینہ سپر ہیں محض اسلامی تعلیمات کا نتیجہ ہے وہ کسی بڑی سے بڑی طاقت کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہیں۔ چار عشروں سے زیادہ اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایرانی عوام ایمانی طاقت سے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا بیان وہ امریکہ سے لڑنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں اسلامی ملکوں کے لئے بڑا سبق ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے مملکت خداداد میں رجیم چینج امریکہ کی خواہش پر ہوتا ہے۔ ہمارا ایٹمی طاقت ہونے کا کیا فائدہ جب ہم اغیار کے ہاتھوں یرغمال بنے بیٹھے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی سے ہزار اختلاف ہو سکتا ہے لیکن عمران خان کے غلامی سے نجات دلانے کے نعرے نے ملک کے عوام کو اس کا گرویدہ بنا دیا ہے۔ آج ہمیں اغیار کی غلامی سے نکلنے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حکمران اپنی شہ خرچیاں ختم کرکے آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کریں تو ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔

جواب دیں

Back to top button