ColumnImtiaz Ahmad Shad

سرکاری ہسپتال، عوامی تکلیف اور حکومتی دعوے 

سرکاری ہسپتال، عوامی تکلیف اور حکومتی دعوے

تحریر : امتیاز احمد شاد

آج مجھے لاہور کے ایک بڑے سرکاری ڈینٹل ہسپتال کا وزٹ کرنے کا موقع ملا، لیکن یہ تجربہ علاج سے زیادہ ایک تلخ حقیقت کا آئینہ ثابت ہوا۔ میں شدید دانت درد کی حالت میں ہسپتال پہنچا تھا۔ درد اس قدر شدید تھا کہ نہ کھانا کھایا جا رہا تھا اور نہ ہی سکون سے بیٹھا جا رہا تھا۔ مجھے امید تھی کہ ایک بڑے سرکاری ادارے میں فوری طبی امداد میسر آئے گی اور میری تکلیف کا ازالہ کیا جائے گا۔ مگر جو کچھ وہاں دیکھنے اور برداشت کرنے کو ملا، وہ نہ صرف مایوس کن تھا بلکہ ہمارے صحت کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی تھا۔ ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد مجھے مختلف مراحل سے گزارا گیا۔ رجسٹریشن، ابتدائی معائنہ، فائل کی جانچ اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک مسلسل منتقلی کا عمل تقریباً دو گھنٹے جاری رہا۔ شدید درد میں مبتلا ایک مریض کے لیے یہ دو گھنٹے کسی عذاب سے کم نہیں تھے۔ ہر کمرے میں یہی امید بندھتی کہ شاید اب علاج شروع ہو جائے گا، لیکن آخرکار جب میں آخری کمرے میں پہنچا تو وہاں موجود عملے نے نہایت بے نیازی سے کہا کہ آپ ایک ماہ بعد آئیں، تب آپ کا علاج کیا جائے گا۔ یہ سن کر میرے لیے یقین کرنا مشکل تھا۔ ایک طرف شدید درد، دوسری طرف ایک ماہ بعد کی تاریخ۔ میں نے مودبانہ انداز میں اپنی تکلیف بیان کی اور کہا کہ درد ناقابل برداشت ہے، میں ایک ماہ تک اس حالت میں کیسے انتظار کر سکتا ہوں؟ لیکن جو جواب ملا، اس نے میرے درد سے زیادہ میرے دل کو زخمی کیا۔ جواب تھا، یہ سرکاری ہسپتال ہے، یہاں ایسے ہی ہوتا ہے۔

یہ چند الفاظ محض ایک جواب نہیں تھے بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا اعتراف تھے۔ گویا مریض کی تکلیف، اس کا وقت، اس کی عزت اور اس کی امیدیں سب غیر اہم ہیں۔ اگر سرکاری ہسپتال میں علاج کے لیے آنے والے شہری کو یہی سننا ہو کہ ’’ یہاں ایسے ہی ہوتا ہے‘‘ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام کس دروازے پر جائیں؟ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ افسوسناک ہے کیونکہ پنجاب حکومت اور بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔ عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، مریضوں کو بہترین علاج میسر ہے، ڈاکٹر اور عملہ عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، اور صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ اشتہارات، پریس کانفرنسیں اور سوشل میڈیا مہمات ان دعوئوں سے بھری پڑی ہیں۔

لیکن زمینی حقیقت ان دعوں سے یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اگر ایک شدید درد میں مبتلا مریض کو دو گھنٹے انتظار کروانے کے بعد ایک ماہ بعد آنے کا کہا جائے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ان تمام دعوں کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ کیا صحت کے شعبے میں بہتری صرف کاغذوں، رپورٹوں اور اشتہارات تک محدود ہے؟ اگر عوام کو بنیادی علاج بھی بروقت میسر نہیں تو پھر ترقی کے یہ دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔صحت کسی بھی معاشرے کا بنیادی حق ہے، کوئی رعایتیا احسان نہیں۔ ایک مہذب ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرے۔ خاص طور پر سرکاری ہسپتال ان لوگوں کی آخری امید ہوتے ہیں جو مہنگے نجی ہسپتالوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ جب یہی ادارے عوام کی امیدوں کو توڑنے لگیں تو معاشرے میں مایوسی، بے اعتمادی اور محرومی بڑھتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف ایک مریضیا ایک ہسپتال تک محدود نہیں۔ ملک بھر کے کئی سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریض اسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ کہیں ڈاکٹروں کی کمی ہے، کہیں مشینیں خراب ہیں، کہیں ادویات دستیاب نہیں اور کہیں علاج کے لیے مہینوں کی تاریخیں دی جا رہی ہیں۔ ان مسائل کا سب سے بڑا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ محض دعووں اور تشہیری مہمات پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے فوری شکایت مراکز قائم کیے جائیں، عملے کی جوابدہییقینی بنائی جائے، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی تعداد بڑھائی جائے اور ایمرجنسی نوعیت کے کیسز کے لییفوری علاج کا مثر نظام بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام کو اچانک دورے کر کے زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ عوام کن مشکلات سے گزر رہے ہیں۔

آج کا میرا تجربہ ایک فرد کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں شہریوں کی مشترکہ داستان ہے۔ وہ شہری جو ٹیکس دیتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں اور ریاست سے صرف اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر ایک مریض درد سے کراہ رہا ہو اور اسے جواب ملے کہ "یہ سرکاری ہسپتال ہے، یہاں ایسے ہی ہوتا ہے”، تو یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ پورے نظام کی بے حسی کی علامت ہے۔امید ہے کہ متعلقہ حکام اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے اور ایسے اقدامات کریں گے جن سے عوام کو واقعی ریلیف ملے۔ کیونکہ ایک ریاست کی اصل کامیابی اس کے اشتہارات یا دعوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ اس کا عام شہری کس حد تک عزت، سہولت اور بروقت انصاف حاصل کر رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button